کئی دہائیوں کی تگ ودو اور ہر ایک حکومت کی طفل تسلیوں کے بعد جموں وکشمیر میں پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 4 فیصد ریزرویشن دی گئی جس پر کافی جشن منائے گئے تاہم اب محکمہ سماجی بہبود نے پہاڑی ریزرویشن کیلئے سالانہ آمدن کی حد مقرر کرکے ایک بہت بڑی آبادی کو اس سے محروم کردیاہے ۔
پہاڑی ریزرویشن سرٹیفکیٹ بنوانے کیلئے انکم سرٹیفکیٹ چاہئے یا نہیں ،پر پائے جارہے تذبذب کے بیچ محکمہ سماجی بہبود نے آمدن کی حد مقرر کردی ہے جس کے مطابق اس ریزرویشن کا فائدہ انہی لوگوں کو ملے گاجن کی سالانہ آمدن 8لاکھ سے کم ہوگی ۔تاہم شیڈیولڈ ٹرائب اور شیڈیولڈ کاسٹ طبقہ کیلئے آمدن کی ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ۔محکمہ سماجی بہبود نے یہ وضاحت کی ہے کہ ریزرویشن ایکٹ 2004کا اطلاق پہاڑی زبان بولنے والے عوام پر بھی ہوگا اور اس ایکٹ کے سیکشن 2کی شق (o)کے تحت ریزرویشن کیلئے آمدن بنیاد رہے گی اور8لاکھ سے زائد آمدن رکھنے والوں کو یہ ریزرویشن نہیں ملے گی۔محکمہ کے مطابق ریزرویشن ایکٹ کی سیکشن 2میں سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ طبقوں کو ریزرویشن دینے کی وضاحت کی گئی ہے جبکہ اس کے سب سیکشن (o)میں یہ وضاحت درج ہے کہ پسماندہ طبقہ جات کے انہی افراد کو ریزرویشن کا فائدہ ملے جن کی تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن 8لاکھ سے زیادہ نہ ہو،لہٰذاریزرویشن کے جس ایکٹ کا اطلاق بقیہ پسماندہ طبقہ جات پر ہوتاہے وہی ایکٹ پہاڑی زبان بولنے والے عوام پر بھی نافذ ہوگا۔
یہ با ت قابل ذکر ہے کہ پہاڑی طبقہ کو 4 فیصد ریزرویشن کی فراہمی کیلئے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے ۔لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مر مو نے جموں وکشمیر ریزرویشن ایکٹ 2004کی شق 23اور معذور افراد کے حقوق قانون 2016کے تحت اختیار کا استعمال کرتے ہوئے20اپریل 2020کو ایس آر او 127جاری کیا جس میں جموں وکشمیر ریزرویشن رولز 2005میں ترمیم کو منظوری دی گئی اور اس ایس آر او کے تحت مختلف طبقہ جات کو ملنے والی ریزرویشن کی مکمل طریقہ کار اور تفصیلات واضح کی گئی ہیں ۔ایس آر او کے تحت پہاڑی طبقہ بھی اس سے مستفید ہو سکتا ہے اور اسے اسناد بھی اجرا کی جا سکتی ہیں لیکن اس میں کسی بھی جگہ پر یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ اس میں انکم سرٹیفکیٹ بھی ضرورت ہے ۔
پہاڑی زبان بولنے والے لوگوں کی شکایت ہے کہ ان سے اب انکم سرٹیفکیٹ مانگے جا رہے ہیں۔ انکم سرٹیفکیٹ کا تقاضہ کرنے پر پوری پہاڑی قوم پہلے سے ہی ناراض تھی اور اب محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے باضابطہ حکم جاری کردیئے جانے پر یہ ناراضگی اور بھی بڑھے گی ۔کچھ لوگ تو ریزرویشن کو ’’کھودا پہاڑنکلا چوہا ‘‘کے مصداق قرار دے رہے ہیں اور ان کاکہناہے کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ ریزرویشن انہیں زبان اور قبیلہ کی بنیاد پر دی گئی ہے یاپھر معاشی و سماجی ترقی کی بنیاد پر۔ان کاکہناہے کہ ریزرویشن کے وقت پہاڑی طبقہ کو ایک قبیلہ ماناگیاہے لیکن اب کیسے اسے آمدن کی شرط سے جوڑ دیاگیاہے جبکہ ریزرویشن رکھنے والے دیگر طبقوں پرایسی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی ۔
