کانگریس الیکشن مینی فیسٹو !

الیکشن  2019 ہی نہیں ہر الیکشن نیتاؤں کے لئے وعدوں کا موسم بہار ہوتا ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وعدوں کے مقابلہ کا سیزن ہوتا ہے۔ 2014ء میں مودی اپنے وعدوں سے بازی لے گئے تھے۔ پانچ برسوں کے دوران راہول گاندھی نے بہت کچھ سیکھا۔ اچھا بولنا اور اچھے وعدے۔ 2؍اپریل کو تو انہوں نے انتخابی منشور جاری کرکے بی جے پی قائدین کے بلڈ پریشر کو بڑھادیا۔ پورا دن ارون جیٹلی نیشنل چینلوں پر تنقید کرتے دیکھے گئے۔ ان کی تلملاہٹ کی وجہ صاف تھی۔ کانگریس نے کئی ایسے وعدے کئے جو پورے ہوسکتے ہیں۔۔۔۔ بشرطیکہ وہ اقتدار حاصل کرسکے۔ مسٹر مودی نے ایک دن پہلے ہی طنزیہ لہجہ میں کہا تھا کہ وہ جماعتیں بھی وعدہ کررہی ہیں جنہیں اقتدار پر آنا ہی نہیں ہے۔کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں 22؍لاکھ مخلوعہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات، AFSPA پر نظر ثانی، کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی تعداد میں کمی جیسے وعدے کئے ہیں۔ 55صفحات پر مشتمل کانگریس کے انتخابی منشور میں ‘ چھ صفحات میںکسانوں کو قرض سے نجات‘ موجودہ ملازمتوں کی برقراری اور نئی ملازمتوں کی فراہمی کا تیقن دلایا گیا ہے ۔ کام (روزگار)، دام (معیشت)، شان (ہندوستان کے ہارڈ اور سافٹ ویئر پر فخر) سوشاشن (بہتر حکمران) سوابھی مان (محروم طبقہ کی خود کفالت اور سمان (باوقار زندگی) کا حق سب کے لئے۔ کانگریس کے وعدوں میں سب سے اہم کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں نافذ قوانین سے متعلق وعدہ ہے کیوں کہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اور اس پر دو پڑوسی ممالک کی داخلی سیاست کا انحصار ہے۔ ایک طرف امیت شاہ نے یہ اعلان کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق دستور کے دفعہ 35A اور 370 کو برخواست کردیںگے جس پر کشمیر کے تمام قائدین نے زبردست احتجاج کیا اور سخت الفاظ میں مذمت کی۔ فاروق عبداللہ نے یہاں تک کہا کہ بی جے پی ان دو دفعات کو چھونے کی بھی ہمت کرکے دکھادے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جس دن یہ دفعات برخواست کی جائیںگی اس دن ہندوستان اور جموںو کشمیر کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔
آپ جانتے ہیں کہ دستور ہند کی دفعہ 35A کے تحت جموں و کشمیر کو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں خصوصی موقف اور خاص مراعات دی گئی ہے۔ 26؍اکتوبر 1947ء میں جب جموں و کشمیر کو ہندوستان میں ضم کیا گیا تھا تب ایک معاہدے کے تحت جو خصوصی مراعات اور موقف اس ریاست کو اور اس کے عوام کو فراہم کرنے کا تیقن دیا گیا تھا ،اُسے دستور ہند میں شامل کیا گیا۔ ان دفعات کے تحت ریاست کے عوام کو مستقل شہری قرار دیا گیااور انہیں غیر مقامی شہریوں کے مقابلے میں خصوصی مراعات کا حق دار قرار دیا گیا۔ جموں و کشمیر ملک میں واحد ریاست ہے جس کا اپنا دستور ہے۔ کئی سال تک یہاں کے گورنر کو صدر ریاست اور وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم کہا جاتا تھا۔ چند دن پہلے عمرعبداللہ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں وزیر اعظم کے عہدہ کو بحال کیا جائے۔ کشمیری عوام کو خصوصی مراعات ایک طویل عرصہ سے فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے ،حالانکہ ان مراعات سے فیض یاب ہونے والے تمام کشمیری بلالحاظ مذہب ہیں۔ بی جے پی کا کشمیر کے حالات کو بگاڑنے میں بڑا اہم رول ہے۔ ترکمان گیٹ واقعہ سے منسلک بدنام زمانہ جگموہن جب جموں و کشمیر کے گورنر بنے تو انہوں نے اس ریاست میں بدامنی کو روکا نہیں بلکہ اسے مبینہ طور بڑھاوا ہی دیا۔ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، جس کے لئے ہندوستان نے پڑوسی ملک پاکستان سے کئی جنگیں لڑیں۔ یہ اور بات ہے کہ کشمیری عوام سے جو ہمدردی ہونی چاہئے، ملکی عوام میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
