پاک چین مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد//پاکستان نے جمعرات کو پاک چین مشترکہ اعلامیہ،جوپاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے اختتام پر جاری کیاگیاتھا، پر بھارت کاتبصرہ مستردکیا۔بھارت نے بدھ کو پاک چین مشترکہ اعلامیہ میں جموں کشمیر کاحوالہ دینے اورپاکستانی زیرانتظام کشمیر سے ایک اقتصادی راہداری کے گزرنے پراعتراض کیاتھااورکہاتھا کہ خطہ اور  مرکزی زیرانتظام علاقہ لداخ ،بھارت کے اٹوٹ انگ تھے،ہیں اور رہیں گے۔ اقتصادی راہداری کے بارے میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے بیان میں کہاتھا کہ اس پروجیکٹ پربھارت مسلسل طور اپنی تشویش سے پاکستان اور چین کو آگاہ کرتا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاتھا،’’ہم نے ہمیشہ ایسے حوالوں کوردکیا ہے اور ہماراموقف پاکستان اور چین پرواضح ہے ۔اس وقت بھی ہم بیان میں جموں کشمیرکے حوالہ دینے کو مستردکرتے ہیں ۔مرکزی زیرانتظام جموں کشمیراور لداخ خطے بھارت کے اٹوٹ انگ تھے،ہیں اور رہیں گے۔‘‘ادھر جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں بھارتی وزارت خارجہ کے تبصرہ کو بلاجواز اوراُلٹاقراردیتے ہوئے مستردکیا۔دفترخارجہ نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے ملک مخالف قوتوں کی حمایت کرنے کے بھارت کے ٹھوس ثبوت ہیں۔بھارت نے ماضی میں پاکستان کے یہ الزامات رد کئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ اسلام آباد کے اُس رول سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے جو وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں اداکرتا ہے اورممنوعہ تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو منصفانہ جدوجہد کی ہرممکن مددجاری رکھے گا۔