کانگڑیاں،کرسیاں، میز اور ٹوکریاں بنانے کی ہنرکاری کاروایتی شاخسازی کاشعبہ | گاندربل کے متعدد علاقوں میں ختم ہونے کی دہلیز پر،سینکڑوں کاریگروں میں مایوسی کی لہر

گاندربل//کشمیر کی صدیوں پرانی روایتی بید کی دستکاری کی ہنزسرکار کی عدم توجہی سے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔جہاں چرار شریف اور اسکے ملحقہ علاقوں میں کانگڑیاں اور دیگر گھریلو استعمال میں آنے والی چیزیں جنگلات میں پائے جارہے مخصوص قسم کے پودوں کی شاخوںسے تیار کی جاتی ہیں وہیں گاندربل اور بانڈی پورہ علاقوں میں بید کے درختوں کی شاخوں کو ان چیزوں کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے اور شاخسازی کا یہ کام یہاں صدیوں سے کی جارہا ہے۔شالہ بگ، ژھندنہ ،کورگ،ہرن، کژھن،ملک پورہ سمیت کئی دیگر علاقوں میں  بید کی شاخوں سے کئی اقسام کی ٹوکریاں،کرسیاں، میز اور کئی اقسام کی کانگڑیاں بنائی جاتی ہیں۔ان علاقوں میں 70 فیصد سے زیادہ آبادی مرد اور خواتین اس ہنز سے وابستہ ہیں، تاہم کاریگروں نے شکایت کی ہے کہ وہ انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، کیونکہ سرکاری طور پر اس شعبہ کی سر پرستی نہیں کی جارہی ہے۔شالہ بگ کے 60 سالہ مقامی کاریگر محمد مقبول ڈار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ "گاندربل کے شیر پتھری کے شالہ بگ، ژھندنہ ،ہرن ملک پورہ سمیت دیگر علاقوں میں بید کے پودے لگانے کیلئے قریب 4ہزار کنال سے زائد راضی استعمال میں لائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بید کے درختوں کی شاخیں کاٹنے کا کام مارچ، اپریل یا اکتوبر نومبر مہینوں میں کیا جاتا ہے،جس کے بعد ایک دو روز تک ان شاخوںکو پانی میں بھگونے کیلئے رکھا جاتا ہے جس کے بعد بڑی ٹینکیوں میں 24 گھنٹوں تک انہیں اُبالا جاتا ہے۔ابالنے کے بعد ان شاخوںسے چھلکا اتار کر تین چار روز تک دھوپ میں سوکھنے کیلئے رکھا جاتا ہے جس کے بعد کاریگر اور ہنر مند لوگ ان سے کانگڑیاں، کرسیاں، میز، شادی بیاہ میں استعمال کی جانے والی مختلف اقسام کی ٹوکریاں بناتے ہیں۔محمد مقبول نے مزید کہا کہ’’ان علاقوں کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نسل در نسل اس صدیوں پرانی روایتی شاخسازی کے شعبہ سے وابستہ ہیں تاہم کئی دہائیوں کے دوران سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے  اس شعبہ سے دوری اختیار کی۔انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے 40 سالوں سے شاخسازی کے شعبہ سے منسلک ہیں جبکہ باپ دادا بھی اسی ہنر سے وابستہ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ شاخسازی کی ہنر مندی کوتقویت دینے کیلئے کسی بھی سرکاری محکمے سے مالی مدد نہیں ملتی ، اور نہ کاری گروں کو کام کے عوض مزدوری مل رہی ہے۔اس ہنر سے وابستہ محمد مقبول نے کہا کہوہ شاخوں سے مختلف چیزیں بنا کر ٹھیکیداروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں جن سے وہ لوگ لاکھوں کماتے ہیں۔کشمیر عظمیٰ نے جب اس معاملے کے بارے میں ڈائریکٹر انڈسٹریز اینڈ ہینڈی کرافٹس محمود احمد شاہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ"شاخسازی ایک اہم صنعت اور شعبہ ہے ،جس کی حوصلہ افزائی کرنے کی اشد ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ شاخسازی کی روایتی ہنر کومحفوظ بنانے اور اسے فروغ دینے کیلئے بیشتر سکیمیں موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اس سے وابستہ کاریگر اور ہنر مندوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