پی ایچ ڈی کی اہمیت اور معنویت

یہ بات اظہر من شمس ہے کہ ملک میں سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی کثیر تعدادموجود ہے، جن میں تعلیمی مراکز سر فہرست ہیں۔ہر گائوں میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اسکول،ہر قصبہ میں ایک ایک،دو دو  ہائیر اسکینڈری اسکول اور ہر شہر میں مختلف کالج اورہر ریاست میں دو دو،تین تین یونیورسٹیاں قائم ہیں۔اس سے بڑی خوش آئند بات کیا ہو سکتی ہے۔ملک کی جامعات تحقیق کے ذوق کو پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ چونکہ دورِ جدید میں نت نئے چلینجز اور درپیش مسائل کے حل کے لیے ’تحقیق ‘ کے بغیر کوئی چارہ کار نہیںہے۔کسی بھی چیز کی اہمیت کا اندازہ اس کی ضرورت سے ہوتا ہے اور عصرِ حاضر میں انسان کی ضروریات دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔اس لیے مختلف شعبوں میں ضروریات کے پیش نظر ’تحقیق‘ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔لیکن گلہ اس بات کا ہے کہ ملک کو آزاد ہوئے ۷۵ سال ہوگئے اور تعلیمی مراکز کا نصاب اب بھی وہی ہے جو انگریز پیچھے چھوڑگئے تھے۔تحقیق کی نوعیت بھی بالکل ویسی ہی ہے۔بہر حال ملک کا تعلیمی نظام جیسے تیسے روایتی طرز پرچل رہا تھا کہ سال۲۰۱۹ء آگیا اورکورونا مہاماری نے بچی کھچی کسر پوری کردی۔کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہوئے اور آنلائن تدریسی عمل شروع ہوا۔ظاہر سی بات ہے کہ آنلائن طرز تعلیم آف لائن کی جگہ اگر لیے بھی سکتا ہے تو وہ فائدہ نہیں دے سکتا جو کلاس روم میں بیٹھ کر طالبِ علموں کی ایک مخصوص تعدادکے بیچ ،مدرس کے سامنے والاطرزِ تعلیم ایک طالب علم کو دے سکتا ہے۔ بہر حال قدرتی آفات جب آتی ہیں تو تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتی ہیں۔
راقم کاموضوع چوں کہ  پی۔ایچ ۔ڈی کے حوالے سے ہے، لہٰذا موضوع کی مناسبت سے بات کریں گے۔اور میرا مقصد پی۔ایچ ۔ڈی کرنے والوں کی تذلیل نہیں بلکہ چند تلخ حقائق سے ان کو اور پالیسی میکرس کوروشناس کرانا ہے۔اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے HRD Ministry اور U.G.Cفیصلے صادر کرتے ہیں اور رقومات بھی واگزار کرتے ہیں۔گزشتہ کئی سالوں سے اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان میںریسرچ کی شرح نہایت کم ہے ،اس لیے اپنا اسٹنڈارڈ بہتر بنانے کے لیے ان اداروں نے پی۔ایچ ۔ڈی ڈگری کولازمی ٹھہرایا اور پی۔ایچ۔ڈی کو اکیڈمک سطح پر پوائنٹس بڑھا کراہمیت دی گئی،جو کہ ایک حوصلہ بخش قدم ہے۔ملک کے مختلف اطراف میں اب پی۔ایچ۔ڈی امیدواروں کی کثرت میںآئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ماضی کے تجربے کی بنیاد پر پی۔ایچ۔ڈی کے حوالے سے یہ بات قارئین کرام کے گوشہ گزار کرنا چاہوں گا کہ۸۰ کی دہائی سے اب تک ملک میں کرپشن اپنے عروج پر ہے اور ضمیر فروشوں،انّا پسندوں اور خود غرض لوگوں نے شعبہ تعلیم کو بھی نہ بخشا۔نوجوان نسل نے شوق کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے پی۔ایچ۔ڈی ڈگریاں حاصل کیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ یہ اعلیٰ ڈگری ملک کے کچھ کام آسکے مگر افسوس معاملہ کچھ الٹا ہے۔