ادب سماج اور معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے ۔ادب اور سماج کا آپس میں گہرا تعلق ہے، جس طرح کا سماج ہو گا اُسی طرح کا ادب تخلیق ہوتا ہے اور ادب کی خواہ کوئی بھی صنف ہو اسے پڑھ کر معاشرے کی حالت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔اگر پریم چند کی ناولوں اور ان کے افسانوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان ناولوں اور ان افسانوں میں اس وقت کا معاشرہ صاف صاف جھلکتا ہے۔ادب اپنے عہد کا ترجمان گردانا جاتا ہے ۔اگر ادب اپنے عہد کے حالات و واقعات، مصائب و مشکلات کو پیش کرنے میں ناکام رہے تو ایسے ادب یا ادب کی کسی بھی ایسی صنف کو نامکمل اور ادھورا مانا جاتا ہے۔ناول نگاری کی اگر بات کریں تو یہ صفت بھی معاشرے کی ترجمانی کرنے میں پیش پیش رہی ہے اگر چہ چند دہائیوں سے اس صنف پر گرد سی جم گئی ہے، لیکن پرویز مانوس نے "سارے جہاں کا درد " نامی ناول لکھ کر اس صنف کو پھر سے اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پرویز مانوس دنیا کے اس خطے میں رہائشی پزیر ہیں جہاں پچھلے تیس سالوں سے درد و کرب، بدامنی، انتشار، مفلسی، آہ وزاری، نفسیاتی بیماریاں، گرفتاریاں، ہلاکتیں اور نہ جانے کیا کیا لوگوں کا مقدر بن چکا ہے ۔پرویز مانوس نے اس ناول میں پچھلے تیس سالوں کا درد سمیٹ کر اسے نئی نسل تک پہنچانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔ناول کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ دنیا کے اس بد قسمت خطے کا ذکر ہے، جہاں سارے جہاں کا درد موجود ہے۔ناول کے کور پیج سے ہی اس درد کا اندازہ ہوتا ہے۔ کور پیج نہ صرف کافی زیادہ معنیٰ خیر ہے بلکہ قابل دید بھی ہے۔ناول تین سو پچھتر صفحات پر مشتمل ہے ۔ناول کی زبان بہت سادہ اور سلیس ہے۔ کہیں کہیں پر کرداروں کی ضرورت مد نظر رکھتے ہوئے انگریزی اور ہندی الفاظ کا بھی استعمال کیا گیا ہے لیکن ان الفاظ کا استعمال اس احتیاط سے ہوا ہے کہ بالکل بھی بوجھل نہیں لگتے۔ناول میں بہترین محاوروں کا استعمال کیا گیا ہے ۔تسلسل ناول کا سب سے بڑا وصف ہے جو قاری کو پکڑ کے رکھتا ہے اور ہر پنے کے بعد قاری کا تجسس بڑھ جاتا ہے کہ اب آگے کیا ہو گا ۔کڑی سے کڑی اس طرح جوڑی گئی ہے کہ تسلسل ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔یقین جانیے ناول پڑھتے ہوئے میری آنکھیں کئی بار آبدیدہ ہو گئیں ۔در اصل اس ناول میں ہر کشمیری کا وہ درد بیان ہوا ہے ،جس سے روز ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔پورا ناول دراصل ایک ٹیکسی ڈرائیور غلام قادر کے ارد گرد گھومتا ہے۔ قادر ایک نیک، شریف، انسانیت کا ہمدرد اور ایماندار شخص ہے جو ٹیکسی چلا کر اپنی ماں زیبا ،بیوی پوشہ اور تین بیٹیوں ہانیہ، ثانیہ اور تانیہ کی کفالت کرتا ہے ،اچانک سے شہر میں حالات بگڑ جاتے ہیں اور ہر طرف سے افراتفری کا ماحول پیدا ہوتا ہے، ناول نگار نے ان بگڑے ہوئے حالات کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے "پر امن شہر تشدد کی بھینٹ چڑھ گیا وادی خوشباش میں مقیم پرندے چونچوں سے کنکر برساتے رہے اور صیاد بھی انہیں چن چن کر ہدف بناتے رہے۔اسی دوران قادر سیاحوں کو لے کر آگرہ چلا جاتا ہے ،قادر کی ماں اسے باہر جانے سے منع کرتی ہے لیکن وہ یہ کہہ کر ماں کو منوا لیتا ہے کہ اس نے سیاحوں سے وعدہ کیا ہے اور وہ انہیں ایسے حالات میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ہے یہ کشمیر اور کشمیریت کی توہین ہو گی ۔