پینے کے پانی کی قلت، بانڈی پورہ اورپلوامہ کی کئی بستیاں سراپا احتجاج

بانڈی پورہ+پلوامہ //ضلع بانڈی پورہ کی دور دراز گجر بستیوں میں حالیہ برف باری سے گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پینے کے پانی کی قلت سے گجر آبادی کو پانی کی بوند بوند کیلئے ترسنا پڑتا ۔ کوٹا ستھری ،شمتھن، سملر، آرہ گام گجر پتی ،پانار پٹھکوٹ، چھانہ دجی قوئل مقام اورملنگام بینلی پورہ آلوسہ کی بستیوں میں رہائش پذیر لوگوں نے ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ کو اس ضمن میں یادداشت پیش کرنے کیلئے پہنچے تو وہاں ڈپٹی کمشنر موصوف کوجب دفتر میں نہیں پایا تو مایوس ہوکر واپس لوٹے ۔ادھربانیاری مقدم یاری حاجن مدون سودنارہ ،عشم ،چندرگیر شلوت سوناواری کے لوگوں نے بتایا کہ انہیں پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے سخت مشکلات درپیش ہیں۔پلوامہ کے درجنوں علاقوں میں پانی کی قلت نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں نے ٹھٹھرتی سردی کے باوجود محکمہ پی ایچ ای کے خلاف مظاہرے کئے۔سی این ایس کے مطابق وٹھورہ پلوامہ کے لوگوں نے دوران احتجاج محکمہ پی ایچ ای پر الزام عائد کیا کہ آٹھ سال قبل اس گائوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ایک اسکیم تعمیر کی گئی لیکن کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجودمحکمہ لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ اس ضمن میں انہوں نے ایگزیکٹو انجینئر پلوامہ سے رابطہ بھی قائم کیا لیکن کوئی دادرسی نہیں ہوئی۔ادھر پلوامہ کے ہی پی ایچ ای سب ڈیویژن ٹہاب سے وابستہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو لیکر سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔پانی کی قلت کا شکار علاقوںنے محکمہ پی ایچ ای کے خلاف زوردار مظاہرے کرکے ریاستی گورنر انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