پوشیدہ صلاحیتوں کو اُجاگر کیجئے!

دنیا میں آتے ہی ہر انسان کو یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ وہ اپنا روزگار کیسے اور کہاں سے حاصل کریگا ،اسی سوچ کو لے کر وہ کئی طرح کی تدابیریں کرتا رہتا ہے، پھر کچھ لوگ ان ہی تدابیروں کو لے کر کامیاب ہوجاتے ہیں تو کچھ لوگ تھک ہار کر گوشۂ گزیں کی حالت اختیار کرتے ہیں۔ حالانکہ دنیا میں جو کوئی بھی آیا، باصلاحیت آیا ۔قدرت نے ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور رکھی، وہ صلاحیت اس لئے تاکہ اسے وہ معاش حاصل کر سکیں اور اپنی زندگی آرام سے بسر کرسکیں۔ ہر انسان کے اندر چھپی صلاحیت اس کے لیے روزگار ہوتا ہے اور اُن ہی صلاحیتوں کے سہارے ہمیں جینے کو کہا گیا۔ اب یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانے اور اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو جاننے کی کوشش کریں اور پھر ان ہی صلاحیتوں کو ایک بہتر راستے پر چلانا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہمیں اپنی روزی روٹی حاصل ہوجائے۔ جب آپ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اسے صرف آپ ہی کو نہیں بلکہ پورے قوم کو فائدہ پوچھتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم پہلے اس چیز کو لے کر جدوجہد کریں کہ ہم کیا ہے ؟ہمارےاندر کون سی صلاحیتں ہیں؟ اور پھر ان ہی صلاحیتوں پر محنت کریں۔اگر آپ کی صلاحیت یہ ہے کہ آپ کو صرف بوٹ پالش کرنی آتی ہے، تو بوٹ پالش ہی کرو۔یہ جو بوٹ پالش کے کام کو آپ گٹھیا سمجھ رہے ہیں، اگر یہی گھٹیا کام محنت اور شوق سے کرتے رہو تو یاد رکھو یہی بوٹ پالش آپ کے آسمان چھونے کی وجہ بنے گئی ۔تلاش معاش کو لے کر کوئی کام برا نہیں ہوتا ہے،بُری اگر ہے تو ہماری سوچ ہے ۔بُری اگر ہے تو ہماری نظر ہے، ورنہ دنیا میں کئی لوگوں کی مثالیں ہمارے پاس کتابوں میں موجود ہیں، جو لوگ کبھی سڑک کنارے اخبار بیچا کرتے تھے، اُن ہی لوگوں کو آج پوری دنیا یاد کرتی ہیں۔ دراصل اُن لوگوں کی سوچ صحیح تھی، اُن کی نظروں میں کشادگی تھی، اُنہیں اس بات کا غم نہیں تھا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا وقت صرف کرتے تھے ۔کوئی انسان ناقابل نہیں ہوتا، ہر انسان کسی نہ کسی کام کے لائق ہوتا ہے۔ کیا ہم آئے دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے ویڈیوز نہیں دیکھتے، جن میں لوگ جسمانی طور کمزور ہونے کے باوجود بھی اپنا کرتب دکھاتے ہوئے اپنی زندگی کو تابناک بناتے ہیں۔ کئ لوگ گونگےہوتے ہیں لیکن اپنی حرکتوں سے پوری دنیا کو حیران کرتے ہیں اور اُن ہی حرکتوں سے اپنا روزگار کماتے ہیں۔ کئ لوگ ٹانگوں سے محروم ہیں لیکن گھسیٹ کر چلتے ہوئے اپنا ہنر دکھاتے رہتےہیں اور اپنے آپ کو کبھی معزور محسوس نہیں ہونے دیتے۔ اس کی وجہ اُن کا شعور ہوتا ہے، اُن کا ضمیر ہوتا ہے، جس شعور اور ضمیر کو وہ کبھی مرنے نہیں دیتے اور سب سے بڑ کر اُن کے اندر زندگی بسر کرنے اور ترقی کرنے کی چاہت ہوتی ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر کی قوت کو باہر کی دنیا میں لاکر اسے عملی طور استعمال میں لاتے ہیں۔آج کل ہمیں ہماری سوچ نے پیچھے کردیا ہے۔ ہماری سوچ نے ہمیں اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچاننے سے دور رکھا ہے، ورنہ قدرت نے شعور جیسی نعمت سے ضرور نواز ہے۔ جن لوگوں نے اس شعور کے استعمال سے اپنے آپ کو پہچانا، وہ دنیاوی ترقی میں بہت آگئے چلے گئے۔ دراصل ان کی تربیت ٹھیک تھی ان کی سوچ ٹھیک تھی، اُن کے رہبر لائق تھے، جنہوں نے انہیں صحیح اور غلط میں فرق سکھایا، انہیں یہ بتایا کہ کس طرح انسان محنت سے کام لے سکتا ہے۔الغرض یہ جو بے روزگاری کی ہوا ہمارے کشمیر میں چل رہی ہے، یہ اسی چیز کا نتیجہ ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں میں جو مختلف قسم کی صلاحیتیں موجود ہے، وہ باہر نہیں آرہی ہیں۔ نوجوان محض سرکاری نوکریوں کے تعاقب میں اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ یہاں سب میں ایک ہی صلاحیت ہیں، جب سرکاری نوکری حاصل نہیں ہوجاتی ہے تو پھر منشیات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کئی نوجوان ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، یہاں قصور نوجوانوں کا ہی نہیں، شعبہ تعلیم کے علاوہ دیگر شعبہ جات کو لے کر یہاں کسی طرح کے معقول انتظامات موجود نہیں ہیں، جہاں پر یہ نواجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ اس ضمن میں سرکار پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ شعبہ تعلیم کے علاوہ دیگر شعبہ جات کو لے کرایسے انتظامات کریں تاکہ نوجوان اس کی طرف زیادہ مائل ہوجائیں اور بے روزگاری کی یہ ہوا کسی حد تک تھم جائے۔
( ترہگام ،فون نمبر۔7889959161)