پلوامہ حملے کے بعد جنگ کا خدشہ

ہمیرپور//تقریبا دس دن پہلے جموں وکشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں پر حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے خدشات وافواہوں کی وجہ سے ہماچل پردیش کے ہمیرپور سے کشمیری مزدور اپنے گھر واپس لوٹنے لگے ہیں۔ہمیر پور میں تقریبا ڈھائی سو کشمیری ہیں جو لکڑی کاٹنے اور شال بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریبا 30 کشمیری اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ کل رات سرکاری بس سے گھر واپس لوٹ رہے سرور نامی کشمیر اور ان کے چھوٹے بھائی دلاور نے بتایا کہ وہ عام طور پر ہر سال مئی یا جون میں گھر لوٹتے ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد انہیں گھر سے مسلسل فون آر ہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گریز تحصیل میں رہتے ہیں جو سرحد پر واقع ہے اور اگر جنگ ہوتی ہے تو چونکہ پاکستانی فوج کی شیلنگ سے سرحد پر گاؤں میں مکانوں کو نقصان پہنچتا ہے جس سے ان کے جانوروں کو کافی پریشان ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں گھربار چھوڑ کر گاؤں سے دوسری جگہ منتقل ہوناپڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے وہ گھر لوٹ رہے ہیں کہ کوئی ناخوشگوار صورت حال ہو تو وہ اہل خانہ کے ساتھ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ یہاں انہیں کوئی تکلیف نہیں ہے اور وہ مقامی لوگوں کی مدد سے ہی اپنا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تین عشروں سے یہاں کام کے لئے آتے رہے ہیں۔ہمیر پور کے پولس سپرنٹنڈنٹ ارجت سین سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ کشمیری لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں حالات پرامن ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