پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، آندھرا پردیش میں بائیں بازو کا احتجاج

 حیدرآباد //پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نامناسب اضافہ کا الزام لگاتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں نے اے پی کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا۔ وجئے واڑہ میں اس احتجاج کی قیادت سی پی آئی ، سی پی ایم کے لیڈروں راماکرشنا اور مدھو نے کی۔شہر کے پرانے بس اسٹینڈمیں بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنوں نے دھرنا دیااور اضافی شدہ قیمتوں کو فوری واپس لینے کامطالبہ کیا۔پولیس نے بائیں بازو کے لیڈروں اور احتجاجی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ضلع گنٹور میں بھی شنکر ولاس سنٹرکے قریب ایسا ہی احتجاج کیا گیا۔اننت پور ضلع کے فلائی اوور برج،نیلور کے آرٹی سی بس اسٹینڈ،پرکاشم ضلع کے مرکاپورم کورٹ سنٹر،کرنول کے کلکٹریٹ،مغربی گوداوری کے تناکو سنٹر پر بھی احتجاج کیاگیا۔وجئے واڑہ میں احتجاج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مدھو نے قیمتوں میں اضافہ پر مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی اورالزام لگایا کہ مرکزی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پٹرول کی قیمت 80روپئے فی لیٹر تک جاپہنچی ہے ۔انہوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو جی ایس ٹی کے تحت لانے کا بھی مطالبہ کیا۔راماکرشنا نے کہاکہ وزیراعظم انتخابی وعدوں کو فراموش کرچکے ہیں ۔انہوں نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔انہوں نے انتباہ دیا کہ قیمتوں میں کمی تک بائیں بازو کی جماعتوں کا احتجاج جاری رہے گا۔اس احتجاج میں جناسینا پارٹی کے کارکنوں نے بھی حصہ لیا۔یواین آئی