پلوامہ سانحہ قومی المیہ

پلوامہ  سانحہ کے بعد ٹھیک آٹھویں روز ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے آخر کار مون برت توڑ ہی دیا ۔ اس کے مرکزی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ان سات دنوں کا برسرِ اقتدار بی جے پی کا کچا چٹھا عوام کے سامنے رکھ دیا۔ اس سے عوام واقف تھے ہی لیکن کانگریس کے چند سوالات ایسے بھی سامنے لائے جو انکشافات کا درجہ رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی جی فوجیوں پر ہلاکت خیز حملے کا جان اکر ہونے کے بعد بھی کاربیٹ پارک نینی نال میں طے اپنی شدہ فلم کی شوٹنگ میں گھنٹوں مصروف رہے اور پھر چائے ناشتے کی ڈکار بھی لیا۔ بعد ازاں کئی دن متعدد ریلیاں بھی کیں اور دو ایک افتتاحی پروگرام بھی کئے۔ بھاجپا مہم میں نمبر ۲ اسٹار پرچارک امیت شاہ نے بھی کئی ریلیاں کیں اور ساتھ ہی مہاراشٹر میں شیو سینا اور تمل ناڈو میں آل انڈیا انا ڈی ایم کے علاوہ اور بھی مقامی پارٹیوں سے اتحاد کو یقینی بنایا اور سیٹوں کی تقسیم پر حد درجہ خوشی کا اظہار بھی کیا جن کی تصاویر اخباروں کی زینت بنیں۔دیکھا جائے تو بی جے پی کا کوئی کام نہیں رُکا، وہیں ملک کی کوئی بھی پارٹی چاہے وہ حزب اختلاف سے تعلق رکھتی ہو یا حزب اقتدار کے ساتھ ہو، کسی نے بھی اس دوران کوئی انتخابی سرگرمی نہیں کی ،ریلی تو بہت دور ٹھہری۔ البتہ کانگریس تمل ناڈو میںڈی ایم کے سے اتحاد کو حتمی شکل دینے کیلئے راضی ہو گئی لیکن وہ بھی بی جے پی اتحاد کے دوسرے دن۔ وجہ صاف تھی کیونکہ ڈی ایم کے  کے چند ممکنہ اتحادی پارٹیوں کو بی جے پی نے سبز باغ دکھا کراپنے پالے میں کر لیا، ورنہ اتحاد سے پہلے تک وہ موجودہ ریاستی حکومت کی کٹر ناقد تھیں۔اس کے باوجود ڈی ایم کے کو اب بھی یقین ہے کہ وہ اس کی طرف آ جائیں گی ،اسی لئے اس نے ان کیلئے سیٹیں بھی چھوڑ رکھی ہیں۔ 
کانگریس کا ایک اور چبھتا ہوا سوال یہ تھا کہ مودی جی نے اتنے بڑے حادثے کے بعد بھی اُسی رات قوم سے خطاب کیوں نہ کیا اور تین یا پانچ روز کے قومی سوگ کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ ظاہر ہے کہ قومی سوگ کے اعلان کے بعد وہ یا اُن کی پارٹی کوئی ریلی کر پاتے اور نہ ہی کوئی افتتاحی پروگرام۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا کا نام نہاد امن انعام بھی لینے وہ نہیں جا پاتے۔ملک کو درپیش اس مشکل گھڑی میںکسی بھی طرح ان کے جنوبی کوریا کے دورے کا جواز نہیں بنتا تھا۔بات در اصل یہ ہے کہ مودی جی حد درجہ خود پرستی میں مبتلا ہیں اور خود کو نمایاں کرنے کے سوا اُنہیں کچھ نہیں سجھا تا۔ممکن ہے کہ ہر مہینے کے اپنے ریڈیائی بھاشن کو مودی جی کہیں قوم سے خطاب ہی سمجھتے ہوں اور یہ سوچ رکھا ہو کہ آخری ایتوار تو آ ہی رہا ہے جو بولنا ہے بول دیں گے۔ ویسے بھی میرے جیسا کوئی مُقرر تو ملکمیں ہینہیں اور مجھے ہر موضوع پر مہارت حاصل ہے ۔ غالباً یہ ۵۶؍واںریڈیائی نشر ہوگا۔
