معاشرے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا:منوج سنہا
حسین محتشم +عشرت حسین بٹ
پونچھ//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے اتوار کو سرحدی ضلع پونچھ میں ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر‘ مہم کے تحت منعقدہ پدیاترا میں شرکت کرتے ہوئے منشیات فروشوں، سمگلروں اور نارکو ملی ٹینٹوںکے خلاف سخت ترین کارروائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو منشیات کی لعنت سے پاک بنانے کے لیے حکومت اور عوام کو متحد ہو کر ایک وسیع عوامی تحریک چلانا ہوگی۔پدیاترا کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ مہم مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تمام 20اضلاع کا احاطہ کر چکی ہے اور اس کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنا اور نارکو ملی ٹینسی کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’گزشتہ 57 دِنوں کے دوران میں نے جموں و کشمیر کے ہر ضلع کا دورہ کیا ہے اورلوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ ہمارے معاشرے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو سزا سے نہیں بچایا جائے گا۔ آج میں تمام شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایک روشن مستقبل کاچراغ جلائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پونچھ جیسے سرحدی اضلاع میں منشیات سمگلنگ ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے کیونکہ دشمن عناصر سرحد پار سے منشیات بھیج کر نوجوانوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملی ٹینسی کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔منوج سنہا نے کہا کہ آج پونچھ سے منشیات کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور آئندہ 43دنوں کے دوران ہر شہری، پنچایت، وارڈ، یوتھ کلب اور سماجی تنظیم کو اس مہم کا حصہ بننا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف سرکاری اداروں کی کوششیں کافی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متحد ہو کر منشیات فروشوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 57 دنوں کے دوران انہوں نے جموں و کشمیر کے ہر ضلع کا دورہ کیا اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ معاشرے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ عوامی بیداری، بحالی مراکز اور قانونی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’یہ میرا مسئلہ نہیں‘ جیسی سوچ منشیات فروشوں کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ اگر معاشرہ خاموش رہے گا تو منشیات کے نیٹ ورک مزید پھیلتے جائیں گے، اس لیے ہر شہری کو اپنی سماجی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچائیں تاکہ ان کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔انہوں نے مہم کے دوران حاصل کی گئی کامیابیوں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 57 روزہ مہم کے دوران منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف 1038ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ 1130سے زائد اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 63 افراد کو این ڈی پی ایس ایکٹ قانون کے تحت حراست میں لیا گیا جبکہ 100سے زائد جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں۔منوج سنہا نے کہا کہ مجرموں کی مالی اور سماجی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے لئے 700ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے جا چکے ہیں جبکہ 130پاسپورٹس کی منسوخی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نئے ایس او پی کے تحت منشیات اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں پاسپورٹ، آدھار کارڈ، اسلحہ لائسنس اور دیگر سرکاری دستاویزات کی منسوخی کے ساتھ ساتھ ان کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی ضبطی بھی شامل ہوگی۔لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں کو منشیات کے خلاف سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، کھیل اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کر کے نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ کلب مقامی سطح پر منشیات کے خلاف پہلی دفاعی لائن ثابت ہوں گے جبکہ خواتین کو اس مہم میں قیادت کا کردار دیا جائے گا تاکہ مائیں اور بہنیں ہر گاؤں کو منشیات سے پاک بنانے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیارات اور کھلی آزادی گئی ہے تاکہ ان کے دائرہ اختیار میں کوئی بھی منشیات فروش یا سمگلر سرگرم نہ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر طویل ضرور ہے لیکن نارکوملی ٹینسی کے ہر نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک یہ مہم مسلسل جاری رہے گی۔