پہاڑی طبقہ کی ترقی کیلئے حکومت غیر سنجیدہ

 مینڈھر//پہاڑی سٹودنٹ یونین مینڈھر نے پہاڑی طبقہ کے لئے تین فیصد ریزرویشن کے معاملہ کو حل نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔یونین کاکہناہے کہ ریاستی گورنر کی طرف سے کئی ماہ قبل ریزرویشن کی فائل کو اعتراضات کے ساتھ حکومت کو واپس بھیجا گیا تاہم اس حوالے سے اس وقت تک حکومت کی طرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔یونین ارکان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے چند روز کے اندر پہاڑی طبقہ کی فائل کو تین فیصد ریزرویشن کے لئے واپس گورنر کو نہ بھیجا تو عید کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا جو رزیرویشن ملنے تک جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی فائل واپس گورنر کو پیش نہیں کی گئی جبکہ حکومت نے اسمبلی میں بل پاس کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ پہلے تو گورنر کو اسمبلی سے بل پاس ہونے کے بعد اس فائل پر اعتراضات ہی نہیں کرنے چاہئے تھے تاہم اگر اعتراضات کئے گئے تو ان کا حکومت کو وقت پر جواب دیناچاہئے تھا جو اس وقت تک نہ دے کر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجارہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت وقت گزاری سے کام لے رہی ہے اور اسے پہاڑی طبقہ کی فلاح و بہبود کی کوئی پرواہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی طبقہ کو صرف ووٹ بنک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور الیکشن کے وقت ہر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے بڑے بڑے اعلانات کئے جاتے ہیں لیکن اب وہ وقت چلا گیا ہے کہ پہاڑی طبقہ کو ہر سیاسی جماعت ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرے۔ان کاکہناتھاکہ پہاڑی طبقہ کئی عرصہ سے ایس ٹی درجہ کی مانگ کررہاہے لیکن ریاستی حکومت وہ کام بھی نہیں کر سکی جو اس کے حد اختیار میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عید سے قبل فائل کو واپس گورنر کے پاس بھیج کر تین فیصد ریزرویشن دلائی جائے نہیں تو بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا اور سیکریٹریٹ کا گھیرائو کیاجائے گا۔ان کاکہناہے کہ ریزرویشن نہ ملنے کے باعثپہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے و الے بچے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور انہیں فیس کی ادائیگی میں بھی کوئی رعایت نہیں۔