یو این آئی
کارڈیف/دوسرے ایک روزہ مقابلے میں ہندوستان کو چار وکٹ سے شکست دینے میں اہم تعاون دینے والے انگلینڈ کے بلے باز جو روٹ نے کہا ہے کہ ٹیم کو جیت دلانے سے بہتر کوئی احساس نہیں ہے ۔میچ کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں روٹ نے بتایا ہے کہ انہوں نے گس اٹکن سن سے ان کے 99 پر ناٹ آؤٹ رہ جانے کی چنتا نہ کرنے اور انگلینڈ کو میچ جتانے کے لیے کہا تھا۔ ون ڈے میں اپنا 67 واں 50 سے زیادہ کا اسکور بنانے والے روٹ اپنا 21 واں سنچری لگانے کے لیے ایکدم تیار دکھ رہے تھے ۔ آخری آٹھ اوور میں ٹیم کو 12 رن چاہیے تھے اور روٹ اس وقت 97 پر تھے ۔ 45 ویں اوور کی شروعات میں روٹ نان اسٹرائیکر اینڈ پر تھے ۔ ہندوستان نے سارے کھلاڑیوں کو اندر بلا لیا تھا اور اوور کی شروعات وائڈ کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس کے بعد روٹ نے جا کر اٹکن سن سے کچھ کہا۔ تین رنوں کی ضرورت ہونے پر اٹکن سن نے اگلی گیند کو پل کرتے ہوئے باؤنڈری نکالی اور انگلینڈ کو 35 گیندیں باقی رہتے میچ جتا دیا۔
روٹ نے کہا، “میں نے اٹکن سن سے کہا کہ بس میچ ختم کرو۔ اگر ہندوستان اس طرح کی فیلڈنگ لگا کر ہمیں میچ جیتنے کا موقع دینا چاہتا ہے ، تو ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ سب کچھ باقی میچ جیتنے کے بارے میں ہے ، اور کرکٹ میں رنوں کا تعاقب کرتے ہوئے آخر تک کریز پر ٹکے رہنے اور ٹیم کو جیت دلانے سے بہتر کوئی اور احساس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ میں اس سے پہلے کبھی 99 رن پر ناٹ آؤٹ رہا ہوں یا نہیں۔”ہندستانی کپتان شبھمن گل سے بی بی سی ٹیسٹ میچ اسپیشل میں بات چیت میں جب پوچھا گیا کہ روٹ کی صورتحال میں ہونے پر انہیں کیسا لگتا تو انہوں نے کہا، “اگر میں روٹ کی جگہ ہوتا، تو شاید 43 ویں اوور میں وہ سنگل نہیں لیتا۔” حالانکہ، خود روٹ کو اپنی سنچری سے چوکنے کا ذرا بھی افسوس نہیں تھا۔ اس اننگز کے بعد، روٹ ون ڈے کرکٹ میں 99 رن پر ناٹ آؤٹ رہنے والے انگلینڈ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ۔ وہیں، بین الاقوامی سطح پر تمام فارمیٹ کو ملا کر وہ ایسا کرنے والے چھٹے انگریز بلے باز ہیں۔ مردوں کے ون ڈے تاریخ کی بات کریں تو، 99 رن پر ناٹ آؤٹ رہنے والے وہ دنیا کے 17 ویں بلے باز بن گئے ہیں۔اسی میدان پر روٹ نے 2021میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں 99 رن بنائے تھے ۔ روٹ نے آگے کہا، “اگر ہم ہار جاتے تو بہت برا لگتا۔ آخر کار آپ جیتنے کے لیے ہی کھیلتے ہیں۔ اور اب ہمارے سامنے لارڈز میں سیریز جیتنے کا ہدف ہے ۔ دنیا کی نمبر ایک ٹیم کو ہرانے کا یہ موقع واقعی کافی سنسنی خیز ہے ۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہم نے جدوجہد کرتے ہوئے بھی جیت کا راستہ نکال لیا اور وہ بھی ایک ایسے طریقے سے جو شاید ہماری ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کے کھیلنے کے اسٹائل یا ان کی عادت سے میل نہیں کھاتا ہے ۔