نئی دلی //ملک بھر میں طویل ترین کورونالاک ڈائون کی وجہ سے بندکردیئے گئیمذہبی مقامات،شاپنگ مالز،ریستوراں، ہوٹل اور دفاتر سوموار سے کھولے گئے۔ البتہ اِن مقامات کو صرف اْن جگہوں پر کھولے جانے کی اجازت دی گئی جو گھیرا بندی والے علاقے نہیں ہیں۔ رہنما خطوط کے مطابق شاپنگ مال میں صرف ایسے ملازمین اور گاہکوں کو جانے کی اجازت ہوگی جن میں بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوگی اور مالس میں پچوں کے کھیلنے کی جگہیں اور سنیما ہالس وغیرہ بند رہیں گے۔ جسمانی دوری کے ضابطوں کو یقینی بنانے کی غرض سے مالس انتظامیہ کے ذریعہ کافی تعدادمیں افرادی قوت کو تعینات کیا جائے گا۔ مالس میں کھانا کھانے والے حصوں میں سیٹوں کی کْل گنجائش کے 50 فیصد کی ہی اجازت ہوگی۔ریستوراں کے لئے جاری رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ دروازوں پر ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے اور تھرمل اسکریننگ کا عمل لازمی ہوگا اور وہاں بیٹھ کر کھانا کھانے کے بجائے کھانا لے جانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دفاتر کے اندرونی حصے میں صرف ایسے ملازمین اور مہمانوں کوجانے کی اجازت ہوگی جن میں بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوگی۔ گھیرابندی والے خطوں میں رہنے والے افراد اپنے گھروں سے ہی کام کریں گے اور دفاتر میں بیٹھنے کے لئے بھی جسمانی دوری کو برقرار رکھنا ہوگا۔ادھردلی سرکار نے دلی کی سرحدیں کھول دی ہیں۔ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہاکہ جب تک کووڈ وبا ختم نہیں ہوجاتی قومی راجدھانی کے اسپتالوں میں صرف ان لوگوں کا علاج کیا جائے گا جو یہاں کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایاکہ شہر کے ہوٹلوں اور شادی گھروں کو چھوڑ کر، مالز،ریستوراں اور مذہبی مقامات بھی آج سے کھول دیئے گئے ہیں۔ ادھراڑ ھائی ماہ کے وقفہ کے بعد دیگر عبادت گاہوں کے ساتھ آج سے مسجدوں کے دروازے بھی عوام کیلئے کھل گئے ہیں۔ بنگلورو سمیت کرناٹک کے مختلف شہروں میں مسلمانوں نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ اداکی۔