کاکہ پورہ پتھرائو واقعات | 10 گرفتار، پلوامہ اور کوکر ناگ میں تلاشیاں

پلوامہ +سوپور+اننت ناگ// پلوامہ کے کاکا پورہ قصبہ میں گزشتہ روز مسلح تصادم آرائی کے دوران مقام جھڑپ پر تشدد آمیز مظاہرے کرنے کے الزام میں 10نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں پانپور پولیس کی جانب سے کی گئیں ہیں اور انکے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔پولیس بیان کے مطابق’’ پولیس سٹیشن پانپور نے ایسے 10شر پسند عناصر کی گرفتاری عمل میں لائی، جنہوں نے کاکہ پورہ میں انکوانٹر ڈیوٹی پر تعینات سیکورٹی عملے پر پتھرائو کیا‘‘۔ بیان کے مطابق’’ تاہم نزدیکی گائوں سانبورہ کے چند شر پسند عناصر نے سیکورٹی فورسز کی کارروائی مٰن رخنہ ڈالنے  کی غرض سے پتھرائو کیا اور ملک دشمن نعرے لگائے‘‘۔پولیس بیان میں کہا گیا ہے’’ شر پسند عناصر کی موقعہ پر ویڈیو عکس بندی کی گئی اور بعد میں انکی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا گیا‘‘۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دیگر ملوث نوجوانوں کی گرفتاری بھی ہونے جارہی ہے۔پولیس نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اس طرح کیی صورتحال سے دور رکھنے میں اپنی ذمہ داری نبھائے۔خیال رہے جمعہ کے روز کا کہ پورہ میں تصادم آرائی کے دوران تین مقامی جنگجوجاں بحق ہوئے تھے جس دوران یہاں فورسز اور نوجوانوں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں 7نوجوان پلیٹ جبکہ ایک خاتون گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئی تھی ۔ادھر اننت ناگ اور پلوامہ میں بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن کئے گئے۔ اننت ناگ ضلع کے کوکرناگ کے ہانگل گنڈ گائوں کا فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیموںنے محاصرے کیا اور تلاشی مہم شروع کی۔علاقے میں تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے بٹھا دئے گئے ،تاہم کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ادھرچار بجے کے قریب کریم آ باد پلوامہ کو بھی محاصرے میں لیا گیا اور یہاں شام دیر تک تلاشی کارروائی جاری تھی۔ 
 
 
 

۔12دسمبر کاسوپور گرینیڈ دھماکہ | 2بالائے زمین ورکر گرفتار، پولیس ریمانڈ حاصل

غلام محمد
سوپور//پولیس نے بس سٹینڈ سوپور میں ہوئے گرینیڈ دھماکہ کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے جنگجوئوں کے لئے کام کررہے 2بالائی زمین ورکروں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 12دسمبر2020کو نامعلوم جنگجوئوں نے پولیس پوسٹ بس سٹینڈپر ہتھ گولہ داغا جو نشانہ چوک کر گیٹ کے باہر پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں 3شہری زخمی ہوئے ۔ اس سلسلہ میں پولیس تھانہ سوپور میں ایف آئی آر زیر نمبر349/2020درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ۔ پولیس بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران 2مشتبہ افراد محمد آصف نجار ولد مشتاق احمد نجار ساکن نور باغ سوپور اور ساحل رشید بٹ ولد عبدالرشید بٹ ساکن گرین ٹائون سوپور کو حراست میں لیاگیا اور پوچھ تاچھ کے دوران انہوںنے اعتراف کیا کہ وہ لشکر طیبہ کیلئے بطور بالائی زمین ورکر کام کررہے تھے اور پولیس پوسٹ بس سٹینڈ پر لشکر طیبہ کی ہدایت پر ہتھ گولہ داغا تھا۔ پولیس بیان کے مطابق دونوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ جنگجوبننے کے خواہشمند تھے اور اس کیلئے انہیں ہتھ گولہ دیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ وہ اسے سوپور میں سیکورٹی فورسز، پولیس تنصیبات پر پھینکے اور آخرکار ہتھ گولہ کو پولیس پوسٹ بس سٹینڈ پر پھینکا گیا۔ دونوںافراد کو باضابطہ طور پر یکم اپریل 2021کو گرفتار کیا گیا اور اس وقت پولیس ریمانڈپرہیں۔ ادھرسعد پورہ سوپور کا 22آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس نے محاصرہ کیا اور میو باغات کو بڑے پیمانے پر کھنگالا۔فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ میوہ باغات میں جنگجو چھپے بیٹھے ہیں لیکن کئی گھنٹوں تک تلاشی لینے کے باوجود جنگجو نظر نہیں آئے۔