پلوامہ//پلوامہ ضلع کے بیشتر تعلیمی زونوں کے اسکولوں میں تعینات پچاس فیصد سے زیادہ اساتذہ کو تربیت کیلئے بھیجنے پر والدین نے برہمی کااظہار کیا ہے۔ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی والدین نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ ایک بر س سے زیادہ عرصے کے بعد تعلیمی اداروں کے پھر سے کھل گئے ہیں لیکن اسکولوں میں ایک بار پھر درس وتدریس کا کام متاثر ہے کیوں کہ یہاں اساتذہ کو تربیت کیلئے بھیجا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم پہلے ہی پست ہے جس کی وجہ سے غریبوں کے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔فریداحمد نامی ایک والد نے کہا کہ دوبرس بعدیہاں تعلیمی ادارے کھل گئے اورانہیں اُمید تھی کہ ان کے بچوں کی تعلیم کو جونقصان ہواہے اب اس کی بھر پائی ہوگی ۔تاہم محکمہ نے اساتذہ کی تربیت کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی وجہ سے اکثر تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کاکام متاثر ہواہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہواہے بلکہ اس سے قبل بھی کبھی ایک نام سے کبھی دوسرے نام سے اساتذہ کو اسکولوں کے بجائے مختلف پروگراموںمیں شرکت کرنے کولازمی قرار دیا جاتا تھا۔والدین نے اس طریقہ کارکی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچوں کے مستقبل کے حوالے سے سخت پریشان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر اساتذہ کو تربیت دینا ضروری تھا تو وہ محکمہ تعطیلات میں بھی دے سکتا تھا۔ ایک استاد نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ والدین کی شکایت سچ ہے کہ اسکولوں میں تعینات پچاس فیصد سے زیادہ عملہ کو تربیت کیلئے طلب کیاگیا ہے جس کی وجہ سے یہاں تعینات عملے کے علاوہ طلباء کو مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہ سرکاری احکامات کونظر اندازنہیں کرسکتے ۔