عظمیٰ نیوز سروس
دہلی //بارڈر روڈز آرگنائزیشن ( بی آر او) کے سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل راگھو سری نواسن نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور انہیں چترگالہ ٹنل پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ ادھم پور-کٹھوا-ڈوڈہ لوک سبھا حلقہ میں آنے والے دیگر سڑک اور پل کے پروجیکٹوں کے بارے میں جانکاری دی۔ادھم پور-کٹھوا-ڈوڈہ لوک سبھا حلقہ میں گزشتہ نو سالوں میں سڑک اور پل کی تعمیر میں بے مثال پیش رفت ہوئی ،ان میں قابل ذکر بسوہلی میں اٹل سیتو، کٹھوعہ میں کیڈیان گڈیال اور جوتھانہ پل، ادھم پور میں دیویکا پل، نیا ڈوڈہ میں کھلانی-مرمت سے سدھماہادیو، کلجوگر ٹنل وغیرہ شامل ہیں ۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ چترگالہ ایک تاریخی تاریخی منصوبہ ہے جو دو دور دراز علاقوں کے درمیان ہمہ موسمی متبادل سڑک رابطہ فراہم کرتا ہے اور ڈوڈہ سے لکھن پور تک کے سفر کے وقت کو صرف چار گھنٹے تک کم کرتا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے عوامی نمائندوں کی درخواست یا عوام کے مطالبے پر گزشتہ ساڑھے 9 سالوں میں اپنے لوک سبھا حلقہ میں زیادہ سے زیادہ پروجیکٹوں کو شروع کرنے اور مکمل کرنے کے لئے بی آر او کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار، بی آر او نے بین الاقوامی سرحد (آئی بی) پر زیرو لائن تک سڑک کے رابطے کو مکمل کیا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اکیلے کٹھوعہ ضلع میں سات بی آر او پلوں کا ای-افتتاح کیا تھا،جن میں جنتریہ، کونیالی-I، کونیالی-II، چناب بڑی، پکا کوٹھا، چلہ نالہ شامل تھے اور بینادی انہوں نے کہا کہ ان میں سے بینادی پل صرف 90 دنوں میں تعمیر کیا گیا ۔اس دوران چترگالہ ٹنل کے بارے میں ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، وہ طویل عرصے سے اس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے لیکن مالی، ٹپوگرافیکل اور کووڈ سمیت دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم سرنگ ضلع کٹھوعہ کو ضلع ڈوڈہ سے جوڑ دے گی نئی شاہراہ بسوہلی بنی کے راستے چٹرگالہ سے ہوتی ہوئی بھدرواہ اور ڈوڈہ جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی منصوبہ ہے جو دو دور دراز علاقوں کے درمیان ہر موسم میں متبادل سڑک رابطہ فراہم کرئے گا اور ڈوڈہ سے لکھن پور تک کا سفر بھی کم ہو جائے گا ۔چترگالہ پروجیکٹ میں 6.8 کلومیٹر لمبی سرنگ کا تصور کیا گیا ہے جس کے لئے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) کے ذریعے فزیبلٹی سروے پہلے ہی کرایا جا چکا ہے اور BEACONS جو کہ بی آر ائو کے تحت ایک ایجنسی ہے، کے ذریعے ایک مشق شروع کی گئی ہے۔ اس سرنگ پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد اسے مکمل ہونے میں تقریباً 4 سال لگنے کا امکان ہے اور اس کی تعمیراتی لاگت تقریباً 2000 کروڑ روپے ہے۔بی آر او سربراہ نے بتایا کہ بی آر او نے روڈ سرتھل چترگالہ کو سنگل لین سے ڈبل لین تک ترقی دینے کا کام شروع کیا ہے جس میں 16 پلوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ کل 165.85 کلومیٹر سڑک میں سے، تقریباً 137 کلومیٹر پر بلیک ٹاپ کر دی گئی ہے۔ بی آر او کی جانب سے چتر گالہ تک 28 کلومیٹر کے بیلنس روڈ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس سڑک کی تعمیر سے سرتھل، چتر گالہ اور گڑیڈانڈہ کے دور دراز سیکٹر سمیت علاقے کی سیاحتی صلاحیتوں کو کھلے گا۔ درحقیقت، سڑکوں کو اعلیٰ ترین معیار پر برقرار رکھنے اور برف صاف کرنے کے جدید آلات کی تعیناتی کے ساتھ بی آر اوکی مسلسل کوششوں کی وجہ سے خطے میں سیاحت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بی آر او چیف لیفٹیننٹ جنرل سری نواسن کوچتر گالہ پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کیں ۔انہوں نے کہاکہ چتر گالہ کٹھوعہ اور ڈوڈہ اضلاع کے لئے ایک اہم رابطہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
چتر گالہ ٹنل پروجیکٹ اور ادھم پور پارلیمانی حلقہ میں سڑکوں کی تعمیر