کتب بینی کا شوق کہاں گیا؟

یہ مضمون میری ذہن میں کئی سالوں سے گردش کر رہا تھا۔ مگر مصروفیات کی وجہ سے میں اس کو لکھنے سے قاصر تھا۔ اس سے بھی زیادہ ضروری وجہ یہ تھی کہ جب بھی میں مضمون لکھوں اس کا کوئی فائدہ ہوں۔ بہرحال جب عالمی وبا نے ہمیں چاروں طرف سے گھیرا اور ایک انسان گھر کی چار دیواروں میں بند ہوگیا، اس موقع پر انٹرنیٹ یا تو کتابوں نے لوگوں کو اس دشوار وقت سے نکلنے کا سامان مہیا کیا۔ مگر انٹرنیٹ کے آنے سے جتنے فوائد سے مستفید ہونا پڑا، اتنا ہی نقصان ہمیں کتابوں سے دور ہونے کی صورت میں دیکھنا پڑا۔ یہ ایک حقیقت کہ جو قوم اپنے آپ سے غافل ہو جاتی ہے تو ان کے لئے ترقی کے راستے محدود ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہے کتب بینی سے دوری۔ دنیا کے اعلیٰ ترین دماغوں کی باتیں ان ہی کتابوں میں موجود ہے۔ دنیا کی حقیقت، مادیت کی حقیقت، انسانوں کے اقسام، مذاہب کے فوائد اور نقصانات، آخرت کی حقیقت، وغیرہ یہ سب چیزیں ان ہی کتابوں میں سجی ہوئی ہے۔ کسی قوم کو انقلاب کی طرف مائل کرنا یا کسی استعمال شدہ راہ سے، صحیح راہ پر لانا، ہی کتابوں کی دین ہے۔ 
مگر اتنے فوائد کے باوجود، ہمارے یہاں اس عادت کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس کے ظاہری اور باطنی اسباب ہے، مگر جب ہم پوری شکل جو دیکھتے ہیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے یا تو یہاں اچھی کتابوں کی کمی ہے یا تو لوگ پڑھنا نہیں چاہتے۔ ایک اور چیز یہ ہوسکتی ہے کہ اب وہ کتابیں نہیں رہی، جو قوموں کی تقدیر بناتی ہے۔ اس کو جتنا کھینچا جاتا ہے، اتنا یہ مضمون دوسری جہتوں کے ساتھ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ مگر قارین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، میں کوشش کرنا چاہتا ہوں کہ اس کو کم الفاظ میں محدود کرتے ہوئے، مقصد بولا جائے۔ اپنی بات کی طرف واپس آتے ہوئے، اب ہم ان وجوہات کا ذکر کرتے ہیں جو ہمیں کتابوں سے دور کرتے ہیں۔ 
پہلا ہے کتابوں کی اہمیت سے ناواقفیت۔ ہمیں آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ایک اچھی کتاب کیا ہوتی ہے۔ قرآن جیسی کتاب کو غور سے پڑھ کر اور پھر مشاہدہ کر کے ایک انسان حقیقت سے ضرور آشنا ہوتا ہے۔ اس انسان کو چیزوں کا گہرائی میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ پہلے وہ اپنے آپ سے اور پھر پوری کائنات سے روشناس ہوگا۔ مگر اتنے فوائد کے باوجود، بہت کم لوگ قرآن کو پڑھتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو حال ہے مذہبی کتاب کا جو ہم سمجھے اور نا سمجھے بھی پاک مان لیتے ہیں۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ دوسری کتب کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہوگا۔ اللہ کی طرف سے نازل کئی ہوئی کتب سے ہماری زندگیاں نہیں بدلتی، تو دنیا کی کوئی دوسری کتاب ہمیں بدل دے بھی، وہ ناقص تبدیلی ہوگی۔ 
دوسرا ہے مادیت۔ یہاں دانا اور نادان کو ایک قسم کا کھانا، کپڑا، گھر، رشتہ دار، وغیرہ چاہیے۔ کتابیں پڑھ کر اور نہ پڑھ کر بھی کمانا، کھانا اور سونا ہے۔ تو کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ مادیت کے جتنے انبار ہو اتنا فائدہ ہے۔ کوئی بھی چیز دنیا میں پیسہ مانگتی ہے، تو کتابوں کا اس معاملے میں کیا رول ہے۔ جس نے کتابیں نہیں پڑھی ہے، وہ کتب بینی کرنے والے سے زیادہ کماتا ہے اور خوش ہے، مگر دوسری طرف کتب بینی کا شوق رکھنے والا تذبذب کا شکار ہے۔ ہر چیز کو کھانے سے پہلے جانچتا ہے، بولنے سے پہلے سوچتا ہے، کرنے سے پہلے نتیجہ کے بارے میں سوچتا ہے، سونے سے پہلے جاگتا ہے، جاگنے سے پہلے سوتا ہے، جو خدا کو ڈھوندتا ہے، ہر کسی بات میں شک کرتا ہے، وغیرہ۔ اس نہ ختم ہونے والے بظاہر پریشانی سے اچھا ہے کہ آرام سے زندگی گزاری جائے، نہ کسی کی آنکھ میں کھٹکے گے اور نہ کوئی دشمن بنے گا۔ 
