پنجاب میں مقید 7طالب علم بنیادی سہولیات سے محروم

ترال//پنجاب کے مختلف علاقوں میں2018 کے دوران گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوانوں کے والدین نے انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ۔گرفتار کئے گئے ان 7طالب علموں میں شاہد قیوم ولد عبد القیوم ساکن نور پورہ،فاضل بشیر ولد بشیر احمد ساکن اونتی پورہ، عامر نذیر ولد نذیر احمد میر ساکن ڈاڈسرہ ،یاسر رفیق ولد رفیق احمد ساکن نور پورہ زاہد گلزاراحمد ساکن راجپورہ ،سہیل احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکن نور پورہ،محمد ادریس شاہ ولدولد عبد القیوم شاہ ساکن بوہ اونتی پورہ شامل ہیں۔ یہ طالب علم پنجاب اور چندی گڈھ کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔افراد خانہ کے مطابق مذکورہ نوجوانوں کوچھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 2018ء میں گرفتار کیا گیا ہے اور تاحال رہا نہیں کیا گیا ۔گذشتہ 3سال سے پنجاب اورچندی گڈھ کی جیلوں میںمقید ان طالب علموںکے والدین اور رشتہ داروں نے ڈاڈسرہ ترال میں پر امن احتجاج کرکے ان کی فوری رہائی اور اْنہیں تمام قانونی اور دیگرسہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا کہ ان کے بچے پنجاب اور کپور تھلہ جیلوں میں جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔احتجاج میں شامل ایک نوجوان کی والدہ نے بتایا ’’ ہمارے بچوں کو وہاں تعینات پولیس اور فورسز ٹارچر کر رہی ہے اور ہمیں اطلاع ملی کہ ان کے بچے10روز سے بھوکے ہیں‘‘۔احتجاجی والدین نے جموں وکشمیر، پنجاب حکومت اورمرکزی سرکار سے ان کے بچوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