عجیب اتفاق ہے کہ ۵۶؍اِنچ کے سینے والے سے اس بارے میں اس بار سننے کو ملے گا۔قوم کیا چاہتی ہے یہ مودی جی کو معلوم ہے کیونکہ اُمید اور فخر کی جوت انہوں نے ہی جگائی ہے۔اُنہیں تو اب اس پر پورا اُترنا ہی پڑے گا۔ اگر نہیں اُترے تو عوام دھول چٹا سکتے ہیں۔ اسی لئے آر ایس ایس کی نئی وضاحت آ گئی ہے کہ ۲۰۱۹ء کا عام انتخاب رام مندر کے موضوع پر نہیں لڑا جائے گا بلکہ پلوامہ کا حملہ ہی اہم اورقابل ِذکر موضوع ہوگا۔اس کے علاوہ قومی میڈیا سروے کرنے میں جٹ گیا ہے۔ کیا برقی اور کیا پرنٹ میڈیا، سب ایک ہی سُر میں جاپ کرنے لگے ہیں اور مودی جی کی مقبولیت دکھانے، بتانے اور لکھنے میں لگ گئے ہیں۔ ان کے سروے کا موضوع تو سنئے: پلوامہ حملے کے بعد کیا مودی جی کی مقبولیت بڑھی ہے؟ مودی سے بہتر کیاکوئی دہشت گردی سے نمٹ سکتا ہے؟ اور ظاہر ہے کہ ان کے نتائج مودی جی کے حق میں ۸۰؍فیصد سے زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ ان آنکھ والے اندھوں ( بدقسمتی سے یہ صحافی کہلواتے ہیں) کو پتہ بھی ہے کہ انہیں حکومت سے کون سے اور کس طرح کے سوالات پوچھنے چاہئیں؟ 
اب ہر ہندوستانی یہ سمجھنے لگا ہے کہ ان حالا ت میں سوالات کیسے ہونے چاہئیں؟ سوشل میڈیا ایک ایسا کھلا پلیٹ فارم ثابت ہورہا ہے کہ وہ اِن متعصب میڈیا کی تمام کرتوتوں کو با ضابطہ نیوز کی طرح پیش کر کے عوام کو آگاہ کر رہا ہے۔ پہلی بار ایسا دیکھنے میں آرہا ہے کہ قومی میڈیا کی خبروں اور تجزیوں پر سوشل میڈیا کے مخصوص یو ٹیوب اور فیس بک چینلز اپنے تبصرے اور تجزیے دلیلوں کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اور قومی چینلوں کو کٹہرے میں کھڑے کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے چینلوں کو دیکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے جبھی تو فہم و شعور سے عاری سونو نگم قومی چینل پر ایک انٹرویو میں سوشل میڈیا پر شکنجہ کسنے کی بات کرتا ہے۔یہ کہتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ وہی سوشل میڈیا ہے جس کو استعمال کرکے اس کے پسندیدہ مودی جی اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔اب جب کہ پانسا پلٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ،تو بی جے پی حکومت کے حامی اور ایجنٹ اسی میں کیڑا نکالنے لگے ہیں اور اس پر پابندی تک کی بات کر رہے ہیں۔
پاکستان کومدتوں بعد ایک نئی قیادت عمران خان کی صورت میںنصیب ہوئی ہے۔وہاں کے دیگر سیاست دانوں کی طرح عمران بھی ہندوستان کے لئے نئے نہیں ہیں۔ان کوجاننے اور سمجھنے والے یہاں بھی موجود ہیں۔ہندوستانی اُن کے اپروچ کو بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں۔کرکٹ کی دنیا کے علاوہ اُن کے کئی دیرینہ دوست بھی یہاں موجود ہیں جو اُن کو بہتر طور جانتے ہیں اور کچھ تو اقتدار کی گلیاروں میں بھی ہیں جن سے یا جن کی قربت اُنہیں حاصل ہے۔ایسے میں ہمیں چاہئے تھا کہ اپن سے گفتگو کرتے اور ہند پاک رشتے کی ہمواری کیلئے انہیں مجبور کرتے یا ترغیب دلاتے ۔بہت سارے ایسے مسائل ہیںجن پر اُن سے مفید گفتگو کی جا سکتی ہے جن میں ایک کشمیر مدعابھی ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی سرزمین پر بندوق بردار تنظیمیں سرگرم ہیں لیکن یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے ۔یہ ایک عرصے سے چلتا رہا ہے۔