جموں+بنی // محکمہ پی ایچ ای کے عارضی ملازمین نے اپنے مطالبات کی حمایت میں جموں اورکٹھوعہ ضلع کی تحصیل بنی کے علاوہ دیگرعلاقوں میں 72 گھنٹوں کی کام چھوڑ ہڑتال کا آغازکردیاہے۔اس دوران جموں میں ریلی نکال کراپنی مانگوں کے حق میں نعرے بازی کی گئی اورحکومت سے مانگوں کوپوراکرنے پرزوردیاگیا۔بنی میں ہڑتال پربیٹھے عارضی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین اپنے فرائض کو تندہی سے انجام دیتے ہیںلیکن اچھاکام کرنے کے باوجودانہیں گزشتہ 55 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہو نے سے ملازمین کے کنبے فاقہ کشی کے شکارہیں۔سراپااحتجاج ملازمین نے کہاکہ حکومت کے پاس ملازمین کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اور ہر بار کی طرح ریاستی حکومت یقین دہانی کر کے ملازمین کے ساتھ کیے وعدے بھول جاتی ہے اور محکمہ پی ایچ ا ی کے ڈیلی ویجر سراپا احتجاج ہیں ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انکے مطالبات کو جلد پورا نہیں کر تی وہ اسطرح سے کام چھوڑ ہڑتال کو جاری رکھیں انھوں کہا کہ موجودہ گورنر سے کافی تھی لیکن انھوں نے محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے محکمہ کے عارضی ملازمین میں کافی غم و غصہ پایاجاتاہے۔
ٹیچرس
جموں//ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے اساتذہ کی سلسلہ وار بھوک ہڑتال منگلوارکو مسلسل نویں روز بھی جاری رہی ۔ہڑتالی اساتذہ نے پریس کلب کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھا ۔اس موقعہ پر مقررین نے ریاستی حکومت کو سرو شکھشا ابھیان کے تحت لگائے گئے اساتذہ کی طرف سوتیلا سلوک روا رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ساتویں پے کمیشن سے محروم رکھنے کیلئے انتظامیہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ معماران قوم کو اس طرح ہڑتال کے لئے مجبور کرنا حکومت کی انتہائی بے حسی کی غماز ہے ۔ انہوں نے گورنر سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملازمین کی طرز پر اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی ادائیگی کے لئے پچھلے چار ماہ سے مسلسل جد و جہد کی جارہی ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر حکام اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں اور نتیجہ کے طور پر انہیں بھوک ہڑتال پر بیٹھنا پڑا ہے ۔واضح رہے کہ اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے اپنے مطالبات کو مبینہ طور پر نظر انداز کئے جانے کے خلاف آئندہ 5ستمبر کو یوم اساتذہ کی جگہ یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے ۔یہ اساتذہ جہاں ساتویں پے کمیشن کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں مرکزی اعانت والی اسکیم سروس شکھشا ابھیان SSAکے تحت تعینات اساتذہ کی تنخواہیں مرکزی بجٹ سے ڈی لنک کر کے انہیں ریاستی بجٹ سے منسلک کرنے کے خواہاں ہیں۔ اساتذہ کی دلیل ہے کہ جہاں انہیں دیگر ریاستی ملازمین کی طرز پر تمام تر مراعات دی جا رہی ہیں، پانچواں اور چھٹا پے کمیشن بھی نافذ کر دیا گیا ہے تو ساتویں پے کمیشن کے اطلاق میں کیا اڑچن ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی حال ہی میں رہبر تعلیم فورم کے بینر تلے آر ای ٹی پانچ روزہ دھرنا پر تھے تو ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نامی تنظیم کے نمائندے پچھلے تین روز سے سلسلہ وار بھوک ہڑتال پر ہیں۔
