پکڑ دھکڑ اور دھونس دبائو جاری:انجینئر رشید

سونہ واری// عوامی اتحاد پارٹی کے بارہمولہ پارلیمانی امیدوار انجینئر رشید نے وادی خاص طور سے جنوبی کشمیر میں نوجوانوں اور معزز افراد کی تھانوں پر طلبی کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سرکار کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسی بلا جواز کاروائیوں سے با ز آئے ۔ سنبل، شلوت، رمبیر گڑھ ، ترگام ، رہامہ رفیع آباد اور دیگر مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے  پولیس کی طرف سے پُر امن انتخابات کے نام پر جوانوں کی پکڑ دھکڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر جمہوریت خیالات کی جنگ ہے تو پھر پُر امن نوجوانوں کو بلا وجہ تھانوں پر بلا کر نظر بند کیوں کیا جا رہا ہے ۔کیا مین اسٹریم جماعتیں اسقدر بے وقعت ہو چکی ہیں کہ انہیں لوگوں کے سامنے جانے سے اس قدر ڈر لگ رہا ہے کہ ہر اُس آواز کو خاموش کر دیا جاتا ہے جو ان کے نقطہ نگاہ سے اتفاق نہیں رکھتی ہو ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پولیس اور سیول انتظامیہ میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنی پسند کی جماعتوں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کیلئے مختلف علاقوں میں اُن کے مخالفین کو کہیں سنگ باز تو کہیں شر پسند کہہ کر پابند سلاسل کر رہے ہیںلیکن انہیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ وہ کسی کا ضمیر یا کسی کی سوچ قید نہیں کر سکتیــ‘‘۔ انجینئر رشید نے انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ کی طرف سے نظر بند سیاسی قائدین کی جائیداد کو ضبط کرنے کی کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ سارا کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتقام گیری کے تحت کیا جا رہا ہے اور ایسی کاروائیوں سے نئی دلی کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ این سی اور پی سی پر مسلکی منافرت پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کے لیڈروں نے جان بوجھ کر لوگو ں کو پٹن اور سونا واری کے علاقوں میں تعمیر و ترقی سے محروم رکھا ہے اور صرف مسلکی منافرت کا سہارا لیکر اپنے محل بنا رہے ہیں ۔ انجینئر رشید نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان دونوں جماعتوں کی استحصالی سیاست کا شکار نہ بنیں اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں ۔