کچھ عرصہ بعد زیبا کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے بیٹے کو دہلی ریلوے سٹیشن پر چند سال پہلے ہوئے دھماکے میں ملیٹنٹوں کی معاونت کاری کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جس میں کچھ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔قادر کی گرفتاری کے بعد اس کے کنبے پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔قادر کی ماں زیبا تقریباً ہر سیاسی لیڈر کے آگے گڑگڑاتی ہے کہ اس کا بیٹا بے قصور ہے لیکن اسے ہر دروازے سے ایک ہی جواب ملتا ہے "یہ تو دہشتگردی کا کیس ہے ،میں اس میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا، سوری "یہاں تک کہ زیبا کے دو سگے بیٹے بصیر اور نصیر بھی پلو جھاڑتے ہوئے اس کنبے سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں ۔زیبا برقعہ پہن کر بھیک مانگتی ہے اور ان تینوں پوتیوں کی پرورش کرتی ہے، حالانکہ ماڈرن کالونی میں رہنے والے لوگ فلک بوس عمارتوں میں عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہیں ،گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں، دنیا بھر کی خبریں رکھتے ہیں لیکن صرف اس جھوپڑی سے وہ نا آشنا رہتے ہیں، جس میں زیبا اور اس کی تین بے سہارا پوتیاں رہتی ہیں ۔یہ کنبہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس غریب کنبے کا بجلی کنکشن بھی کاٹ دیا جاتا ہے، ہر طرف اجالا ہی اجالا ہوتا ہے سوائے اس جھوپڑی کے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جھوپڑی اس کالونی کے چہرے پر ایک بد نما داغ ہے۔علاقے میں مرحوم سلام جو کی بیوی عظیمی آپا بھی رہتی ہیں جو ایک دیندار، حلیم، مخلص خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پائے کی سماجی کارکن بھی ہوتی ہیں ،عظیمی آپا کے تین بیٹے ہیں اجمل اکمل، اور افضل ،حالانکہ کوئی بھی بیٹا اپنی کوکھ سے نہیں ہے بلکہ یتیم خانے سے لائے گئے ہیں جو عظیمی آپا کی ایک ایک بات پر اپنی جان تک نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔۔عظیمی نے کئی سارے، یتیم خانوں، اسپتالوں اور کنبوں کی کفالت کی ذمہ داری لی ہوتی ہے۔ عظیمی آپا کو ایک خط کے ذریعے زیبا کے گھر کی حالت کا علم ہوتا ہے اور وہ اگلی صبح زیبا کے گھر پہنچتی ہے اسے بہت زیادہ شرمندہ گی کا احساس ہوتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے ان کی یہ حالت کیسے ہوئی۔وہاں پہنچ کر اسے قادر کی تصویر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی ٹیکسی ڈرائیور ہے، جس نے لداخ میں اس کی اور سلام جو کی جان بچائی تھی۔اس کی آنکھیں نم ہوتی ہیں اور وہ اس گھر کی کفالت کی ذمہ داری لینے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ایک نیا گھر تعمیر کرواتی ہے۔اس طرح سے اس گھر کی مصیبتیں کسی حد تک کم ہوتی ہیں اور زیبا کو بھیک مانگنے سے بھی نجات ملتی ہے۔ کہتے ہیں نا نیکی کر دریا میں ڈال ۔قادر کی کی ہوئی نیکی آج اس کے بے سہارا کنبے کا سہارا بن رہی ہے۔قادر کی بیٹی تانیہ یتیم خانے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کالج سے اپنی گریجویشن مکمل کرتی ہے۔ مختلف مباحثوں میں حصہ لے کا اپنا لوہا منواتی ہے۔پردے کی اہمیت پر تانیہ جب باپردہ ہو کر تقریر کرتی ہے اور اس حوالے سے اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کرتی ہے تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے ۔