یاد رہے کہ20اپریل 2020کو حکومت کی طرف سے جاری آرڈر میں پی ایس پی سرٹیفکیٹ کی اجرائیگی کے لئے اہلیت واضح کی گئی تھی جس کے مطابق پہاڑی بولنے والے طبقے کے زمرے کے تحت 4فیصدریزرویشن فوائد حاصل کرنے کے لئے مذکورہ شخص پہاڑی طبقے سے وابستہ ہونا چاہئے اور اس کی مادری زبان پہاڑی ہونی چاہئے۔اس کے پاس قابل قبول آدھار کارڈ یا اقامتی سند ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں درخواست دہندہ کی درخواست قبول کرنے کا اختیار متعلقہ تحصیلدار کے پاس ہوگا۔اس میں کہیں بھی انکم سرٹیفکیٹ کا ذکر نہیں ہے۔
پہاڑی طبقہ برسوں سے یہ مانگ کر رہا ہے کہ انہیں شیڈول ٹرائب کا درجہ دیا جائے۔قابل ذکر ہے کہ پہاڑی زبان کو سابقہ ریاست کے آئین کے چھٹے شیڈیول میں شامل تھی لیکن وقت وقت پر برسراقتدار مرکز اور جموں وکشمیر کی حکومتوں نے اس طبقہ کو نظر انداز کیا اور اس اہم مطالبہ کی جانب کوئی بھی دھیان نہیں دیا گیا۔ ایس ٹی درجہ کی حصولی کیلئے پہاڑیوں کے کئی ایک وفود دہلی بھی گئے ،جبکہ اسکے کیلئے سال 1970 میں ’ پہاڑی کلچر اینڈ ویلفیئرفورم‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ۔ اس فورم کا باقاعدہ آئین بنا اور اس طرح جدوجہد کا آغاز ہوا۔اس کے علاوہ کئی ایک تنظیمیں بھی بنائی گئیں جنہوں نے قوم کے وقار کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی ۔ہر انتخابات میں پہاڑی عوام کا صرف یہی مطالبہ تھا کہ ان کو بھی شیڈول ٹرائب کا درجہ دیا جائے کیونکہ اس طبقہ کے لوگ بھی کافی پسماندہ ہیں ۔ 14اکتوبر 1991کو سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پہاڑی قوم کو شیڈول ٹرائب دینے کی سفارش مرکزی سرکار سے کی تاہم اس وقت دیگر کچھ طبقوں کو یہ درجہ مل گیا لیکن پہاڑی طبقہ نظرانداز ہوکر رہ گیا۔تب سے پہاڑی عوام نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ آنے والے انتخابات میں اسی پارٹی کا ساتھ دیں گے جو ان کا یہ مطالبہ پورا کروائے گی اور ایسا ہی ہوا ۔ہر ایک علاقے سے پہاڑی طبقہ نے اسی مطالبے پرامیدواروں کی حمایت کی اور انہیں کامیاب کروایا ۔ 26دسمبر1993کو جموں وکشمیر کے گورنر’کے وی کرشنا رائو نے سرکاری طور مرکزی وزیر برائے سماجی بہبود سیتا رام کیسری کو مکتوب لکھا جس میں پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کی پرزور سفارش کی گئی تھی۔ سال 2005کو آئے تباہ کن زلزلے کے بعد جب سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور اس وقت کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے اوڑی اور کرناہ کا دورہ کیا تو انہیں لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو شیڈول ٹرایب کا تردہ دیا جائے کیونکہ اس کیلئے وہ برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس دوران بھی لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی مانگوں کو پورا کیا جائے گا۔ سرحدی علاقہ کرناہ میں سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپئی نے بھی لوگوں کے مطالبہ پر یقین دہانی کرائی تھی جبکہ انہوں نے اس ضمن میں مرکزی وزارت سماجی بہبود کو مکتوب بھی لکھاجس میں انہوں نے اس جانب دھیان دینے کیلئے کہا گیا تھا ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ 2001میں جب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے تو ان کو بھی پہاڑیوں کے غضب کا شکار ہونا پڑا ۔پہاڑی طبقہ کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مرکزی سرکار سے پھر سفارش کی کہ پہاڑی طبقہ کی مانگ کی جانب خصوصی دھیان دیا جائے ۔ڈاکٹر فاروق کے بعد مفتی محمد سعید کی قیادت والی حکومت نے 2005میں اسمبلی سے یہ قرارداد پاس کرواکے دہلی روانہ کی تاہم اسے بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا۔یہی نہیں بلکہ جسٹس صغیر کمیٹی رپورٹ میں بھی پہاڑی قبیلہ کو ایس ٹی درجہ دینے کی سفارش کی گئی تھی ۔مرکزی سرکار کی طرف سے مقرر کردہ تین مذاکراتکاروں نے بھی اس مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے سفارش کی۔
