کرونائی ہوائیں تیز تر ہیں ،ہر شخص لرزہ بر اندام ہے۔ایک اَن دیکھی مخلوق نے اپنے آپ کو ناقابل ِ تسخیر سمجھنے والے انسان کے اوسان خطا کرکے رکھ دیئے ہیں۔کسی کو کچھ سوجھتا ہی نہیں کہ کرے تو کیا کرے۔ ا س وبا ء نے بال و پَر کیا پھیلادیئے تو ساری دنیا نے اس کا علاج کْلی لاک ڈاون میں مضمر سمجھا،پھر پسماندہ و غریب ممالک کی بات ہی کیا ،اپنی معیشت پر اِترانے والوں اور مادی و دفاعی صلاحیت پر غرور کرنے والوں کا غرور پانی پانی ہوا۔کہا: لاک ڈاون کب تک رکھا جاسکتا ہے،معیشت سے آنکھیں پھیر لیں تو انسان کی سانس کا رکنا لامحالہ امر بنے گا۔فیصلہ ہوا کہ اب اس وائرس کے پہلو بہ پہلو چلنا ہوگا ،احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ۔اِدھر یہ اعلانات ہوئے اْدھر کرونا متاثرین کی تعدا میں ہوش رُبا اضافہ ہوا۔ فہم و دانش ،عقل و خرد ،قوت و طاقت سب بے بس ،اپنی عاجزی اور لاچاری کا بر ملا اعلان کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔بات ایسی بھی نہیں کہ کوئی جگہ جائے امان ہو ،جہاں غریب و مفلس تو نہیں لیکن اشرافیہ ،صاحبان ِاقتدار ،دولت مند ،شاہاں و سلاطین جاکر سکون پاسکیں۔مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں صورت حال یکسان ہے اور منظر بالکل قیامت کا نظر آرہا ہے۔قرآن حکیم کی سورہ قیامہ میںاس یوم الفصل کی خیز یوں کا ذکر یوں کیا گیا ہے کہ پتھر بھی پانی ہوجائیں،انسان کے بارے میں فرمایا گیا کہ’’یہ پوچھ رہا ہے کہ قیامت کب آئے گی،جواب میں کہا گیا کہ جس وقت کہ نگاہ پتھر ا جائے گی جب چاند بے نور ہوجائے گا اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیںگے‘‘۔اس کے بعد فرمان ہے کہ اس پریشان کن صورت حال میں اس انسان کی بس ایک صدا ہوگی کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے تو جواب ملے گا ،کوئی پناہ گاہ نہیں ہے آج۔آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی تیری پناہ گاہ ہے۔غور فرمایئے اور شعور و تحت الشعور سے سوال کیجئے کہ کیا ایسی ہی صورت حال کاآج ساری دنیا میں اس انسان کو سامنا نہیں۔جس نے کہیں اس کرۂ ارض کو اپنی طاقت کے بل پر انسانی لہو سے تر بتر کردیا ،کہیں فحاشیت و عریانیت کو تہذیب و کلچر کا نام دے کر اللہ کی کائنات میں فساد قائم کردیا،کہیں مجبورروں و مقہوروں سے اُن کے نوالے تک چھین لئے،حقوق انسانی پر ڈاکہ ڈال کر عدل و انصاف کی دھجیاں اُڑا دیں۔وہ اپنی طاقت و سطوت اور دولت و حکومت کے پندار میں اتنا مست ہوا کہ کہیں اپنے خالق و مالک کا بھی انکار کر بیٹھا۔اس کا یہ وطیرہ کچھ نیا نہیں بلکہ پرانا ہے لیکن وقت وقت پر قدرتی آفات و بلیات کے نزول اور زمینی حادثات کے ذریعہ انسانی مخلوق کو صحیح سمت میں رہنے اور آقا کو پہچان کر بس اُسی کا ہونے کا پیغام دیتی ہے۔