ملٹی پرپزہیلتھ ورکرس
جموں// محکمہ صحت میں مستقل بنیادپر تعینات ملٹی پرپز ورکرس (ایم پی ڈبلیو) عرصہ دراز سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔اس سلسلہ میں ملازموں کی جانب کام چھوڑ ہڑتال شروع کی گئی ہے جو جمعہ کے ر وز بھی جاری رہی ۔ان ورکروں کے مطابق وہ پچھلے کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور اس وجہ سے ان کے معمولات زندگی بالکل متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ احتجاج کے دوران انہوںنے کہاکہ یہ پہلی بار نہیں کہ انہیں اتنے ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس سے قبل بھی محکمہ ان کو کئی کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھ کر ان کے لئے پریشانی کھڑی کرتا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اپنا کام پوری لگن اور ایمانداری سے انجام دیتے ہیںلیکن اس کے عوض ان کی تنخواہیں ہی روک دی جاتی ہیں۔مقررین نے کہا کہ ملازموں کا سارا دارو مدار ان کی ماہوار تنخواہوں پر ہوتا ہے اور جب ان کی یہ تنخواہیں روک دی جاتی ہیں تو ان کے گھروں کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ چولہے بھی نہیں جل پاتے ۔انہوں نے ریاستی سرکار خصوصی طور پر وزیر صحت سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت کے ایم پی ڈبلیو ملازموں کی بقایا جات واگذار کریں اوراس بات کو یقینی بنایاجائے کہ مستقبل میں کبھی انہیں تنخواہوں کیلئے پریشان نہ ہوناپڑے ۔
کنٹریکچول لیکچرار
جموں//کنٹریکچول لیکچراروں(10+2) کی طرف سے مطالبات کے حق میںبھوک ہڑتال 571ویں دن بھی جاری رہی۔کنٹریکچول لیکچراروں نے جمعہ کے روزبھی شدیدگرمی کے دوران نمائش گرائونڈ کے باہر احتجاج کررہے تھے ۔اس دوران سراپااحتجاج عارضی لیکچرار خدمات کی مستقلی خصوصی قانون 2010 کے تحت کرنے کامطالبہ کررہے تھے۔اس قانون کے تحت سات سال مکمل کرچکے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے کہاگیاہے۔10+2 کنٹریکچول لیکچرارز فورم کے صدر ارون بخشی نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت کے آرڈر نمبر 1584 edu آف 2003 اور آرڈر نمبر 1328 آف جی ا ے ڈی کے تحت تعینات کئے گئے عارضی لیکچراروں کی خدمات نیاحکمنامہ جاری ہونے تک جاری رکھی جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔سراپااحتجاج خواتین لیکچراروں نے کہاکہ حکومت پیارکی زبان نہیں بلکہ پتھرکی زبان سمجھتی ہے۔مظاہرین نے کہاکہ یہ کیسی حکومت ہے جوایک طرف عالمی یوم خواتین منانے کیلئے تقاریب کااہتمام کرتی ہے اورساتھ ہی بیٹی۔بچائو۔بیٹی پڑھائو سکیم کے تحت لڑکیوں کی ترقی کے دعوے کرتی ہیں لیکن دوسری طرف لڑکیوں کواپنے حقوق کیلئے سڑکوں پرآکر احتجاج کرنے پرمجبورکیاجارہاہے۔ ارون بخشی اورلیکچرارفورم کے دیگرعہدیداران نے کہاکہ ہمارے کچھ ساتھی گذشتہ 14 فروری سے فاسٹ ان ٹو ڈیتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھاہوا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی بھی نمائندہ کنٹریکچول لیکچراروں کی خبرگیر ی کرنے نہیں آیاہے جوکہ باعث تشویش بات ہے۔ مقررین نے کہاکہ اگر حکومت نے ہماری مانگوں کوپورانہیں کیاتو بھوک ہڑتال پربیٹھے کسی بھی ساتھی کی صحت خرابی یاکوئی ناخوشگوارواقعہ ہونے کیلئے حکومت ذمہ دار ہوگی۔انہوں نے کہاکہ جب تک مانگیں پوری نہیں ہوں گی تب تک احتجاج جاری رکھاجائے گا۔