سال2002میں ڈاکٹرسوشیل کمار اندورہ کی سربراہی والی لیبر اور ویلفیئر اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی حکومت سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ جموں وکشمیر میں حدمتارکہ کے نزدیک رہنے والے پہاڑی طبقہ کا طرز زندگی گوجربکروالوں جیسا ہے اور انہیں بھی ایس ٹی درجہ دیاجانا چاہئے۔ سال 2007میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے بھی حکومت سے کہاتھاکہ طبقہ کے اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کیاجائے،لیکن یہ مطالبہ کبھی پورا ہی نہیں ہوا ۔شیڈول ٹرائب کا درجہ دلانے میں ناکامی کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے فرزندعمر عبداللہ نے بطور وزیر اعلیٰ پہاڑی طبقہ کو نوکریوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے 5فیصد ریزویشن دینے کا فیصلہ کیا اور اس دوران سرینگر میں قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں اس بل کو بھاری ووٹوں سے منظوری ملی، لیکن بد قسمتی کہ اس وقت کے گورنر این این ووہرا نے اس پل سے متعلق کچھ خامیاں تلاش کرکے دستخط کرنے کے بجائے اس کو رد کر دیا ۔پھر سال 2018میں پی ڈی پی و بی جے پی سرکار نے جموں وکشمیر ریزرویشن ایکٹ 2004 میں ترمیم کے حوالے سے جموں کشمیر ریزر ویشن ترمیمی بل 2014 جموں میں قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جسے دونوں ایوانوں سے منظور کردیاگیا۔تب پہاڑی طبقہ کے لیڈران نے اپنی اپنی سیاسی وابستگی کا مد نظر رکھتے ہوئے اس پر سیاست شروع کی اورکرناہ سے لیکر پونچھ تک پہاڑی بولنے والے لیڈران کی چیف منسٹر دفتر جموں کے باہر لائنیں لگ گئیں ،کسی کے ہاتھ میں پھلوں کے گلدستے تھے تو کئی ایک ہار اٹھا کر پہنچتے تھے ۔کوئی اس وقت کے سماجی بہبود کے وزیرسجاد غنی لون کو ہار ڈال رہا تھا تو کوئی محبوبہ مفتی کی وا ہ واہ کر رہا تھا۔اس دوران بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی تھی کہ پہاڑی زبان بولنے والے لوگ پہلے مرحلے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ریزرویشن کا فیصلہ سنگ میل ثابت ہوگا اور اس سے ایس ٹی درجہ کے حصول کی راہ ہموار ہوگی کیونکہ اب مرکز کے پاس یہ درجہ نہ دینے کا کوئی بہانہ نہیں رہ گیا،لیکن کچھ ہی دنوں میں اس فیصلہ کی بھی ہوا نکل گئی اور گورنر نے پھر سے اس فائل پر اعتراض جتلاتے ہوئے اس میں کچھ ایک خامیاں نکال ہی لیں اور اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ۔تاہم گورنر ستیہ پال ملک کا دور آیا جنہوں نے پھر سے اس بل کو پاس کرا دیا اور اس کو منظوری دی تاہم جو معاملات رہ گئے تھے انہیں موجود لیفٹنٹ گورنرگریش چندرمر مو نے نمٹاتے ہوئے ریزرویشن کانوٹیفکیشن جاری کردیا۔تاہم اب محکمہ سماجی بہبود نے انکم سرٹیفکیٹ کی شرط مقرر کرکے رہی سہی کسر پوری کردی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پہاڑی طبقہ کے لوگ اسے ’’کھوداپہاڑ۔نکلاچوہا‘‘کے مصداق قرار دے رہے ہیں۔