پاکستان سے مثبت اشارے کے منتظر، فائر بندی پر فیصلہ عنقریب

کپوارہ+جموں//مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں تو سیع کے معاملے پرسیکورٹی کی اعلیٰ سطح پر صورتحال کا جائزہ لینے اور عوامی نمائندو ں سے بات چیت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا ۔راجناتھ سنگھ نے جمعہ کی صبح کپوارہ میں نامہ نگارو ں سے بات چیت کے دوران کہا کہ جنگ بند ی میں مزید توسیع کرنے کے حوالہ سے کچھ روز بعد سیکورٹی ایجنسیو ں کی اعلیٰ سطح پر میٹنگ میں صورتحال کا جائزہ لیا جائیگااور عوامی نمائندو ں سے بھی رائے طلب کرنے بعد ہی وزارت داخلہ کوئی حتمی فیصلہ لینے کی پوزیشن میں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مرکز ی سرکار وادی میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے کو شاں ہے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وادی میں امن کا قیام دیرپا بنیادوں پر ممکن ہو لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ زمینی سطح پر بھی تبدیلی آئے۔ جموں میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ بات چیت چاہتا ہے لیکن مذاکرات کے لئے موخر الذکر کو بھی مثبت رخ اپنانا ہوگا۔ ’پاکستان ہمارا ہمسایہ ہے اور ہم اپنے سبھی پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن پاکستان کو آگے بڑھ کر کچھ مثبت اشارے دینے ہوں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی سر زمین کو ملی ٹینسی کے فروغ کیلئے مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے ، کشمیر میں امن کو تباہ کرنے کے لئے مسلسل عسکریت بھیجے جا رہے ہیں ، اگر پاکستان امن چاہتا ہے تو اس سلسلہ کو بند کرنا ہوگا‘۔ حریت کانفرنس کو بات چیت پر آمادہ نہ کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں نے پہلے ہی ہر کسی کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ گزشتہ روز بھی میں نے کہا کہ بات چیت کے لئے ہم خیال نہیں بلکہ اصول پرست ہونا لازمی ہے ، یہ اشارہ ہی کافی ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں حالات سدھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دورہ کے دوران میں نے نمایاں تبدیلی دیکھی، مارکیٹ کھلی تھی، ٹریفک ملک کے کسی بھی دوسرے شہر کی طرح معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ جب میں نے سڑک کے کنارے کھڑے لوگوں کی طرف ہاتھ ہلایا تو انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ سپورٹ تقریب میں پانچ سے چھ ہزار رنوجوان شریک ہوئے، یہ سب حالات میں سدھار کی علامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن پسند لوگوں کے لئے رمضان قابل احترام ہے ، ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہم نے سیز فائر کا اعلان کیا تھا ، اس کے مستقبل کے بارے میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی مناسب وقت پر کوئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔روہنگیائی مہاجرین کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ یہ برما کے شہری ہیں اور انہیں واپس جانا ہوگا۔ وزرات داخلہ نے تمام ریاستی حکومتوں کو روہنگیائی مہاجرین کے مفصل سروے کی ہدایت دی ہے ، ان کی بائیو میٹرک تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ انہیں کوئی ایسی شناختی دستاویز جاری نہ کی جا ئے جس کی بنا پر یہ غیر ملکی ہندوستانی شہریت کا دعویٰ کر سکیں۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر چہ مرکزی سرکار مغربی پاکستان سے آئے 5764کنبوں کو 5.5لاکھ روپے فی کنبہ کے حساب سے معائوضہ دے رہی ہے لیکن انہیں جموں کشمیر کی شہریت ( سٹیٹ سبجیکٹ) نہیں دے سکتی تاہم وہ ہندوستان کے شہری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرحدی فائرنگ اور شلنگ میں پاکستان کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ وزیر داخلہ نے سرحدی علاقوں کے لئے 5بلٹ پروف ایمبولنس مہیا کرنے کا اعلان کیا۔ سیکورٹی فورسز کی 9نئی بٹالین تشکیل دی جائیں گی جن میں سے دو بٹالین صرف سرحدی علاقوں کے جوانوں پر مشتمل ہوں گی۔ پانچ آئی آر پی بٹالینیں بنائی جائیں گی جس میں  سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کو 60فیصد ریزرویشن دی جائے گی۔ جموں کشمیر پولیس کی دو وومین بٹالین تشکیل دی جائیں گی جس سے ریاست کی 2000خواتین کو روزگار ملے گا۔ کراس بارڈ فائرنگ مہلوکین کے لواحقین کے کھاتہ میں براہ راست 5لاکھ روپے جمع کرائے جائیں گے۔ کشمیری مائیگرنٹوں کو ماہانہ 13000روپے ریلیف ملے گا۔ فائرنگ میں ہلاک ہونے والے مویشیوں کیلئے معائوضہ 30ہزار سے بڑھا کر 50ہزار کرنے کے علاوہ مویشیوں کی تعداد جو کہ پہلے 3تک محدود تھی کو غیر محدود کر دیا گیا ہے ۔