سرینگر// حکومت نے جموں کشمیر میں ضلعی سطح پر کان کنی کو پٹے پر دینے کی عمل آوری اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک چھت کے نیچے ضلع کمیٹیوں کے قیام کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے30دنوں میں کسی بھی اعتراض نہ ہونے سے متعلق دستاویز کو اجرا کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔ کمیٹی کی کمان متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنر کو سونپی گئی جبکہ یہ کمیٹی10ممبران پر مشتمل ہوگی جس میں محکمہ جل شکتی،آبپاشی و فلڈ کنٹرول،ماہی گیری،جنگلات،معدنیات،وائلڈ لائف اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کے علاوہ محکمہ مال کے افسراں پرمشتمل ہوگی۔ محکمہ عمومی انتظامی کے کمشنر سیکریٹری کی جانب سے بدھ کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا’’ مرکزی زیر انتظام جموں کشمیر کے ہر ایک ضلع میں ای،بولی کے ذریعے مائننگ کو پٹے پر دینے کی عمل آوری اور سہولیات کیلئے پروجیکٹوں کے ان شعبہ جات،جن میں اب تک’’ کوئی اعتراض نہیں‘‘(این ائو سی) جاری نہیں کی گئی یا زیر غور ہے،ضلع سطح کی سنگل ونڈو(ایک ہی چھت کے نیچے) کمیٹی کے قیام کو منظوری دی جاتی ہے‘‘۔ اس کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تمام محکمہ جات اور اداروں کی جانب سے30دنوں کے اندر ضروری دستاویزات اجراء کرائیں،اور خصوصی صورتحال میں اس کو45دنوں تک توسیع دی جائے گی،تاہم اس کیلئے وجوہات تحریری طور پر قلمبند کئے جائیں۔ اس کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ مسائل کے حل میں تاخیر کی صورت میں یہ معاملہ صوبائی کمشنر کے سامنے پیش کیا جائے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو ایک ہی جگہ پر کلیرنس درخواستوں کی حصولیابی کیلئے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ کے ماتحت کام کرے گی،جو واضح طور پر ہر ایک فریق محکمہ سے معلومات کی حصولیابی اور کلیرنس کی نوعیت کی نشاندہی کرتی ہے۔اس کمیٹی کی کمان متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو سونپی گئی ہیں،جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر،کمیٹی کے کنونیئر ہونگے۔کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر مال، متعلقہ ڈویژنل فارسٹ آفسر، محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر، محکمہ پی ایچ ای کے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر، ضلع منرل افسر، پولویشن کنٹرول بورڈ کے ضلع افسر، محکمہ ماہی گیری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور متعلقہ وائلڈ لائف وارڈن اس کمیٹی کے ممبر ہونگے۔