یہاں بھی مڈل ایسٹ کی طرح جس کے پاس پی۔ایچ۔ڈی ہو اس کوموٹی موٹی تنخواہیں واگزار کی جائیں گی،کی روش عام ہے۔جس طرح عرب اور دیگر عربی ممالک امریکی اور یوروپی لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے ایسا کرتے تھے اور خود کو تعلیم کے میدان میں پیش پیش ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل ویسا ہی یہاں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔عرب ممالک کا حال تو ہم سب کو معلوم ہے۔ بنیادی تعلیم اور اساتذہ کے ساتھ جو انہوں نے سلوک کیا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش سے ٹیچر حضرات جو پڑھانے کی غرض سے جاتے تھے، ان کی تنخواہوںپر وہاں کے ٹیکسی ڈرائیور تک ہنستے تھے۔اتنا ہی نہیں بلکہ ان اساتذہ صاحبان کو اپنے بیوی بچوں کو بُلانے تک کی اجازت حاصل نہیں تھی۔یہ وقت اَن پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک سوچ دے گیا بس پی۔ایچ ۔ڈی کرو اور تمہارے سارے مسائل حل۔عرب ممالک اپنا تعلیمی نظام تو صحیح نہ کرسکے البتہ تیل کے پیسے کے بل بوتے پرپی۔ایچ۔ڈی والوں کی فوج کھڑی کردی۔یہی وجہ ہے جس نے تیسری دنیا کے ممالک کے لوگوں کو آناً فاناًپی۔ایچ۔ڈی حاصل کرنے پر مجبور کیا۔
ہمارا تعلیمی نظام جو بین الاقوامی سطح پر ایک فلاپ شو ہے۔چاہے سرکاری ادارے ہوں یا غیر سرکاری ادارے۔ہمارے بچوں کو گریڈ حاصل کرنے کی تلقین کی جاتی ہے اور گریڈ کم ہونے کی صورت میںان پرطرح طرح کے طعنے کسّے جاتے ہیںجبکہ امریکہ اور یورپ میں تو ہماری ڈگریوں کو مانتے ہی نہیں اور یہاں کے اہلِ دانش طلبا کوبے مقصد مقابلوں میں ڈالتے ہیں۔زیادہ بڑی ڈگری اور بڑی تنخواہ کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔آج کا نوجوان نیا اسمارٹ فون استعمال کرتا ہے لیکن اپنے پرانے خیالات سے باہر نہیںآجاتا ہے۔تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ایک بیوروکیٹ نئے جذبے سے دفتر جاتا ہے مگر کرسی پر بیٹھ کر  اپنی انّا میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔اب اگر بیرون ملک سے کوئی بیوروکریٹ کوئی نئی ڈگری لے کر آتا ہے اور کچھ نیا کرنے کی سوچتا ہے تو اس کو روک دیا جاتا ہے۔ہاں البتہ نئے ماڈل کی گاڑیوں پر بحث اور ان کے استعمال پر وقت ضرور صرف کیا جاتا ہے۔۱۹۴۷ء سے اب تک کسی نے اس بیوروکریسی پر پی۔ایچ۔ڈی نہیں کی اور اگر کی بھی تو کیا راز فاش ہوئے اور کیا نئی جہتیں تلاش کیں۔یہ وہ سوالات ہیں جو ملک کے ہر فرد کے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ہمارا کسان جدید ٹیکنالوجی سے مدد لے کر فصلوں میں آئے روز اضافہ کرتا ہے اور ہمارے طلبا و طالبات ابھی بھی نامعلومات موضوعات پر پی۔ایچ ۔ڈی کر نے والے ڈیڑھ سے دو لاکھ مہینے کے حق دار پاتے ہیں۔بیچارا کسان پورا دن دھوپ میں مشقت کرتا ہے اور اسے پنکھابھی نصیب نہیں ہوتاجبکہ ہمارے  پی۔ایچ۔ڈی حضرات ٹھنڈے ماحول میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔جس نے زندگی میں ایک مرتبہ کوئی مقالہ لکھ دیا تو زندگی بھر کا سکون ہوگیا۔