قومی شاہراہ بحال ،مقامی لوگ پی ایم جی ایس وائی و تعمیراتی ایجنسیوں سے نالاں
اشتیاق ملک
ڈوڈہ//ضلع ڈوڈہ کے قصبہ ٹھاٹھری میں گزشتہ روز بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد نقصانات کی ابتدائی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں. قدرتی آفت کے نتیجے میں 27رہائشی و غیر رہائشی مکانات اور تقریباً 35دکانوں کو نقصان پہنچا، جبکہ لاکھوں روپے مالیت کی املاک، گاڑیاں، کاروباری سامان اور بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے. سب ڈویژنل مجسٹریٹ ٹھاٹھری شیتل کمار نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ ابتدائی سروے کے مطابق 27مکانات اور 35ے قریب دکانیں متاثر ہوئی ہیں، تاہم نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا عمل جاری ہے. انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے اور بحالی کے کاموں میں تیزی لانے کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے. انہوں نے بتایا کہ ڈوڈہ۔بٹوت۔کشتواڑ قومی شاہراہ سے ملبہ ہٹا کر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے، تاہم قصبہ ٹھاٹھری کے اندر کئی رابطہ سڑکیں، نکاسیٔ آب کا نظام، پینے کے پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات ابھی بھی متاثر ہیں. مختلف محکموں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں تاکہ معمولاتِ زندگی جلد از جلد بحال کیے جا سکیں. دوسری جانب مقامی شہریوں نے پی ایم جی ایس وائی اور دیگر تعمیراتی ایجنسیوں کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ناقص تعمیراتی منصوبہ بندی، نالوں پر تجاوزات، غیر معیاری ڈرینیج نظام اور پانی کی قدرتی گزرگاہوں کو بند کرنے کے باعث سیلابی پانی نے قصبے کا رخ کیا، جس سے نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہوا۔سابق میونسپل کمیٹی چیئرمین ٹھاٹھری منصور احمد نے کہا کہ اس معاملہ کو متعدد بار ضلع و مقامی انتظامیہ کی نوٹس میں لایا گیا لیکن کوئی عملی کام نہیں کیا گیا اور آج درجنوں لوگءبے گھر و لاکھوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے. انہوں نے حکومت سے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا. انہوں نے کارروائی اور متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی بھی مانگ کی ہے. واضح رہے کہ بادل پھٹنے کے بعد ٹھاٹھری قصبہ میں اچانک سیلابی ریلہ داخل ہونے سے رہائشی علاقوں، بازار اور سڑکوں پر ملبہ جمع ہو گیا تھا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور متعدد خاندانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا.