سرینگر //جموں وکشمیر میں ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے اورجموں وکشمیر حکام پالی تھین کے مکمل خاتمے اورماحولیاتی وفضائی آلودگی سے نپٹنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموں وکشمیر پولوشن کنٹرول بورڈ میں افرادی قوت کی 50فیصد کمی ہے ۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں محکمہ میں منظور شدہ اسامیوں کی کل تعداد 400ہے تاہم یہاں کل 198ملازمین ہی کام کر رہے ہیں۔ محکمہ میں 204ملازمین کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور انہیں پر کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے۔ جموں اور سرینگر شہریوں میں جہاں آلودگی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، میں ملازمین کی شدید قلت ہے اور یہ ملازمین صرف دفتری کام ہی انجام دے رہے ہیں ۔معلوم رہے کہ جموں وکشمیر میںپولیوشن کنٹرول بورڈکو ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ ماحولیات کی حفاظت کی جائے اور ساتھ ہی پولیوشن کنٹرول کرنے کے قوانین نافذ کئے جائیں تاہم یہ محکمہ اب لنگڑا گھوڑا ثابت ہو رہا ہے کیونکہ سرکار ہی اس محکمہ کی جانب کوئی بھی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔اس وقت پوری دینا کے لئے اگر مستقبل میں کوئی بڑا چیلنج ہے تو وہ ماحولیاتی آلودگی ہے اور کئی ممالک نے اس کی روکتھام کیلئے پوری توجہ دیکر پالیسیاں بنائی ہیں۔ لیکن جموں وکشمیر حکام اس سنگین مسئلہ کی جانب دھیان دینے کے بجائے خاموش تماشاہی بنی ہوئی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس محکمہ کو فعال بنانے کی ضرورت تھی اور ایسی پالیسی مرتب کی جانی تھی جس سے ماحولیاتی آلودگی پر کسی حد تک قابو پایا جاتا۔ذرائع نے بتایا کہ کئی سال قبل ہی قانون ساز اسمبلی کی ایک ماحولیاتی کمیٹی نے حکومت کو خبرار کیا تھا کہ شہر میں چلنے والی زیادہ تر گاڑیوں میں مٹی کے تیل کا استعمال ہوتا ہے ، سینکڑوں ایسے پروجیکٹوں کی تعمیر بنا کسی ماحولیاتی کمیٹی کی منظوری کے بغیر انجام دئے جاتے ہیں ، جنگلات کا کٹائو کیا جاتا ہے ، پالی تھین کا استعمال ہر جگہ ہو رہا ہے ، پانی زہر آلودہو رہا ہے ،جنگلات جلائے جاتے ہیں یہی نہیں بلکہ شہر اور دیگر علاقوں ہوٹل انڈسٹریزی کی چیکنگ بھی ماہانہ بنیادوں پر نہیں ہو رہی ہے۔ غیر قانونی طور چل رہے سٹون کریشر مالکان کو بھی اس وجہ سے جواب دہ نہیں بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی اینٹ بٹھ مالکان پر کوئی روک ہے اور اس سب کی بڑی وجہ یہی ہے کہ محکمہ میں افرادی قوت کا سامنا ہے اور یہاں آلودگی کم ہونے کے بجائے بڑ ھ رہی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیشن کنٹرول بورڈ نے متعدد بار اس تعلق سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا اور محکمہ میں افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے کیلئے کہا گیا لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ جموں وکشمیر میں کہیں پر بھی ماحولیات کے دشمنوں کے خلاف ضابطہ کی کارروائی عمل میںنہیں لائی جاتی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ کو آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہیں،لیکن محکمہ اس حالت میں بھی نہیں ہے کہ وہ ایسے کسی افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لا سکے۔