امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی وبا کے ریلیف پیکیج، حکومتی اخراجات سے متعلق بل پر ہفتے کو رات گئے تک دستخط نہیں کیے جس کے باعث بے اضافی روزگاری الاؤنس اور بے دخلی سے بچاؤ جیسی سہولیات کی معیاد ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ختم ہو گئ۔صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے مذکورہ قانون پر تنقید کی تھی اور ہفتے کو اس کی مسلسل مخالفت کا عندیہ دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے ہفتے کی صبح ٹوئٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کے عظیم لوگوں کو فی کس دو ہزار ڈالر ملیں، نہ کے 600 ڈالر جو کہ اس وقت بل میں موجود ہیں۔صدر ٹرمپ کی اپنی ہی ری پبلکن پارٹی کے اراکین کی طرف سے الاؤنسز بڑھانے کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ جنہوں نے ڈیموکریٹس بھی شہریوں کو زیادہ الاؤنس دینے کے خواہاں تھے البتہ ری پبلکن ارکان نے اس کی مخالفت کی تھی۔امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق ایک کروڑ 40 لاکھ افراد اضافی بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے سے قاصر ہو جائیں گے۔نو منتخب صدر جو بائیڈن نے بھی صدر ٹرمپ کو بل پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جو بائیڈن جو کہ اس وقت اپنی آبائی ریاست ڈیلاویئر میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ ان کا بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دستخط نہ کرنے کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ ان کے بقول یہ بل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