یہاں مقامی آبادی پر ضرورت سے زیادہ سیکورٹی فورس تعینات ہے۔ جب کبھی سرحد پر یا سرحد پار سے کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا اثر کشمیر پر اور کشمیر کا اثر ہندوستان کے مسلمانوں پر مر تب ہوتا ہے۔ کشمیر کے حالات کو بگاڑنے میں کس کا بھی بہت بڑا رول ہے، وہ عیاں وبیاں ہے۔ سیکورٹی فورس کی مستقل تعیناتی کی وجہ سے کشمیری عوام میں عدم تحفظ کا احساس پایاجاتا ہے۔ جس طرح افغانستان میں اتحادی افواج برسوں رہنے کے باوجود وہاں امن قائم نہیں ہوسکا بلکہ حالات اور خراب ہوئے،اُسی طرح کشمیر میں فورسز کی بھاری بھرکم تعیناتی سے پیدا ہونے والے مسائل نے یہاں کے عوام کو بدظن اور مشتعل کیا ہوا ہے۔ اُسی طرح شمالی مشرقی ریاستوں منی پور، آسام، میگھالیہ میں سیکوریٹی فورسز کو Armed Forces (Special Powers) Actپر نظر ثانی‘ جس کے تحت جموں کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں سیکورٹی فورسز کو غیر معمولی اور ناقابل قیاس اختیارات دئے گئے ہیں۔اگرچہ کہ یہ ایکٹ گڑبڑ زدہ علاقوں میں لاء اینڈ آرڈر کی برقراری کے لئے نافذ کیا گیا تھا مگر اس ایکٹ کی وجہ سے اُلٹا امن و قانون کی حالت بگڑتی رہتی ہے ۔
جہاں تک AFSPA کا تعلق ہے‘ 11؍ستمبر 1958ء کو یہ قانون گڑبڑ زدہ علاقوں میں لاء اینڈ آرڈر کی برقراری کے لئے بنایا گیاتھا جس میں سیکورٹی فورسز کو غیر معمولی اختیارات دئے گئے ۔ یہ ناگالینڈ، آسام، منی پور، میں نافذ ہیں‘ امپھال میں 7؍اسمبلی حلقوں کو چھوڑ کر اور اروناچل پردیش کے کچھ حصوں میں یہ لاگو ہے۔آسام، میگھیالیہ بارڈر پر بھی یہ نافذ ہے۔ یہ ایک متنازعہ قانون ہے جس کی انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبرداروں نے اس لئے مخالفت کی کہ یہ انتہائی جارحانہ ہے‘ 10؍افراد منی پور میں جب اس قانون کی بھینٹ چڑھ گئے تو منی پور کی ایرم شرمیلا نے نومبر 2000 سے اگست 2016ء تک اس قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی تھی۔ منی پور کی خواتین نے اس قانون کے بے جا استعمال اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور ان کی عصمتوں سے کھلواڑ کے خلاف 15؍جولائی 2004کو برہنہ ہوکر احتجاج کیا تھا جس سے ملک کی جمہوریت اور نظام پر سوال اُٹھے ، اس واقعہ کے بعد آسام رائفلز کو کانگلا فورٹ کے علاقہ سے تخلیہ کرنا پڑا اور AFSPA امپھال کے 7اسمبلی حلقوں سے برخواست کردیا گیاتھا۔
کانگریس نے یہ وعدے بہت ہی جرأت کے ساتھ کئے ہیں ، اُنہیں عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے یا نہیں کہا نہیں جاسکتا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کالے قوانین کانگریس دور کی دین ہیں اور بی جے پی دور میں اس میں شدت پیدا ہوگئی ۔ راہول گاندھی کسی قدر سلجھے ہوئے ضرور ہیں‘ حال حال تک وہ اپنے پارسی داد اور عیسائی ماں کے اثرات کے تحت بڑی حد تک سیکولر تھے مگر اقتدار ایسی بُری چیز ہے کہ وہ انسان سے اس کی اپنی مذہبی شناخت تک چھین لیتی ہے۔ جیسے راہول کو نرم ہندوتواکی پہچان کے لئے مندر مندر درشن کرنے پڑرہے ہیں تو بُدھ مذہب اختیار کرنے والے عیسائی شوہر رابرٹ ووڈرا کی شریک ِزندگی پرینکا گاندھی کو گنگا کنارے نائو یاترا اور ایودھیا میں مندر درشن کرنے پڑے جس کے جواب میں نریندر مودی کو جو حالیہ دنوں اپنے شبیہ کو بدلنے کوشش کرتے رہے تھے، ایک بار پھر ہندوکارڈ کا استعمال کرنا پڑا جب انہوں نے یہ کہا کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہوتے۔یہ کہنا بڑے دل گردے کی بات ہے۔ یہ بات مسٹر مودی ہی کرسکتے ہیں جن کے نام کے ساتھ اب بھی گجرات دنگے لاحقہ بنے ہوئے ہیں ۔ خیر! بی جے پی اور کانگریس کے درمیان وعدوں کا مقابلہ جاری ہے۔ اچھے دن لانے کا وعدہ تو پورا نہیں ہوا، نوجوانوں کو روزگار کا وعدہ بھلادیا گیا، بیرونی ممالک سے تعلقات بہتر بنے یا نہیں‘ یہ سب سوالات ہیں مگر ملک کے اندرونی حالات کو بہتر نہیں کرسکے۔کانگریس کے لئے اقتدار کی منزل اتنی آسان نہیں کیوں کہ اس کے اپنے اہم ارکان نے مسٹر نریندر مودی کو چائے والا اور چوکیدار جیسے خطابات دے کر فائدہ پہنچایا ہے۔ کیوں کہ نہ تو چائے بیچنا معیوب ہے اور نہ ہی چوکیداری جرم ہے۔مسٹر مودی نے انہی خطابات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ چائے والوں اور چوکیداروں کی ہمدردی بھی حاصل کی۔ کانگریس کے ایسے ارکان کا حال لنکا ڈھانے والے گھر کے بھیدیوں کے جیسا ہے۔ بہرکیف! کانگریس اپنی آخری لڑائی لڑرہی ہے،جب کہ بی جے پی کو اپنی کامیابی کا یقین ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک انجانا سا خوف بھی طاری ہے، ورنہ کانگریس کے انتخابی منشور پر بی جے پی قائدین کا اتنا شدید ردعمل نہیں ہوتا۔
رابطہ  ایڈیٹر ’’گواہ اردو ویکلی‘‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226