عمران کو آئے ہوئے تو ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں،اس لئے ابھی سے یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ ان بندوق برداروں کے تئیں ان کا موقف کیاہے؟ممکن ہے کہ عمران خود ان سے گلو خلاصی  چاہتے ہوں کیونکہ وہ بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ یہ اب نیا پاکستان ہے ،ماضی کو فراموش کر دینا ان کا اولین ہدف ہے اور انہیں موجودہ اور مستقبل کے پاکستان کے تعلق سے سوچنا اور کام کرنا ہے۔اسی سوچ کے تحت سعودی ولی ٔ عہد بن سلمان کی پاکستان میں آمد اور اقتصادی طور پر جوجھ رہے اسلام آباد کو ۲۰؍ بلین ڈالر کی ان کے ملک میں سرمایہ کاری کو عمران کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ ہندوسان میں بھی شہزادے کی آمد اور ۱۰۰؍بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان مودی جی کی کامیابی قرار دی جا رہی ہے ۔ یہ صحیح اور مناسب ہے۔ بن سلمان کو پاکستان ہی سے ہندوستان آنا تھا لیکن پلوامہ کے مابعد دلی نے اُن کو رُوٹ بدل کر ریاض سے یہاں آنے کا سجھاؤ دیا کیونکہ ہندوستان کا موقف تھا کہ ولی ٔعہد پاکستان کی سرزمین سے یہاںنہیں آنے چاہیے۔ شہزادے نے یہ تجویزمان لی جودلی کی کامیابی ہے!
ورلڈ کپ کرکٹ کے تعلق سے دلی کا موقف یہ ہے کہ ہم انٹرنیشنل کرکٹ کمیٹی(آئی سی سی) کو مجبور کریں کہ وہ پاکستان کو ٹورنا منٹ سے باہر کر دے،یا پھر کم از کم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے ساتھ مئی یا جون میں ہونے والے میچ میں ٹیم انڈیا کو نہ کھیلنا پڑے۔انگلینڈ میں ہونے والے اس میچ کودیکھنے کیلئے ۵؍ لاکھ سے زیادہ عرضیاں آچکی ہیں جب کہ اسٹیڈیم میں بیٹھنے کی صلاحیت ۲۵؍ہزار افراد تک  محدودہے۔ظاہر ہے کہ وہ ٹکٹ پریمیم پر فروخت ہوںگے جس سے آئی سی سی کو بے انتہا منافع ہوگا اور ساتھ ہی اشتہارات سے بھی زبردست آمدنی متوقع ہے۔یہاں بھی اقتصادیات پر آکر ساری کارروائی رک جاتی ہے اور اچھے اچھوں کی ہیکڑی نکل آتی ہے۔تو یہ کیوں نہ مان لیا جائے کہ آج کے دور میں روپیہ پیسہ ہی سب کچھ ہے اور بادی النظر میں بندوق وغیرہ بھی ایک کاروبار ہے۔اس کے چکر میں آنے والوں کے حوالے سے کسے قصووار ٹھہرایا جائے، یہ طے کر نابہت مشکل امر ہے۔اسی دوران ایک بُری خبر یہ بھی آرہی ہے کہ پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کی کوشش کے دوران ہی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ۲؍پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزا نہ دینے کیلئے ہماری سرزنش کی ہے اور کافی سخت سست کہا ہے۔
پلوامہ حملے کے ما بعد ایک بات مودی جی نے یہ کہی تھی جس کا شاید نوٹس نہ لیا گیا جب کہ یہ بہت بڑی بات تھی۔ان کا بیان یہ تھا کہ ہم نے فوج 
کو’’ پوری آزادی‘‘ دے دی ہے،وہ جو چاہے کرے۔ کشمیر میں عسکریت پسندوں سے جس طرح من چاہے، پیش آئے۔اب جب کہ اس سانحہ کو رونما ہوئے کئی دن ہو گئے ،اپوزیشن جماعتوں کو مودی جی سے جواب طلب کرنا چاہئے کہ وہ اپنی حکمت عملی سے ملک کو آگاہ کریں اور بتائیں کہ انہوں نے پلوامہ حملے کے بعد کیا کیااور وہ اب کیا کرنے والے ہیں۔
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو ، نئی ممبئی کے مدیر ہیں  رابطہ9833999883)
