پی ڈی پی نے وادی کوتباہی کے سوا کچھ نہ دیا

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پیپلزڈیموکریٹک پارٹی پر ریاست خاص طور سے وادی کو تباہی ،بربادی ،ظلم وجبراورسختی کے سوا کچھ نہ دینے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کے دوران جہاں ریاست سے افسپا ہٹانے کے مطالبے نے زورپکڑاتھا وہیں آج اس معاملے پربات کرنا بھی بے مقصد ہے۔پلوامہ راجپورہ میں پارٹی کے اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے امیدوار جسٹس حسنین مسعودی کے حق میں چنائو ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کے دوران درجنوں بنکرہٹائے گئے لیکن محبوبہ مفتی کی حکومت میں ماضی سے زیادہ بنکر بنائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے وادی میں فوج کی تعدادمیں کمی لائی تھی لیکن محبوبہ نے وادی کوفوجی چھائونی میں تبدیل کیا۔ پی ڈی پی کی طرف سے بھاجپا کیساتھ عوامی منڈیٹ کے خلاف جاکر اتحاد کرنے کو موجودہ حالات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ آج یہاں ہر روز کریک ڈائون، گرفتاریاں،  چھاپے،  انکائونٹر، کسی نہ کسی گھر میں ماتم ہوتا ہے۔ 2015تک تو ایسا بالکل بھی نہیں ، آخر کیا بدل گیا؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 2014کے انتخابات میں زور شور سے انتخابی مہم چلی اور کافی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ آج کے حالات دیکھئے ،جہاں 2014میں 30یا40فیصد ووٹ ڈالے گئے وہاں آج 5فیصد پولنگ بھی نہیں ہوئی، الیکشن مہم کا حال بھی آپ کے سامنے ہے۔ 2014کے انتخابات میں پی ڈی پی نے بھاجپا خلاف ووٹ مانگے اور جنوبی کشمیر نے قلم دوات جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں دیں، لیکن لوگوں نے پی ڈی پی کو بھاجپا کیساتھ اتحاد کرنے کیلئے نہیں بلکہ بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے ووٹ دیئے تھے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی نے یہاں کے حالات کو اس قدر بدتر بنا دیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہمیں ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے انتخابی مہم ختم ہونے سے چار دن پہلے ہی کچھ اُمیدوار میدان چھوڑ کر چلے گئے جن میں محبوبہ مفتی بھی شامل ہے۔  انہوں نے کہا  ’’ہماری آنے والے لڑائی آسان نہیں، جن طاقتوں سے ہمارا مقابلہ ہے، اُن طاقتوں نے پہلے ہی اپنا منشور آپ کے سامنے رکھا ہے، وہ جموں وکشمیر کی شناخت، جموں وکشمیر کی پہچان اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن سے پریشان ہیں، وہ اس بات سے پریشان ہیں یہاں دفعہ370اور 35اے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح آئین تبدیل کرکے جموں وکشمیر ملک کیساتھ مکمل ضم کیا جائے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموںوکشمیر کا الحاق مشروط ہوا۔ ہماری ریاست نے الحاق سے پہلے بات چیت کی، معاہدے پر دستخط کئے اور اپنے لئے خصوصی پوزیشن حاصل کی۔ ہماری ریاست باقی ریاستوں کی طرح ملک میں بلا مشروط گل مل نہیں گئی۔‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ان طاقتوں کا مقابلہ ہمیں سڑکوں پر، عدالت میں اور پارلیمنٹ میں بھی کرنا ہے اور اس کیلئے ہمیں بہترین اُمیدوار چُننا ہوگا۔ کانگریس کے اُمیدوار پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جتنا زیادہ نقصان ریاست کی خصوصی پوزیشن کو کانگریس نے پہنچایا ہے اُتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا، کس طرح شیر کشمیر کو گرفتار کرنے کے بعد کانگریس نے خصوصی پوزیشن کو کھوکھلا کیا۔