جموں//رکشابندھن یعنی راکھی کے تہوارکے موقعہ پرپتنگ اڑانے کیلئے چینی مانجھے (ڈور)کے استعمال پرپابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجودغیرقانونی طورپر چینی دھاگے (چائینیز مانجھے )کے استعمال کے سبب حادثات ہونے سے ہرسال کئی لوگوں کی جانیں تلف ہوتی ہیں ۔امسال 26 اگست کوراکھی کاتہوارہے جس کی وجہ سے ان دنوں جموں شہرمیں پتنگ اڑانے کیلئے نوجوانوں میں جوش وخروش دیکھاجارہاہے ۔بعض دفعہ موٹرسائیکل سواروں کے گلے میں پتنگ کی ڈورالجھ جاتی ہے اوراگرڈور چینی ہوتواس سے گلہ کٹنے کااندیشہ ہوتاہے جس کی وجہ سے جان بھی چلی جاتی ہے ۔ماضی میں ہوئے ایسے حادثات کے بعدلوگ احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے اورانتظامیہ بھی غفلت شعاری کامظاہرہ کرتی ہے اورانتظامیہ کی نینداُس وقت کھلتی ہے جب کوئی چینی دھاگے کاشکارہوتاہے۔ذرائع کے مطابق جموں شہرمیں بھی بہت سے لوگ ان دنوں چینی دھاگے سے پتنگیں اڑارہے ہیں جس پرانتظامیہ کی نظراب تک نہیں پڑی ہے ۔کبھی یہ مانجھا سڑک پہ چلتے وقت یا پھر اور کسی جگہ لوگوں کے پیروں میںپھنس جاتا ہے تو کبھی گلے میں جس کی وجہ سے کافی لوگوں کو شدید چوٹیں بھی آتی ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ اس طرف کوئی خاطرخواہ توجہ نہیں دے رہی ۔یہ مانجھا خاص کر رکھشا بندھن کے تہوار میں پتنگ بازی میں تو استعمال ہوتا ہی ہے ساتھ ساتھ اس مانجھے سے رکشھا بندھن آنے سے پہلے ہی یہ بازار میں بکنے کیلئے آجاتا ہے۔بہت سے دکاندار کھلے عام بیچتے ہیں اور یہ بکتا ہے۔خیر یہ عام بات ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ ہو۔سماجی کارکنان ایس بلورندر سنگھ نے چینی منجھا کے استعمال کے خلاف ایک بیداری ریلی نکالی جس میں سول سوسائٹی اور ٹینی ٹاٹس ہائی اسکول، الیگزینڈرمیموریل ہائی اسکول اور ہری سنگھ ہائر سیکنڈری سکول کے طلباء نے حصہ لیا۔ریلی شہیدی چوک جموںسے شرو ع ہوئی اور پھر شہیدی چوک سے جموں کے مختلف بازاروں سے گزرنے کے بعد دوبارہ شہیدی چوک میں اختتام پذیر کیا گیا۔اس ریلی کا مقصد لوگوں کو عام طور پر تیز ترین دھاگوں کے بارے میں آگاہ کرنا تھا جسے GATTU کے طور جاناجاتا ہے۔یہ بہت ہی خطر ناک اور تیز دھار والا مانجھا ہے اس میں نائلون،پلاسٹک اور سنتھیٹک اور میٹل پایا جاتا ہے۔بلوریندر سنگھ نے کہا کہ مانجھا لوگوں کے لئے ایک خطرہ بن گیا ہے بلکہ بائیک والوں، سکوٹروالوں اور پرندوں کو بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ضلع کے مجسٹریٹ جموں نے عام طور پر"چینی منجھا"کے طور پر مانے جانے والے پلاسٹک ، نائیلان تار کے ذخیرہ، فروخت اور استعمال کی خریداری پر پابندی عائد کی ہے، جس کے نتیجے میں کرپشن کے سیکشن 144 کے تحت پرواز ہوئی ہے۔نیشنل گرین ٹرائلونل، این جی ٹی نے ملک بھر میں بھی نائیلان یا کسی مصنوعی مواد کے استعمال پر پابندی لگا دی جسے جولائی 2017 کو غیر حیاتیاتی حیثیت سے زمین پر کھڑا کیا گیا ہے کہ یہ زندگی اور ماحول کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔گرین ٹربیونل نے تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی کہ"اس طرح کی دھاگے کی تیاری، فروخت اور استعمال کو روکنے کے لئے سخت سے سخت اقدام اٹھائے جائیں۔جیسا کہ پتنگ پرواز موسم چل رہا ہے اور رکشھا بندھن سے جنم اشٹمی تک جاری رہتاہے، گزشتہ سال یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ پابندی کے حکم کے باوجود مارکیٹ میں پابندی کا سلسلہ دستیاب تھا جس کے نتیجے میں درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اور ہسپتال گاندھی نگر لوگوں کے بعد پتنگ کی وجہ سے پرواز کرتے ہوئے، خاص طور پر خشک کردہ چینی تار میں بائیکر اور سکوٹروں کے درجنوں کیس آتے ہیں۔2016 ء میں اس مانجھے سے مغربی دہلی میں ایک 22 سالہ شخص ظفر خان کی دوران موٹر سائکل پر صرف کرتے وقت
موت ہو گئی تھی۔دہلی ریفر کئے جانے والے جن میں 3سالہ سانچی گوئل اور 4سالہ ہیری برہ طرح سے زخمی تھے ۔ریلی میں موجود تمام لوگوں کی طرف سے خاص طور سے نوجوانوں کو اس پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ پابندی والے تار کا استعمال نہ کریں، فروخت / خریداری اور چینی منجھا کے استعمال جرم ہے اور آر پی سی کے سیکشن 188 کے دفعات کے مطابق سزاہے۔ لہذا سنگھ نے ان سے زور دیا کہ روایتی کپاس کے دھاگے کو استعمال کرنے کے لئے، قیمتی انسانی زندگی اور پرندوں کو بچانے کے لئے چینی منجھے کا استعمال نہ کیا جائے۔سنگھ نے ضلع انتظامیہ اور پولیس محکمہ پر بھی زور دیا کہ وہ دفعہ144 کے تحت جاری پابندی کے حکم کے سخت تعمیل کریں۔ریلی میں موجود سول سوسائٹی کے اہم رکن ایس منموہن سنگھ ، مہیش سنگھ کوتوال، ایازاحمد خان، شری راکیش سنگھ راکا سماجی کارکن، ایس ہردیو سنگھ نائب صدر بورڈ جموں، ایس جتندر سنگھ لکی پریسیڈنٹ ہیومانٹی فسٹ، ایس شرانجت سنگھ شھنٹی، ایس جسبیر سنگھ پروانہ، اکشے گپتا، پرنو، ش للت کمار، ایس جسمیت سنگھ، ایس روندر سنگھ وغیرہشامل تھے۔ سنگھ نے لوگوں کو بھی اپیل کی ہے کہ اگر وہ اس مانجھے کو بیچنے والے کسی بھی شخص یا دکاندار کو دیکھیں جسے گٹو کے نام سے جانا جاتا ہے تو فوری طور پر 100 نمبر پر مطلع کریں یا اپنے سیل نمبر 7006444538 پر مجھے مطلع کریں تاکہ پولیس اور ضلع انتظامیہ کو غیر قانونی تجارت کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے اور خلاف ورزی کرنے والا قانون کے تحت فروخت کی خریداری اور چینی منجھا کا استعمال ایک جرم ہے اور آر پی سی کے سیکشن 188 کے دفعات کے مطابق اسے سزا بھی ہو سکتی ہے۔