بانہال // ریاست سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ اور ٹیم انڈیا کے مایہ ناز کھلاڑی پرویز رسول نے بانہال پرئمیر لیگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سینکڑوں شائقین کرکٹ کے علاوہ ڈپٹی کمشنر رام بن طارق حسین گنائی ، ایڈیشنل ایس پی رام بن مشتاق چوہدھری اور ارگنائزر دانش فاروق میر اور فوج پولیس اور انتظامیہ کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بانہال پرئمیر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا اغاز ہوا اور پرویز رسول نے فیتہکاٹ کر اس ٹورنامنٹ کو ہری جھنڈی دکھائی۔ پرویز رسول کے ساتھ سیلفی کھنچوانے کیلئے نوجوانوں کی بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ بانہال پرئمیر لیگ میں 32ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں اور اس ٹورنامنٹ کا اہتمام مقامی نوجوان کرکٹ کھلاڑی دانش فاروق میر اور ان کے دیگر ساتھی کر رہے ہیں۔ یہ بانہال پرئمیر لیگ کا پانچواں ایڈیشن ہے اور اب تک سابقہ چار ایڈیشنوں کا انعقاد کامیابی کے ساتھ ہوا ہے۔ اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پرویز رسول نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے نوجوانوں میں کرکٹ کا ہنر موجود ہے اور اسے ابھارنے کیلئے کرکٹ کے شعبے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بنیادی سہولیات اور گائڈنس کی کمی کے باوجود بھی یہاں کے نوجوان کرکٹ کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں اور کرکٹ کھیلنے کی چاہت رکھنے والے والے بچے اپنے بل بوتے پر باہر جاکر کرکٹ سیکھ رہے ہیں اور اپنے ٹیلنٹ کی وجہ سے بہت سارے لڑکے رانجی میں خود کو ثابت کر چکے ہیں اور اس کیلئے انہوں وادی کے بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک سولہ سالہ کرکٹر کا ذکر کیا جو رانجی میں اچھاکھیلے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ انڈین کرکٹ ٹیم میں اپنی واپسی کیلئے پر امید ہیں اور لگاتار محنت اور بہتر پرفارم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال انگلینڈ کے ساتھ ٹی ٹو ونٹی کے علاوہ رانجی ٹرافی اور بنگلہ دیش کرکٹ لیگ میں ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے اور ائیندہ بھی محنت کرکے بہتر پرفارم کر تے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ میں بہتر پرفارم کرتا رہوں گا اور ٹیم میں موقع دینا سلکیٹرز کے ہاتھ میںہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی کرکٹ ٹیم نے سیلاب کے باوجود بھی قلیل پریکٹس کرکے مبئی کو مبئی میں ہرادیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے بانہال کے ساتھ دلی لگاو ہے اور یہاں کھیل کود کیلئے کھیل کے میدان نہ ہونے کے باوجود بھی میں نے یہاں کرکٹ کھیلی ہے کیونکہ میں نے اپنی کرکٹ ان ہی جیسے میدانوں سے شروع کی ہے اورکئی بار بانہال میں بھی کھیل چکا ہوں۔ انہوں نے ریاست کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خوب محنت کریں اور اپنے کھیل پر پوری توجہ مرکوزرکھیں کیونکہ محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ہے۔