جب ان شدائد سے ہا ہا کار مچ جاتی ہے تو ہر شخص اْس کے دَر کا بھکاری بن جاتا ہے لیکن جب بَلا ٹل جاتی ہے تو پھر شَر و فتن کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔انسانی تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہوئے پچھلی خود سَر اقوام اور اُن پر آئی تباہی کا ذکر نہیں کریں گے ،بس 18اپریل 1906 کی بات ہوجب سا ن فرانسسکو میںایک خوفناک زلزلہ آیا،ڈھائی لاکھ لوگ اپنے آشیانوں سے محروم ہوئے اور تین ہزار انسانی نفوس لقمہ اجل بن گئے ،عام امریکیوں نے بر ملا کہا کہ سان فرانسسکو میں قائم ہم جنس پرستی کے کلب ’’بلیک کیٹ بار ‘‘پر اللہ کی مار ہے۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس شہر کے باسیوں نے پھر اس شر و فساد کی آماجگا ہ کو کھول دیا بلکہ اس قبیل کے لوگوں نے صاف اور برملا اعلان کیا کہ ہم ان قدرتی آفات و بلیات کو اپنے طریقۂ زندگی میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔یعنی انہوں نے فطرت سے لڑنے کا عہد کیا اور فطرت سے جس نے بھی جنگ کی ٹھانی مات کھائی۔غرض یہی امریکہ جہاں آج کرونائی ہوائوں نے بزعم خویش دنیا کی اس سب سے بڑی طاقت کو ہلا کے رکھ دیا ہے ،جہاں شرم و حیا کی قبا تار تار ہے ،اخلاقیات کا سرعام جنازہ نکل رہا ہے،ساری انسانیت کو اپنا غلام بنانے کے منصوبے طے پارہے ہیں۔اب اخلاق باختگی یہاںتک آن پہنچی کہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے بلند ہونے لگے اور اس نعرے کو خوب پزیرائی بھی مل رہی ہے۔جسم تو جسم ،یہ انسانی مخلوق آج خود اپنی ناک ،آنکھ اور کان کی جانب بھی ہاتھ لے جانے سے کیوں کترارہی ہے،کیوں اس نے چہرے پر ماسک چڑھاکر اپنی شناخت تک کو مبہم بناکے رکھ دیا ہے،کیوں اپنوں پرایوں سے فاصلے بڑھا رہی ہے۔یہ بس فطرت کی ہلکی سی مار کے نتائج ہی ہیں کہ دنیا کا ہر شہر آج اْجڑ ا ہوا نظر آرہا ہے۔فرانس ،ٹوکیو ،اٹلی ،لندن اور ہر سْو سوگ کی کیفیت ہے۔آج نیو یارک کا مشہور زمانہ ٹائمز اسکوائر دیکھ کر دَم بخود ہے،اُس کی سما عتوں سے اْس امریکی نوجوان کی چیخیں ٹکرا رہی ہیں جو ببانگ دہل اور بہ آواز بلند اُس کے سامنے چَلائے جارہا تھا ’’نیویارک! تیرے گناہ اللہ کے قہر کو دعوت دے چکے ہیں ،اللہ تجھ سے بہت ناراض ہے ،شہر نیویارک کیا تو جانتا ہے کہ تمہارے بچے ضائع کردیئے جاتے ہیں ،ہماری انا اور ہمارے تکبر نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھ دیا ہے۔نیو یارک! تجھے آج خدائی آواز سنائی دے رہی ہے؟خدا کہہ رہا ہے کہ عاجزی اختیار کرو تاکہ تمہیں عزت ملے،تم ہاتھوں سے گناہ کرتے ہو ،منہ سے جھوٹ بولتے ہو،تمہاری زبانیں ہر ظلم کی تعریفیں کرتی ہیں۔امریکہ ،سنو!ہم سب سے بْری قوم ہیں ،ہمیں توبہ کرنی چاہئے،نیویارک!یہ توبہ کرنے کا وقت ہے ،رجوع الی اللہ کا وقت ہے ،توبہ اور عاجزی سے ہی عزت مل سکتی ہے،سرکشی ،تکبر ،مال کی محبت اور مادہ پرستی سے توبہ کرو۔میڈیا کے ذریعہ نسل پرستی کی تعلیم دی جاتی ہے،آج طے کرو کس کی عبادت کرنی ہے ،تم کمپنیوں ،بزنس اور حکومت کی عبادت کررہے ہو ،حقیقی خد ا کی عبادت کرو گے جو بندے کی پکار پر لبیک کہتا ہے۔انتظار کا وقت باقی نہیں رہا اب نیویارک! توبہ کرو کیونکہ ہر چیز کا اختتام ہونا ہے۔‘‘اس نو جوان کی ان دل سوز اور حق نواز چیخوں کی یہ ویڈیو وائرل ہوئی اور ساری دنیا بہ صمیم قلب اس کی تا ئید کی۔
