کرناہ کے گائوں کا انحصارپاکستانی زیر انتظام کشمیر کے پانی پر

 سرینگر // حدمتارکہ پر واقع گائوں دھنی سعدپورہ کے کسانوں کو کھیتوں کی سنچائی کیلئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے پانی لینے میںایک مرتبہ پھر مشکلات پیش آرہی ہیں اور سینکڑوں کنال اراضی بنجر میں تبدیل ہو نے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے ۔مقامی زمینداروں نے ریاستی ومرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے حوالے سے فلیگ میٹنگ کرائی جائے تاکہ یہاں کی آبادی بھی کھیتوںمیں دھان کی فصل اُگا سکے ۔معلوم رہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں کی آبادی آج کے اس دور میں بھی پانی حاصل کرنے کیلئے پاکستان پر منحصر ہے اور پاکستان کی جانب سے جب تک نہ کھیتوں کی سینچائی کیلئے پانی دیا جائے تب تک یہاں کے کھیت سوکھے رہتے ہیں اور آج بھی ایسی ہی  صورتحال حال ہے اور لائن آف کنڑول پر واقع سعدپورہ کی آبادی سینچائی کیلئے دستیاب پانی سے محروم ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 1947سے قبل دھنی سعدپورہ اور فاروڈ سعدپورہ گائوں ایک تھے لیکن تقسیم کے بعد اس گائوں کے دو حصے ہو گئے۔ ایک حصہ سرحد کے اُس پار لیپا علاقے میں ہے اور ایک حصہ یہاں کرناہ میں آگیا۔ اس تقسیم کے بعد یہاں کے لوگوں کو پانی کے حوالے سے کافی دقتوں کا سامنا رہا ہے ۔ محمد یاسین نے بتایا کہ اس سے قبل فصلوں کی بوائی کے دوران ہروقت فوج کی جانب سے ایک فلیگ میٹنگ اُس پار کی افواج کے ساتھ ہوتی تھی جس کے بعد یہاں سے گائوں کا نمبر دار، سرپنچ ، چوکیدار اور دیگر معزز شہریوں کا ایک وفداور وہاں سے بھی کچھ لوگوں کا ایک وفد سرحد کے آر پار ایک دوسرے سے ملاقی ہوتا تھا اور پھر پانی کے حوالے سے بات ہوتی تھی۔ اس دوران اگر وہاں کے لوگوں کو سعدپورہ آرہی کوہل کو ٹھیک کرنے کیلئے پیسے کی ضرورت ہوتی تھی وہ اُس کی مانگ کرتے تھے اور پھر انہیں یہ پیسہ گائوں والے چندہ جمع کر کے اُس پار ایک رومال میں بھاند کر پھینکتے تھے اور وہاں کے لوگ پھر اس کوہل کی مرمت کر کے پانی کی سپلائی کو بحال کرتے تھے۔پانی سے یہاںکے کھیتوں میں دھان کی فضل اگائی جاتی تھی لیکن اس بار ابھی تک کوئی فلیگ میٹنگ نہیں ہوئی اور سعدپورہ کے لوگ کھیتوںکی سینچائی سے محروم ہیں ۔مقامی لوگوں نے دونوں حکومتوں اور آر پار فوج کے افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