تیسرا ہے جاہل اور اَن پڑھ سماج۔ ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں پر بات ماضی کو سامنے دیکھ کر ہوتی ہے۔ٹھیک ہے ماضی جینا سکھاتا ہے،مگر ہمیشہ ماضی کی طرف دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ماضی میں اگر ہمارے آباواجداد نے کتابوں کا منہ نہ دیکھا ہوں، تو ہم کو بھی یہی کرنا ہےاور اگر دیکھی بھی ہوں، مگر پڑھی نہ ہوں تو یہ بھی ہمارے لئے ایک معیار بن جاتا ہے۔ اس کو اگر دوسرے انداز میں بولا جائے تو یہ ہم کہہ سکتے ہیں کسی کی ذہن کی اختراع ہمارے لئے بنیاد نہیں بن سکتی، جب تک یہ زندگی گزارنے کے لئے ٹھیک نہ ہوں۔ مگر افسوس کی بات ہے ہمارے لئے ماضی معیار بن گیا ہے اور اس کے علاوہ کسی انسان کی ذہن کی اختراع ہمارے لئے نمونہ بن گئی۔ اس کا نتیجہ نکلا کہ اب ہم سیکھنے سے قاصر ہے اور کتب بینی سے بہت دور۔ 
چوتھا ہے کنجوسی۔ ہم بدعات پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں، مگر کتابیں خریدنا پسند نہیں کرینگے۔لوگوں کو لگتا ہے یہ عمل دولت کا غلط استعمال کرنا ہے۔ ان کے مطابق فرائض کو چھوڑ کر کم درجے کے کاموں کو اہمیت دیتے ہیں۔ فرائض میں تھا علم حاصل کرنا، جو موجودہ زمانے میں کتابوں کی شکل میں موجود ہے۔ مگر اس کے بر عکس ہم نے اپنی انا کی خاطر اور لوگوں میں اپنی جھوٹی پہچان رکھنے کے لئے، ایک تو خود کو بربادی کی طرف راغب کیا ہے، اس کے علاوہ جو کتب بینی کا شوق رکھتے ہیں، ان پر اپنے برے نقوش چھوڑ دیں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ہم بھی ایسے زندگی گزارے، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر نہیں کر پاتے۔ 
اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم کتب بینی کی طرف لوٹ کر آئے یا تو نئے سرے سے کتب بینی کی عادت ڈال دیں۔ آسمان سے نازل ہوئی کتب کا پہلے مطالعہ کیا جانے چاہیے۔ مگر خاص کر قرآن کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کئی جانے چاہیے۔ اس کے علاوہ وہ کتابیں لوگوں کے درمیان پڑھنے کے لئے مخصوص کئی جانی چاہیے جو لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد کرے۔ جن کتب سے ایک انسان کے دیکھنے کا زاویہ بدلے، وہیں کتابیں ہمارے یہاں ہونی چاہیے۔ مزید براں لوگوں کو بہت سارے طریقوں سے کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کرنا چاہتے۔ اگر لالچ بھی دینی پڑھے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ منبروں کو ہم اس کام کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ عام لوگوں کے لئے ہم لائبریریوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا فائدہ اٹھا کر آن لائن کتابیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ تحفے میں ہم کتابیں دے سکتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے دائرے میں کتابوں کا ذکر کرسکتے ہیں۔ خود بھی ایک سال کے لئے ایک نشانہ مقرر کریں کہ مجھے اتنی کتابیں پڑھنی ہیں اور اس کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔  اور بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے مگر آج کے لئے اتنا کافی ہے۔ سب کچھ کہنے کے بعد اب بات آتی ہے عمل کی۔ امید کرتے ہیں کہ ہم کتابوں کا اتنی اہمیت دیں گے جتنی ہم کھانے پینے کو دیتے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کریں۔ 
(حاجی باغ، زینہ کوٹ، رابطہ ۔7889346763)