چھیڑ چھاڑ تباہ کن نتائج کی حامل :حکیم

سرینگر//آئین ہند کی دفعہ 35اےکو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ صدر حکیم محمد یاسین نے خبردار کیا ہے کہ اس دفعہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ تباہ کن نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔اپنے ایک بیان میں حکیم یاسین نے کہاکہ دفعہ35Aجموں وکشمیر کے عوام کی خصوصی شناخت کیلئے ایک آئینی ضمانت ہے ۔تمام مثبت خیالات لوگوں اور سول سوسائیٹی کو ریاستی و ملکی سطح پر متحد ہوکر 35Aکے دفاع کیلئے آگے آنا چاہئے ۔مین اسٹریم سیاست دانوں اور سول سوسائیی کو اس اشو پر ایک متحدہ موقف سامنے لانا چاہئے تاکہ1953سے قبل کی پوزیشن کی بحالی کا مطالبہ سامنے رکھا جائے بجائے اس کے صرف دفعہ35Aکو ہی صرف دفاع کیا جائے ۔حکیم یاسین نے کہاکہ دفعہ35Aکے خلاف دائر عرضیوں کو ماضی میں بھی تین مرتبہ سپریم کورٹ کی جانب سے خارج کیا گیا کیونکہ اس دفعہ کو ایک مضبوط آئینی بنیاد فراہم ہے ۔انہوں نے کہاکہ دفعہ35A کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ریاست کی پہلے سے ہی خراب صورتحال میں جلتی پر تیل کا کام کرے گا ۔دفعہ370اور35Aکو آئینی پوزیشن حاصل ہے اور یہ کشمیراور نئی دلی کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔اسکے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ دلی اور ریاست کے درمیان رشتوں کیلئے منفی نتائج سامنے لائے گا۔جموں ،کشمیر اور لداخ کے عوام دفعہ35Aاور370کے تحفظ کیلئے کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں جو ریاست جموں وکشمیر کو بھارت میں ایک خصوصی پوزیشن فراہم کرتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دفعہ35Aکے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھار نہ صرف ریاست بلکہ ملکی سطح پر بھی منفی نتائج سامنے لاسکتا ہے ۔۔ریاست میں مزید خون خرابے کو روکنے کیلئے خصوصا واد کشمیر میں ،یہ لیڈروں پر ضروری ہے کہ وہ ایک جگہ جمع ہوں اور اس طرح کے اقدامات کی مخالفت کریں ۔پی ڈی ایف سربراہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان فرقہ پرست عناصر کو قابو کریں جو کہ بیرون ریاست اور جموں میں کشمیریوں پر حملے کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں پتھرائو کے الزامات کے تحت کتنے ہی شہریوں پر سیفٹی ایکٹ نافذ کیا گیا لیکن کشمیر سے باہر اس طرح کے عناصر سے کیوں نہیں نپٹا جارہا ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کے ارکان کیخلاف گرفتاری مہم پر بھی سوال اٹھائے ۔انہوں نے کہاکہ جماعت ممبران کی گرفتاری اس وقت پیش آئی جب مرکز نے100اضافی فورسز کمپنیاں کشمیر روانہ کیں۔عدم اعتماد او انارکی کی سورتحال پیش کی جارہی ہے ۔اب تک علیحدگی پسندوں کو گرفتار کیا جارہا تھا لیکن اب جماعت اسلامئی لیڈران اور ارکان کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔۔اس سے صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی ہے َ