بہر حال بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ مجبور انسان کی کرونا وائرس نے آج یہ حالت بنا دی ہے کہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ ہے۔وبا تو وبا ہے کہا ںکس پر حملہ زن ہو،کچھ کہا نہیں جاسکتا۔لاک ڈاون تو کئی ممالک اور علاقوںمیں کھل چکا ،حکمرانوں نے معیشت کے استحکام کے لئے اسے ضروری قرار دیا ،کہا گیا کہ بہر حال روزی روٹی کا حصول ضروری ہے۔تجارتی مراکز ،مالز اور دکانوں کا کھلنا معیشت کی استواری کے لئے لازم، بات سو فیصد درست ، لیکن حفاظتی اور احتیاطی تدابیر سے پہلوتی اللہ بچائے قہر بپا کرسکتی ہے۔اسپین ،امریکہ ،چین اور ایران کی مثالیں سامنے ہیں۔خود بھارت میں بھی متاثرین کے آنکڑے ہوش اڑا رہے ہیں ،ایسے میں لاک ڈاون کا کھلنا کسی کو اس دھوکہ میں نہ ڈالے کہ بس اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ڈرامے ،سازشی تھیوریاں اور نہ جانے کیا کیا کیا جارہا ہے۔ان باتوں میں دَم ہے یا نہیں فی الوقت موضوع ِ بحث نہیںلیکن کھلی آنکھوں سے دیکھا یہی جارہا ہے کہ بے شمار لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ڈاکٹر ،نرسیں ،ہیلتھ ورکر جو جان جو کھم میںڈال کر انسانیت کی خد مت انجام دے رہے ہیں ،اُن میں سے کتنے اس وبا سے خود متاثر ہوئے اور اُن کی رگِ حیات کٹ گئی ،کتنے قرنطینہ مراکز میں جاں بچانے کی فکر میں ہیں ،یہ حقائق بھی تو چشم کشا ہیں۔اُدھر عبادت گاہوں کے دوبارہ کھلنے کی بھی شنید ہے ، گو اپنے یہاں اس قسم کا کوئی حساس ترین اعلان ہو نا با قی یے اور شا ید مستقبل قریب میں ہو لیکن اگر یہاں بھی محتاط نہ رہا جائے معاملہ سنگین رُخ اختیار کرسکتا ہے۔اس لئے ان سبھی احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لانا ہوگاجو ماہرین اور ذمہ داران نے اس تعلق سے بیان کئے ہیں۔ماسک کا استعمال ان مراکز میں ضروری ہو اور فاصلوں کا بھی دوران ِ نماز اہتمام کرنا ہوگا اور یہی عالمی سطح کے علماء کے فتاویٰ بھی ہیںاس پر بحث و تمحیص نہ ہو ۔
دنیا اس وقت قیامت خیز مناظر کا مشاہدہ کررہی ہے ،کرنائی ہوائوں نے سب کچھ تل پٹ کرکے رکھ دیا ہے ،طاقت و قوت کا غرور ہو ا ہوچکا ہے اور عقل و دانش حیرت زدہ ہے ۔ان حالات میں انسان کی آج وہی کیفیت ہے جو عرصہ قیامت میںہوگی اور جس کا نقشہ قرآن نے سورہ قیامتہ میں یوں کھینچا ہے۔’’پوچھتا ہے (انسان)کہ قیامت کا دن کب آئے گا ،پس جب کہ نگاہ پتھرا جائے گی اور چاند بے نور ہوجائے گا اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ،اس دن انسان کہے گا کہٓج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ،نہیں نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ،آج تو تیرے پرور دگار کی طرف ہی قرار گاہ ہے۔‘‘یہ تو قیامت کی منظر کشی ہے اور آج بھی انسان کیا کسی محفوظ مقام کی تلاش میں نہیں ہے ۔۔۔ہے کوئی محفوظ مقام اور بھاگنے کی جگہ،ایک سوال ہے؟
رابطہ : 9419080306