چین سے بات ہو سکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟

مینڈھر//نیشنل کانفرنس کارگزار صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاہے کہ اگر بھارت چین سے بات چیت کرسکتاہے توپھر پاکستان کے ساتھ کیوں ایسا نہیں کیاجاسکتا۔ڈاک بنگلہ مینڈھر میں کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ کاکہناتھاکہ ریاست کے حالات ٹھیک نہیں اورمرکزی سرکار کو پاکستان سے بات چیت کرنی چاہیے اور مسئلے کو حل کرنا چاہیے کیونکہ بے قصور لوگوں کا خون بہہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان چین کے ساتھ بات کر سکتا ہے تو پھر پاکستان سے کیوں نہیں؟۔ ان کا کہنا تھا کہ کل انہوں نے پونچھ میں ایک روزہ کنونشن کیا اور جب این سی ورکر واپس گھر جا رہے تھے تو پاکستانی فوج نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجہ میں چارافراد زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے۔انہوں نے اٹل بہاری واجپائی کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ ان کے دور میںسیز فائر کامعاہدہ کیاگیااور آج بھی بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوناچاہئے ۔عمر عبداللہ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس دفعہ35Aکا ہر حال میں دفاع کرے گی ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک نیشنل کانفرنس کا جھنڈا لہرارہاہے تب تک دفعہ 35Aکا دفاع کرتے رہیں گے اوراپنا خون بھی بہانے کے لئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں امن چاہئے تو فرقہ پرست جماعتوں کو لکھن پور سے پار کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست میںسرکاری ملازمت پر ریاستی نوجوانوں کا حق ہے اور ہماری زمینوں پر ہمارے لوگوں کا ہی حق ہو گا ۔ان کاکہناتھاکہ کسی کو لکھن پور سے اندر نہیں آنے دیں گے کیونکہ جموں وکشمیر میں ریاست میں رہنے والے لوگوں کا حق ہے جو ان سے چھیننے نہیں دیاجائے گا۔عمر عبداللہ نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ریاست میں الیکشن ہوئے تو نیشنل کانفرنس نے مرحوم مفتی سعید کو سرکار کیلئے حمایت دینے کا اعلان کیااور یہ بھی کہاکہ وہ چھ سال تک وزیر اعلیٰ رہیں اوروزیر بھی اپنے ہی بنائیں لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے ہاتھ خالی ہیں لہٰذا وہ مرکز کے ساتھ ہاتھ ملائیںگے تاکہ ریاست میں تعمیر و ترقی کاکام شروع ہو سکے اور غربت کا خاتمہ ہو۔عمر عبداللہ نے کہاکہ نہ ہی تعمیروترقی کادور شروع ہوا اور نہ ہی غربت ختم ہوئی ، اسی ہزار کروڑ روپے ریاست میں بھیجے گئے لیکن سات کروڑ روپے بھی لوگوں کو نہیں ملے ۔