دنیا کی طرف دیکھئے ۔آج یورپ ار امریکہ کے اسکالر تین تین ، چار چار پی۔ایچ۔ڈی کر لیتے ہیں ۔اسی پر ان کا بس نہیں چلتا بلکہ ان لوگوں کو کچھ نیا کرنے کی لگن کبھی امریکہ کے جنگلوں میں لے جاتی ہے اور کبھی انٹارکٹکا کے برفیلے پہاڑوں کی سیر کراتے ہیں۔سیرسے مطلب یہ نہ لیں کہ ہماری سیربلکہ اس برف کو مانپنے کے لیے وہ سیر کرتے ہیں۔اس بات کو کہنے میں مجھے ذرا بھی عار نہیں ہے کہ ہمارے پی۔ایچ۔ڈی صاحبان اے۔سی کمروں میں سوفے پر براجمان ہوں گے۔ان میں سے کوئی بھی ریگستانوں ،جنگلوں یا سمندروں کی لہروں کو پرکھنا تو دور چند منٹ دھوپ میں گزارنے کی سکت تک نہ رکھتا ہو گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ہم زندگی کے ہر شعبے میں مغربیت کو اپنا چکے ہیں تو کیا یہاں مغربیت کو اپنانا شجرِ ممنوع ہے۔ ایسا پی۔ایچ ۔ڈی کریں جو ملک و قوم کو کچھ فائدہ پہنچا سکے ،چاہے پی ایچ ڈی فُل ٹائم ہو یا پارٹ ٹائم ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سماجی و لسانی علوم میں بھی پی۔ایچ۔ڈی کا معیار بہت بلند ہونا چاہیے لیکن یو۔جی۔سی اور دیگر متعلقہ تنظیموں اور اداروںکو زیادہ توجہ سائنس و ٹیکنالوجی پر مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ملک ایک خوشحال اور ترقی یافتہ مملکت کے طور پر ابھرسکے ۔ہم بھی  ایسے پی۔ایچ۔ڈیز تیار کریں جو امریکہ اور یورپی ممالک کر رہے ہیں۔اس کے لیے ان اداروں کو چاہیے کہ جتنے بھی تحقیقی کام ملک کی مختلف جامعات میں ہو رہے ہیں ان کا معیار پرکھیں اور جو پی۔ایچ۔ڈی  ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں اور مختلف آفسوں میں بیٹھ کر مزے لے رہے ہیں،ان کو ایسا کام سونپے جو ملک کی ترقی اور نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ کا کام کرسکے۔ورنہ کون واقف نہیں کہ آج بھی مختلف سرکاری دفاتر میں چوری اور جعل سازی سے حاصل کرنے والے کتنے پی۔ایچ۔ڈی ڈگری والے مزے لے رہے ہیں۔ خاص کر اعلیٰ تعلیمی مراکز یا محکمہ میں ایسے اَن گنت معاملات ہیں ۔اس سب کو دیکھنے کی ذمہ داری یو۔جی۔سی اور یونین ایچ۔آر ۔ڈی منسٹری کا ہی نہیں ہے بلکہ ملکی سطح پر کام کررہے مختلف اداروں اورپوری قوم کی بھی ہے جو باریک بینی سے اس کا مشاہدہ کریں۔ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیںکہ ماضی کے پی۔ایچ۔ڈی جو فلاسفی سے ہٹ کر معاشی مجبوری بن گئے تھے اور اس معاشی مجبوری کے سبب پھر کچھ صاحبان اسے چھیننے اورزبردستی ہتھیانے پر بھی مجبور ہوگئے ۔اسی ذہنیت نے پھر ان اداروں کو بھی جنم دیا جہاں مجرمانہ ذہنیت اور احساس ِ کمتری کے شکار لوگ اکٹھے ہوتے گئے۔ ایسی ذہنیت اور احساسِ کمتری کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام اکیلے چند ادارے نہیں کر سکتے بلکہ وہ جو پی۔ایچ ۔ڈی کر رہے ہیں، وہ بھی ان تمام غلط اور ناپاک کاموں سے اجتناب کریں جن سے پی۔ایچ ۔ڈی کا معیار گھٹ رہا ہے۔ایک ایسا منصوبہ بنانے کی بھی از حد ضرورت ہے جس سے بین الاقوامی سطح پرہمارے پی۔ایچ۔ڈی کو وہ مقام ملے جو مغربی ممالک کے پی۔ایچ۔ڈی والوں کو حاصل ہے۔
(ساکنہ:  فرصل ،کولگام  ۔فون نمبر :  9906638397)