ڈوڈہ کے بدھلی گاؤں کے طالب علم کا دہلی میں قتل

ڈوڈہ //رواں ماہ کی 12 تاریخ کو ڈوڈہ کے نوجوان کی دہلی میں ہوئی ہلاکت پر سیول سوسائٹی ممبران نے مہلوک نوجوان کے رشتہ داروں کے ہمراہ احتجاج کیا جس دوران انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کر کے سخت سزا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے 'ہم کیا چاہتے انصاف' آیوش کے قاتلوں کو پھانسی دو پھانسی دو'کے نعرے بلند کئے۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز ڈوڈہ ضلع کی سب ڈویڑن گندوہ میں ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر ملکپورہ کے مقام پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھلیسہ کے بدھلی گاؤں سے تعلق رکھنے والا شیر سنگھ ولد امر ناتھ گذشتہ پچیس برسوں سے دہلی یوپی کی سرحد واقع کھوڑا کالونی غازی آباد میں کرائے کے مکان پر رہتا تھا اور وہیں پر اس کے دو بیٹے بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔آیوش سنگھ (20) کے والد شیر سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 12 فروری کی شام کو میرا بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں گیا اور رات کو واپس نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ 13 فروری کو پولیس نے انہیں فون پر اطلاع دی کہ آپ کے بیٹے کا قتل ہوا ہے۔شیر سنگھ نے کہا کہ میرا بیٹا ذہین تھا اور ہر کلاس میں اول رہتا تھا جبکہ موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی اور ایک نجی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کی کامیابی سے ناخوش ہوکر اس کے دوستوں نے اسے قتل کیا۔ شیر سنگھ نے کہا کہ غازی آباد تھانے میں معاملہ درج کیا ہے اور پانچ افراد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پیشہ سے ڈرائیور ہیں اور اپنے اہل خانہ کا خرچ چلاتے ہیں لیکن دہلی جیسے شہر میں اس قسم کی دل دہلانے والے واقع نے مجھے پست کردیا ہے۔بھلیسہ یونائٹڈ فرنٹ صدر محمد حنیف ملک کی قیادت میں مظاہرین نے لیفٹیننٹ گورنر، مقامی سیاسی جماعتوں و مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آیوش کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف سرکار جموں و کشمیر کو سبز باغ دکھا رہی ہے دوسری طرف یوٹی کے بچوں و مزدوروں کو بیرونی ریاستوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتہ تک ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو وہ ضلع و صوبائی سطح پر احتجاج کریں گے۔اس موقع پر ڈی ڈی سی کونسلر کاہرہ معراج ملک، سرپنچ دانش ملک، سابق سرپنچ یونس رشید ملک، سابق پنچائتی چیرمین سریش کمار، بھاجپا کارکن اختر میر، ماجد ملک و مسرور میر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی غیر جانبدار طریقے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ آیوش نے رواں ماہ کے شروع میں بارہویں جماعت کا امتحان دیا تھا۔ اس کی آخری رسومات اپنے آبائی گاؤں واقع بدھلی بھلیسہ میں 17 فروری کو ادا کی گئی۔