تانیہ کی ملاقات کالج میں فرحان سے ہوتی ہے ،تانیہ ایک باپردہ، دیندار لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ بلا کی خوبصورت بھی ہوتی ہے، فرحان اس پر فریفتہ ہو جاتا ہے لیکن تانیہ اسے صاف کہہ دیتی ہے کہ آپ بنگلوں میں رہنے والے اور منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے لوگ ہیں ۔بلا آپ ہم سے کیا محبت کریں گے ان باتوں کا کچھ زیادہ ہی اثر فرحان پر ہوتا ہے۔ فرحان نے اپنے آپ کو بدل ڈالا۔تمام تر آوارہ گردی ترک کر دی اور اپنی دوستی بھی محدود کر دی ۔یہاں تک کہ نجی گاڑی چھوڑ کر بس میں کالج آتا جاتا ہے ۔فرحان ایک دیندار اور سلیقہ مند لڑکا بن گیا فرحان دراصل عظیمی آپا کا پوتا ہے ۔یاد رہے کہ عظیمی آپا کو زیبا کے گھر میں بارے میں خط ملتا ہے وہ دراصل فرحان نے ہی لکھا ہوتا ہے۔ناول میں یکطرفہ محبت کی یہ کہانی بھی دھیمی رفتار سے ہی صحیح لیکن اس تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی ہے کہ قاری کو اپنے ماضی میں دھکیل دیتی ہےاور قاری محبت کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتا ہے دوسری طرف سے قادر کو چھڑانے کے لیے چار چار وکیل یکے بعد دیگرے موٹی موٹی رقمیں وصول کر کے یہ کیس بیچ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔اور ان کا کردار دیکھ کر وکیل اور عدالت جیسے ناموں سے اعتبار اٹھ سا جاتا ہے ۔قادر کو چھڑانے کے تقریبا سارے راستے بند ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں وہیں قادر کی ماں زیبا قادر کی رہائی کے لیے اپنے زیورات بھی بیچ دیتی ہے لیکن اسے پھر بھی انصاف نہیں ملتا۔غفار نام کا آدمی زیبا کو نامور وکیل رویش کھنہ کا پتہ دیتا ہے ،جو نہایت ہی ہمدرد ،سچائی پسند اور بے باک انسان ہیں۔وہ بے گناہوں کو انصاف دلانے میں پیش پیش رہتا ہے۔غفار کے اصرار پر زیبا اور تانیہ دہلی پہنچ جاتی ہیں۔عدالت کو دیکھ کر تانیہ کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں"کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انصاف بیچا اور خریدا جاتا ہے۔" زیبا اور تانیہ کے قادر سے ملنے کے رقعت آمیز مناظر ایک درد مند دل کو چھلنی کر دیتے ہیں۔زیبا اپنے بیٹے کے لیے سیب اور اخروٹ لے کر جاتی ہے لیکن جیل کے باہر ہی وہ سارے کے سارے سیب اس طرح کاٹ دیئے جاتے ہیں کہ وہ جیل کے اندر لے جانے کے قابل نہیں رہتے جبکہ اخروٹ بھی توڑے جاتے ہیں اور بعد میں سرکاری اہلکار ایک ایک مٹھی اٹھا لیتے ہیں یہاں تک کہ قادر کے لئے جیل کے اندر لے جانے کے لیے کچھ بھی نہیں بچتا ہے ۔یہ منظر دیکھ کر زیبا اور تانیہ پھر رو پڑتی ہیں۔اس کے بعد زیبا اور تانیہ کی ملاقات قادر سے کرائی جاتی ہیں، دونوں چاہتی تھیں کہ قادر سے گلے مل کر خوب روئیں لیکن بیچ میں لوہے کی سلاخوں کی دیوار ہونے کی وجہ سے ان کا یہ ارمان بھی پورا نہیں ہوتا۔ غفار زیبا اور تانیہ کو رویش کھنہ سے ملواتا ہے، رویش کھنہ زیبا کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے، وہ ٹکٹکی باندھ کر زیبا کو دیکھتا ہے اور اسے کہتا ہے کیا تم قادر کی ماں ہو ۔مجھے پہچاننے کی کوشش کروں ،میں رویش ہوں رویش وکیل بابو۔ زیبا کچھ نہیں سمجھ پاتی ہے اتنے میں رویش کی آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب امڈ آتا ہے اور وہ چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ ماں میں وہی رویش کھنہ ہوں، جس کی جان قادو اور آپ نے انیس سال پہلے بچائی تھی جب کشمیر میں حالات بہت خراب تھے، مسجدوں سے فلک شگاف نعرے بلند ہورہے تھے، ایسے میں میرا بچنا تقریباً ناممکن تھا لیکن آپ نے میرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو مارنے کے لیے انہیں میری لاش پر سے گزرنا ہوگا اور آپ کے قادر نے اپنی جان پر کھیل کر میری جان بچائی تھی اور مجھے عدالت تک پہنچایا تھا ،جہاں ایک کیس کے سلسے میں میرا حاضر ہونا ضروری تھا۔زیبا کو جب یہ باتیں یاد آئیں تو وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔کہ بیٹے میرا قادر بے گناہی کی سزا کاٹ رہا ہے۔ وہ امن پسند اور دیش سے محبت کرنے والا انسان ہے ۔اس کے بعد رویش کھنہ نے یہ کیس لڑنا شروع کیا ۔رویش کھنہ نے کافی محنت کر کے وہ سارے ثبوت اور شواہد اکھٹے کئے جو قادر کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے درکار تھے۔یہاں بھی قادر کی رویش کھنہ سے کی ہوئی نیکی کام آرہی ہے۔ادھر فاروقی صاحب نے عظیمی آپا کو سیاست میں داخل ہونے کا مشورہ دیا، جسے عظیمی آپا نے ٹھکرا دیا۔ فاروقی صاحب سابقہ وزیر تھے جن پر جنسی سکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور جس نے نہ جانے کتنے ظلم اور جبر کر کے سیاست میں یہ جگہ حاصل کی تھی، فرحان چونکہ عظیمی آپا کا پوتا تھا اور وہ تانیہ کو چاہتا تھا جبکہ فاروقی صاحب کی بیٹی سلمہ فرحان کو چاہتی تھی جو نہایت ہی بے ہودہ قسم کی آوارہ لڑکی تھی۔ اس تکونی محبت کی کہانی بھی کچھ دیر کے لیے چلتی ہے، بہرحال عظیمی آپا نے تانیہ کی دینداری، باپردگی، اور خوبصورتی سے متاثر ہو کر اسے اپنے پوتے فرحان کے لیے پسند کیا اور ادھر تانیہ کی چھوٹی بہن ثانیہ کی شادی یتیم خانے کے منیجر جیلانی صاحب کے بیٹے یاسر سے طے پائی ،زیبا بے حد خوش تھی کہ اتنے بڑے گھروں سے رشتے بننے جا رہے تھے۔ دونوں شادیاں انجام دی گئی اب اگر کمی تھی تو وہ تھی ایک قادر کی ،جو جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہا تھا۔ بیٹیوں کی شادی کے بعد پوشہ بھی اس جہان فانی سے انتقال کر گئی ،رویش کھنہ نے باآخر یہ کیس جیت لیا اور قادر انیس سال کے بعد با عزت بری ہو جاتا ہے ۔ عدالت کے فیصلے کے بعد قادر جج صاحب سے کچھ کہنے کی اجازت مانگتا ہے، اجازت ملنے پر وہ جج صاحب سے پوچھتا ہے ۔جج صاحب کیا معاوضہ دینے سے میری زندگی کے انیس سال چار مہینے اور بیس دن واپس آئیں گے۔؟ کیا میری جوانی لوٹ آئے گی؟ کیا میری والدہ کی بصارت لوٹ آئے گی۔؟ میرے ہوتے ہوئے میرے بچیوں نےجو نیم یتیمی کی زندگی گزاری ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے ؟میری شریک حیات مجھ سے بچھڑ گئ کیا اس کی زندگی واپس آسکتی ہے؟ میرے اوپر جو بدنامی کا داغ لگ گیا ،کیا وہ مٹ سکتا ہے ؟ قادر کے یہ سوالات سن کر عدالت میں خاموشی چھا جاتی ہے ۔جج صاحب قادر کو بڑے غور سے سنتا ہے اور جواباً کہتا ہے کہ ہم قانون کے ہاتھوں مجبور ہیں لیکن میں ایک بات کہنا چاہوں گا کی قانون میں ایک انسان کے لیے تب تک نرمی کی گنجائش ہونی چاہئے، جب تک کہ کسی شخص پر جرم ثابت نہ ہو۔قادر کے گھر پہنچنے پر رقعت آمیزاور جگر چھلنی کرنے والے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ،جب قادر پوشہ کی قبر سے لپٹ کر روتا ہے اور گھر پہنچ کر سبھی لوگوں سے رو رو کر گلے ملتا رہا۔ ناول کے اختتام پر عظیمی آپا اور فاروقی صاحب کی موت ہوتی ہے۔ عظیمی آپا کے جنازے میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ییں اور روتے بلکتے ہیں کہ اب ہماری بیٹیوں کی شادی کون کرے گا، ہماری کفالت کون کرے ۔آج ہماری محسنہ چلی گئی ۔جبکہ دوسری طرف فاروقی صاحب کے اتنے بڑے سیاست دان ہونے کے باوجود صرف چند لوگ ہی ان کے جنازے میں شامل ہوتے ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ فاروقی صاحب اپنے لیے جیتا تھا جبکہ عظیمی آپا دوسروں کی لیے جیتی تھی۔
