جموں// احتجاج کے طورپر جموں میں دوسرے روز بھی جموں کے مختلف کالجوں میں پڑھائی نہ کے برابر رہی ۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق یونیورسٹی کے حکام کے خلاف احتجاجی طلباء نے احتجاجی مظاہرے کرکے کلاسوں میں جانے سے بائیکاٹ کردیا ہے اور کھلے دلی سے آزادانہ طورپر جموں ڈویژن کے مختلف کالجوں میں داخلہ نظام میں بہترین لائحہ عمل اختیار کرنے پرزوردیتے ہوئے سٹونٹس یونین کے لیڈر لکی سنگھ نے دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس برس پہلی بار کالجوں کے داخلہ نظام میں سرکا ر کی جانب سے کوتاہی برتی جارہی ہے جس سے کئی طالب علموں کا مستقبل مخدوش ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔۔ ذرائع نے خبردی ہے کہ گورنمنٹ ایم ایم کالج جموں کے احاطہ میں مختلف کالجوں سے آئے ہوئے بھاری تعداد میں طلباء نے ریاستی انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کئے اورحکام پرزور دیتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ ہربر س کی طرح اس برس بھی مختلف کورسوں کیلئے داخلہ نظام میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے جس سے طالب علموں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ داخلہ نظام میں کھلے دل سے اورآزادانہ طورپر طالب علموں کو مختلف کورسوں کیلئے داخلہ دینے پر اعتراضات نہ جتانے پر یونین کے لیڈر نے متعلقہ حکام سے فوری طو رپر مداخلت کرتے ہوئے طالب علموں سے دھوکہ بازی نہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اس دوران آپے سے باہرہوکر کئی احتجاجی طلباؤں نے سڑک جام کرتے ہوئے کئی دیر تک ٹرانسپورٹ کی آواجاہی مسدود کرکے رکھ دی ہے۔سٹوڈنٹس یونین کے لیڈر لکی سنگھ نے جموں کے وائس چانسلر سے داخلہ نظام میں بہتری لانے کیلئے فوری طورپر جامع اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