کابل //افغانستان کے دارالحکومت کابل کے اسکول کے باہر کار بم دھماکے اور مارٹر حملے میں کم از کم 55 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ حملے میں اب تک 55 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی افراد زخمی ہو چکے ہیں۔وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ سید الشہدا اسکول سے لائی جانے والی زیادہ تر لاشیں طلبہ کی ہیں۔ٹی وی چینل طلوع نیوز کی فوٹیج اسکول کے باہر دردناک مناظر کی منظر کشی کر رہی ہے جہاں سڑک پر خون میں لت پت کتابیں اور اسکول بیگ پڑے ہیں اور مقامی افراد اپنے تئیں مدد کر کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے۔سید الشہداء اسکول پر اس وقت راکٹ حملہ کیا گیا جب طلبا چھٹی کے بعد باہر نکل رہے تھے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یکے بعد
دیگرے تین راکٹس اسکول کی عمارت سے ٹکرائے۔ مقامی ہسپتال کے ذرائع نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دھماکے کے بعد مشتعل مظاہرین کی طرف سے ریسکیو ورکرز کے زد وکوب کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