پرویز مانوس کی اس ناول پر مکمل مضمون تحریر کرنا مشکل ہے۔ ناول میں بہت سارے پہلو ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، ہر پہلو اور ہر کردار سے انصاف کرنا قدرے مشکل ہے۔تاہم ہر کشمیری کو یہ ناول پڑھ لینا چاہئے تاکہ تیس سالوں کی تاریخ اور درد و کرب سے آشنائی ہو سکے ۔ہمارے معاشرے میں فاروقی جیسے سیاست دانوں کی کمی نہیں ہے اور نہ ہی ماڈرن کالونی میں رہنے والے لوگ کم ہیں جو اپنے ہمسایوں کے حال سے بے خبر اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ سلمہ جیسی لڑکیاں بھی موجود ہیں اور زیبا جیسی بے بس اور لاچار ماؤں کی کثرت بھی ہے ،جن کے لخت جگر ان سے جدا ہیں ۔ نصیر اور بصیر جیسے بیٹوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اپنے والدین کو بے یارومددگار چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرتے ہیں ،کمی تو ان وکیلوں کی بھی نہیں ہے ،جو اپنے موکل کو زمین بیچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔کمی اگر ہے تو وہ عظیمی آپا جیسے ہمدرد لوگوں کی ہے جو اپنی دولت غریبوں اور مفلسوں پر خرچ کر کے ان کی دعائیں حاصل کرتی ہیںاور جس کا دل غریبوں،محتاجوں اور یتیموں کے لیے دھڑکتا ہے، کمی اگر ہے تو رویش کھنہ جیسے وکیلوں کی ہے جو بلا امتیاز مذہب و ملت حق اور انصاف کی لڑائی لڑنے کو اپنی زندگی کا مقصد مانتے ہیں۔کمی اگر ہے تو تانیہ جیسی دیدندار، باحیا ،حوصلہ مند اور باپردہ لڑکیوں کی ہے جس نے باپ کی غیر موجودگی میں بھی اپنی عصمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔اس ناول کو پڑھ کر انسان کا دل اس بات پر آمادہ ہوتا ہے کہ وہ بھی عظیمی آپا اور رویش کھنہ جیسا کردار نبھائے۔ ناول نہ صرف کشمیر اور کشمیریت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مذہبی بھائی چارے کی بھی بہترین مثال پیش کرتا ہے، جس کی آجکل نہ صرف جموں و کشمیر میں بلکہ پورے ملک میں بہت زیادہ ضرورت ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ یہ ناول ہر ایک کشمیری تک پہنچ جائے اور میرا دعویٰ ہے، یہ پہلا ایسا ناول ہے جس کی ایک ایک سطر میں درد و کرب بھرا ہوا ہےاور جو حقیقت کے بہت زیادہ قریب ہے، جسے کسی کشمیری ناول نگار نے تخلیق کیا ۔مزکورہ ناول میں مناسب موقعوں پر اشعارکا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ناول کا نام بھی ایک مشہور شعر سے لیا گیا ہے ۔
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
مذکورہ ناول پر ڈاکٹر گلزار احمد وانی ،پلوامہ کشمیر۔ڈاکٹر مشتاق احمد وانی ،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی۔ خالد حسین، بٹھنڈی جموں۔ ڈاکٹر اشرف لون ،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی۔ آفاق ملہوترا، برمنگم برطانیہ۔ جیسے نامور ادیبوں اور قلمکاروں نے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں۔
)اویل نورآباد،رابطہ۔7006738436)
Bhatsubzar51@gmail. com