پابندیوں میں توسیع کی گئی تو گیس کی سپلائی بند کر دی جائے گی:روس کی دھمکی

ماسکو// روس نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک روسی تیل پر پابندیاں عائد کرتے ہیں تو روس جرمنی کو جانے والی اپنی اہم گیس پائپ لائن کو بند کر دے گا۔
بی بی سی نے منگل کو اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے کے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے، جس سے تیل کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر 300 ڈالر فی بیرل ہو جائیں گی۔
 
یوکرین پر فوجی کارروائی کے جواب میں روس کو سبق سکھانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی روس کے تیل کی درآمدات پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم جرمنی اور ہالینڈ نے پیر کو اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
 
قابل ذکر ہے کہ یوروپی یونین اپنی تقریباً 40 فیصد گیس اور 30 ​​فیصد تیل روس سے خریدتی ہے۔ روس سے سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں متبادل سپلائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔
 
مسٹر نوواک نے کہا کہ یوروپی منڈی میں روسی تیل کا متبادل فوری طور پر تلاش کرنا ناممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دوسرے ذرائع بھی مل جائیں تو وہ بہت مہنگے پڑیں گے۔
 
روس قدرتی گیس پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا اور خام تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔
 
یوکرین مغربی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ روس پر ایسی پابندیاں عائد کرے۔