کرونا وائرس کی دہشت | سنڈے مارکیٹ دوسرے ہفتے بھی بند

سرینگر// مہلک کرئونا وائرس سے بچائو کیلئے احتیاطی طور پر دوسری اتوار کو بھی سرینگر میں سجنے والا سنڈے مارکیٹ بند رہا،جس کے نتیجے میں اس مصروف ترین بازار میں الو بولتے ہوئے نظر آئے۔عالمی سطح پر مہلک کرونا وائرس کو عالمی وبائو اور قومی سطح پر آفت کا درجہ دینے بیچ سرینگر میں اتوار کوٹی آر سی سے امیرا کدل   تک لگنے والا سنڈے مارکیٹ بالکل بند رہا،جس کے نتیجے میں اس مصروف ترین بازار میںسناٹا چھایا رہا ۔سرینگر مونسپل کارپوریشن کے میئر جنید متو نے کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر7مارچ کو اس بازار کو بند کرنے کا مشورہ دیا تھا،جس کے بعد8مارچ کو سنڈے مارکیٹ بند رہااور15مارچ کو مسلسل دوسری بار اس بازارکو بند رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اتوار کو لگنے والے اس مارکیٹ میں حد درجہ بھیڑ جمع ہوتی ہے، مناسب نہیں ہے کہ ان حالات میں جبکہ کورونا وائرس کے پھیلاوکے خدشات بڑ رہے ہیں تو یہاں بھیڑ  اکٹھی  ہو جائے۔ ٹی آر سی،  پولو گرائونڈ ،ریگل چوک، آبی گزر،لالچوک،امیراکدل،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور بٹہ مالو تک اتوار کو یہ بازار سجتا تھا،جس میں روزہ مرہ کی اشیاء کے علاوہ ملبوسات اور دیگر سازو سامان کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔سول لائنز میںاتوار کو اس بازار میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی اور ٹریفک بھی جام ہوتا تاہم کل سنڈے مارکیٹ نہ سجنے سے اس بازار میں سناٹا نظر آیااور سڑکوں پر گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی محدود تھی۔اتوار کے مد نظر جہاں شہر میں دکانیں اور سرکاری دفاتر بند تھے وہیں سنڈے مارکیٹ کے بند ہونے سے بازار سنسان نظر آرہے تھے ۔ دوسری اتوار کو بھی مارکیٹ بند رہنے کے باعث تاجروں او ر چھاپڑی فروشوں کو کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا جبکہ لوگ بھی مایوس ہی واپس لوٹنے پر مجبور رہے ۔ اس دوران ہری سنگھ ہائی سٹریٹ اور بٹہ مالو میں جزوی طور سنڈے مارکیٹ میں لوگ دیکھے گئے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کا کافی رش رہتاہے،اس لئے احتیاتی طور پر اس بازار کو بند رکھنا حکام کا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہر اتوار کو شہر سرینگر کے سول لائنزعلاقہ میں سنڈے مارکیٹ سجاتا تھا اور دن بھر لاکھوں روپے کی خریدو فروخت ہوتی تھی ۔