کابل// (یوا ین آئی/اسپوتنک) طالبان نے اتوار کے روز کہا کہ یہ ضرورری ہے کہ کابل ایئرپورٹ چھوڑنے والے لوگوں کے لیے اجازت دیتے ہوئے راستہ کھولا جائے‘جنگجووں کے قبضے کے پیش نظر جہاں افغانیوں کی قابل رحم تصاویر ٹرمینل کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں۔ طالبان کے ایک ترجمان نے اسپوتنک کو بتایا،’ کابل ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے روڈ کھولنا لاء اینڈ ارڈر (امن عامہ) کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ایئرپورٹ آنے اور احاطہ چھوڑنے کے پروسیزر کو آسان کرکے ایئرپورٹ کی صورتحال سے نمٹیں‘۔صبح خبر رساں ادارہ خامہ نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکی وزارت خارجہ 48 گھنٹے کے لیے ایئرپورٹ کو بند کرے گا تاکہ جو اندر ہیں انھیں ایئرلفٹ کیا جائے۔ قابل ذکر ہے کہ 15 اگست کو طالبان کابل میں داخل ہوئے اور جمہوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔صدر اشرف غنی مستعفیٰ یہ کہتے ہوئے ملک سے بھاگ کھڑیہوئے کہ انہوں نے خون خرابہ روکنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