نئی دہلی// ہندوستان نے چین سے اپنے دو طرفہ تعلقات پر تعصبات سے باہر نکلنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ اسے ہندستان اور چین کے رشتوں کے کسی تیسرے ملک کے ساتھ رشتوں کے آئینہ سے نہیں دیکھنا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ خوبیوں اور خامیوں کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کی دیر رات تاجکستان کی راجدھانی دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی چوٹی میٹنگ سے قبل کی شام چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کے ساتھ طویل با ت چیت کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق دونوں لیڈروں نے حالیہ عالمی واقعات پر غور و خوض کیا۔ڈاکٹر جے شنکر نے چینی وزیر خارجہ سے تعصبات سے باہر آنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صاف الفاظ میں کہاکہ ہندستان نے کبھی بھی تہذیبوں کے ٹکراو کا کوئی تصور قبول نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ ہندستان اور چین کو ایک دوسرے کے ساتھ خوبیوں اور خامیوں کی بنیاد پر سلوک کرنا ہوگا اور ایسا رشتہ قائم کرنا ہوگا جس میں ایک دوسرے کے تئیں احترام ہو۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ چین ہمارے دو طرفہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ رشتوں کے نقطہ نظر سے نہ دیکھے ۔ انہوں نے دہرایا کہ ایشیائی اتحاد کا انحصار صرف ہندستان چینی تعلقات کی قائم کردہ مثال پر ہوگا۔دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کی صورتحال پر غور و خوض کیا۔ ڈاکٹر جے شنکر نے وانگ ای کے ساتھ 14جولائی کو ہوئی آخری میٹنگ کے بعد گوگرا علاقہ میں افواج کو ہٹانے کے معاملے میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا اور کہا کہ باقی امور کو جلد حل کیا جانا چاہئے ۔ گزشتہ میٹنگ میں وانگ ای نے اعتراف کیا کہ ہندستان چین دو طرفہ تعلقات نچلی سطح پر ہیں او ر دونوں فریقوں نے اس پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی کہ موجودہ صورتحال کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے آپسی رشتوں پر برااثر پڑ رہا ہے ۔وزیر خارجہ نے اس سلسلہ میں کہاکہ دونوں فریقوں کو مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر باقی امور کو بھی دو طرفہ معاہدوں اور پروٹوکول پر عملدرآمد کرتے ہوئے حل کرلینے چاہئیں۔ انہوں نے پھر دہرایا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کے لئے ایک ضروری بنیاد ہے ۔ اس پر چینی وزیر خارجہ نے بھی باقی امور کے حل کے لئے فوجی اور سفارتی سحطح کی میٹنگیں کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ دونوں وزرا نے اس سلسلہ میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ میں رہنے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