لندن // ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے چھ بڑے ممالک ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ تو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن مئی سے تجدید ہونے والے معاہدہ میں کچھ ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق یہ سب اسلئے ہورہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی یہ طاقتیں ساتھ لیکر آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کی ہے تاہم ان کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلانے میں منفی کردار کی روک تھام کے لیے ڈیل میں ترامیم بھی درکار ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مئے کے دفتر سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ، جرمنی و فرانس کی اعلی قیادت اس پر متفق ہے کہ تہران حکومت کو جوہری ہتھیاروں کے تعاقب سے دور رکھنے کے لیے موجودہ معاہدہ انتہائی کارآمد ہے ۔ اس بیان کے اجرا سے قبل برطانوی وزیر اعظم نے فرانسیسی صدر امانوئل میکرون اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی تھی۔ اس گفتگو میں تین رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ گو کہ جوہری معاہدہ ہی سب سے بہتر حل ہے تاہم اس کے دائرہ کار میں ترمیم و توسیع کی ضرورت ہے ۔ لندن سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ طے کیا جانا لازمی ہے کہ چھ عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ معاہدے کی مدت کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا۔ علاوہ ازیں معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے انسداد اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے میں ایران کے مبینہ کردار جیسے مسائل کا حل تلاش کیا جانا بھی ناگزیر ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق تینوں ممالک ایران سے لاحق خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب وہ ڈیڈ لائن قریب ہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈیل پر عملدرآمد کو جاری رکھنے یا اسے ترک کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے ۔ صدر ٹرمپ مئی میں یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ متنازعہ جوہری سرگرمیوں کو ترک کرنے کے بدلے میں ایران پر سے ہٹائی گئی اقتصادی پابندیوں کو بحال کیا جائے یا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کو کئی مرتبہ تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔یواین آئی