پانی نعمتِ لافانی

ہم  سب کو ہمارے بچپن میں ایک نرسری کی نظم یاد ہو گی اس کے چند میٹھے بول ہیں:
مچھلی جل کی رانی ہے
جیون جس کا پانی ہے
ہاتھ لگاؤ تو ڈر جائے گی 
باہر نکالو تو مر جائے گی
پانی صرف مچھلی کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ زمین پر موجود ہر جاندار کی اہم ضرورت ہے۔زمین پر زندگی کی تسلسل کے لئے پانی اہم ہے۔ یہ سب انسانوں کی سب سے بنیادی ضرورت ہے (انسان، جانور، پودے اور دیگر مائکروجنزم)۔پانی زندگی کا منفرد ذریعہ اور لازمہ ہے، پانی کے بغیر ہم یہاں زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ہیں۔پانی کی غیر موجودگی کی وجہ سے دوسرے سیارے پر زندگی ممکن نہیں ہے۔اسے دیگر معروف آسمانی اداروں میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔زمین کا تقریبا تین چوتھا علاقہ پانی سے احاطہ کرتا ہے اور یہ تقریبا 60-70٪ زندہ دنیا کا حامل ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پانی زمین پر لامتناہی قابل تجدید ذریعہ ہے کیونکہ یہ بارش کے ذریعہ زمین کو دوبارہ بحال اور دوبارہ تقسیم کر سکتا ہے۔ہمارے دماغ میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پانی قابل تجدید ذریعہ ہے تو ہم کیوں پانی کے لئے پریشان رہیں اور اس کا تحفظ کرنے کی کوشش کریں۔زمین پر زندگی کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لئے پانی کو بچانے یا پانی کے تحفظ کویقینی بنانا بہت ضروری ہے کیونکہ پانی کے بغیر کوئی زندگی ممکن نہیں ہے۔زمین پر زمین کی سائیکل کی تسلسل میں پانی پوری دنیا میں ایک رعایت کی حیثیت سے مدد کرتا ہے کیونکہ پانی تا عمر ہماری ضرورت ہے۔پانی ہماری زندگی بھر میں ہماری ضرورت ہے ،لہٰذا ہم اسے بچانے کے لئے ذمہ دار ہیں۔خوراک کی کمی سے تو انسان پھر بھی زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کی کمی میں موت زیادہ ممکن ہے۔پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ پانی کی بچت اور تحفظ کی ضرورت کو یقینی بنانے میں ہم سے بہت دیر ہو چکی ہیں۔چونکہ زمین پر ہر زندہ چیزوں کی زندگی پانی پر منحصر ہے، پھر مفید پانی اگرگندا ہو جائے گا یا کم ہونے لگا تو اس کے بعد صورت حال خراب ہوجائے گی۔پانی سے تازہ اور پینے کے قابل نقصان دہ اور زہریلا عناصر جیسے صنعت، فیکٹریوں، سیور وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ سے خارج ہونے والا زہریلا مادہ پانی کو آلودہ کرتا ہے اور اس پانی کے استعمال سے جانوروں، پودوں یا انسانوں کو نہ صرف بیماری بلکہ ان کی موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔یہاں کچھ تجاویز ہیں جو واقعی ہمیں پانی بچانے کے لئے ہماری مدد کریں گے:
1) والدین کو اپنے بچوں کو پانی کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے۔انہیں اپنے بچوں کو تفریحی پانی کے کھلونے خریدنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔
2) ہر ایک کو پانی کی قلت کے قواعد و ضوابط سے آگاہ ہونا چاہئے اور سختی سے ان پر اپنے علاقے میں عمل کرنا چا ہیے ۔
3) ہر ملازم پانی کے تحفظ کے لئے اپنے کام کی جگہ کے لئے فعال ہونا چاہئے اور اپنے ملازمین کو دوسرے مؤثر طریقے سے پانی کے تحفظ کو فروغ دینے کے لئے حوصلہ افزائی کریں ۔
4) اسکولوں، کالجوں، کام کی جگہ، دفاتر، اداروں، وغیرہ میں ہر ایک سٹارٹر کے لئے پانی کے تحفظ کے بارے میں شعور اور تجاویز ہونی چا ہیے۔
5) میڈیا جیسے اخبار، ریڈیو، ایف ایم، کمیونٹی نیوز لیٹر، بل بورڈ ، بینر وغیرہ وغیرہ پر پانی کے تحفظ کی تکنیک کوتشہیر دینی چا ہئے ۔
6) لوگوں کو ان کے علاقے میں زیادہ فعال اور سنجیدہ ہونا چاہئے کہ ٹوٹے ہوئے پائپوں کو جوڑ کر پانی کے زیا ںکو روکا جائے، پانی کے بے جا استعمال کو روکا جائے، پودوں کو پانی دیتے وقت بھی اعتدال سے کام لیا جائے ، پانی کا بے تحاشہ اور آزاد استعمال کو بند کر دیا جائے وغیروغیرہ ۔
7) پانی کے تحفظ کے شعور کو انتہائی موثر ہونا چاہئے اور خاص طور پر پبلک مقامات پر کیوں کہ یہ قوم کے مستقبل کی بات ہے ۔
8) سکولی طلباء میں پانی کے تحفظ اور قناعت پسندانہ استعمال کی منصوبوں پر بحث ومباحثے، مضمون نویسی یا تقریر ی مقابلہ جیسی سرگرمیوں میں شریک کیا جانا چا ہیے۔
9) اس مسئلے کو عوامی سطح پراُجاگر کیا جانا چاہئے تاکہ ہر خاص و عام آبی وسائل کے تحفظ اور قدردانی کی ضرورت سے آگاہ ر ہے ۔
10) تعلیم یافتہ اور باشعور شہریوں کو اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو پانی کے کفایت شعارانہ استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چا ہیے ۔
صاف پانی زندگی کا بنیادی ضرورت ہے جس کی عدم موجودگی موت کی پیام بر ہوتی ہے ۔ لہٰذا ہمیں اپنے مستقبل کی حفاظت کے لئے پانی کا تحفظ کرنےمیں پیش پیش رہنا چاہیے۔اگر ہم پانی بچائیں تو گویا ہم نےزندگی کو بچانے اور زمین پر آباد پوری انسانیت کو بچانے کا کام کیا ۔ پانی عالمگیر سالوینٹ کے طور پر کہا جاتا ہے، لہٰذا یہ ایک اہم عنصر حیات ہے جو فرداور سماج کےمیعار زندگی کو یقینی بناتا ہے۔ ہمیں پانی کے ماخذیعنی ندی نالوں اور جھیل چشموں کو آلودگی سے پاک رکھنا ہوگا ، خاص کر پانی کو آلودگی سے بچانے کے لئے صنعتی فضلے اور دیگر فضلہ کو پانی میں ڈالنا صحت مند زندگی کے واسطے لازم و ملزوم ہے ۔ 
گاؤں کی سطح پر لوگوں کی طرف سے بارش کے پانی کو جمع کرنے کی کوئی حکمت عملی بنانی چاہیں،ا س کے لئےمناسب بحالی کے ساتھ چھوٹے یا بڑے تالاب بنانے کی طرف توجہ دینی ہوگی جس سے بارش کا پانی بچا جا سکتا ہے۔ہمیں متنبہ اور آگاہ آگاہ ہونا چاہئے کہ پانی کی کمی سے ترقی پذیر دنیا کے بہت سارے ممالک میں لوگوں کی زندگیاں جہنم بنی ہوئی ہیں ۔ بے شک عام لوگوں نے صاف پانی کی قدر قیمت کو سمجھنا شروع کردیا ہےتاہم پانی کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی کوششیں ابھی نظرنہیں آتیں ۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ پانی کی بچت ایک اچھی عادت ہے اور ہم میں سے ہر ایک کویہاں زندگی کے تسلسل کے لئے اسے بچا نے میں کوئی پس و پیش نہیں کر نا چاہیے۔ چندسال پہلے، تک دوکانوں پر پانی فروخت ہونا مذاق سمجھا  جاتا تاہم اب بہت اس قدروقت بدل گیا ہے کہ ہم ہر جگہ دوکانوں پر صاف پانی کی بوتلیں دستیاب پاتے ہیں۔ دوچار دہائیاں ماقبل کے لوگ دوکانوں پر پانی کی خریدو فروخت سوچ کر حیران وپریشان ہوتے کیونکہ وہ خواب و خیال بھی گمان نہیں کر سکتے کہ وقت اتنا پلٹا کھائے گا کہ صاف پانی کی نایابی سے لوگوں میں ہا ہاکار مچے گی لیکن آج کا انسان مجبور ہے کہ وہ اپنی صحت کے لئے 20 روپے یا اس سے زیادہ قیمت اداکر کے خالص پانی کی بوتل خریدلیتارہے ۔ہم واضح طور پر تصور کر سکتے ہیں کہ اگر قلتِ آب کا سلسلہ بلا روک ٹوک چلتا رہا تو مستقبل قریب میں دنیا بھر میں صاف پانی کی کمی کی وجہ سے انسانی زندگی  بے دستو پا ہوکر رہے گی ا ورعام لوگ پینے کے پانی سے جڑے بہت سارے مسائل کے سبب جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ پانی کی لافانی نعمت کو ضائع کرنے سے قبل سو بار خدا کی مار سے ڈریں۔اس ضمن میں تمام لوگوں کے رویوں کو بدلنے کی فوری ضرورت ہے ۔