سرینگر // ماحولیاتی چیلنجوں سے نپٹنے کیلئے جموں وکشمیر پولیوشن کنٹرول بورڈ لنگڑا گھوڑا ثابت ہو رہا ہے کیونکہ سرکار کی غفلت شاری کے نتیجے میں اس اہم ادارے میں افرادی قوت کی کمی کو پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔ کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ سال2017سے محکمہ پولیوشن کنٹرول بورڈ میں 70فیصد عملہ کی کمی ہے اور یوٹی کے اضلاع میں محکمہ کے دفاتروں پر تین سے چار ملازمین ہی تعینات ہیں ،اس اہم ادارے میں عملے کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے جموںو کشمیر میں محکمہ کیلئے منظور شدہ اسامیوں کی کل تعداد 400ہے تاہم صرف 198 کام کر رہے ہیں۔ محکمہ کے ایک عہددار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ قوائد ضوابط کی خلاف ورزیوں کی شکایات موصول ہونے کے باوجود بھی ان کا ازالہ عملہ کی کمی کے سبب نہیں کیا جاتا ہے۔ سابق ریاست جموں وکشمیر میں پولیوشن کنٹرول بورڈکو ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ ماحولیات کی حفاظت کی جائے اور ساتھ ہی ماحولیات سے متعلق قوانین پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جاسکے۔یوٹی بننے کے بعد اگرچہ اس کا نام تبدیل ہو کر پولیوشن کنٹرول کمیٹی ہو گیا ہے لیکن عملہ کی کمی پوری نہیں کی جاسکی ہے ۔ فضائی آلودگی کی جانچ کے علاوہ پالی تھین مخالف مہم کبھی کبھار ہی چلائی جاتی ہے۔ محکمہ کو فعال بنانے کی ضرورت تھی کیونکہ ماہرین نے اس بات کا اندشیہ ظاہر کیا تھا کہ اگر ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہیںپایا گیا تو اس کے سنگین نتایج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ سابق ماحولیاتی کمیٹی نے اس بات کا انکشاف پہلے ہی کر دیا ہے کہ جموں اور سرینگر شہر میں زیادہ تر چلنے والی گاڑیوں میں ملاوٹ شدہ تیل کا استعمال ہو رہا ہے اس کے علاوہ سیمنٹ فیکٹریوں ،درجنوں سٹون کریشروں اور اینٹ کے بٹھوں اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں سے فضا متاثر ہورہی ہے ۔ محکمہ کو آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہیںلیکن محکمہ اس حالت میں بھی نہیں ہے کہ وہ ایسے کسی افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لا سکے۔عملے کی کمی نے محکمہ کو مفلوج کردیا ہے جسکی ذمہ داری مکمل طور حکوت وقت پر عائد ہوتی ہے۔