ٹرشری کینسر کیئر مراکز

 ریاست میں کینسر کے موذی مرض کے بہتر علاج کے مقصد سے کئی اہم ادارے قائم کرنے کا اعلان کیاگیا تاہم اس حوالے سے عملی سطح پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔پچھلے آٹھ برسوں سے ریاست میں کینسر کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہواہے اور ہزاروں افراد اس موذی مرض کاشکار ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں علاج کی بہتر سہولت میسر نہیں ہے، جس کے نتیجہ میں ان میں سے کئی افراد زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی قیادت والی سابق مرکزی حکومت نے 2013میں ریاست میں تین کینسر کیئر مراکزقائم کرنے کا اعلان کیاتھا ۔ اُس وقت کے وزیر صحت و خاندانی بہبود نے ملک بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی طبی نگہداشت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے مقصد سے کشتواڑ ، اودھمپو راور کپوارہ میں یہ مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا مگر یہ اقدام اعلان تک محدود ہوکر رہ گیا اور اس پر مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔اگرچہ سابق ریاستی وزیر صحت نے دو سال قبل کشتواڑ میں کینسر سنٹر کی عمار ت کیلئے سنگ بنیاد بھی رکھا مگرریاستی حکومت پانچ برس گزرنے کے باوجود درکار لوازمات پورے کرنے میں ناکام رہی ہےاورشاید اسی وجہ سے یہ پروجیکٹ تعطل کاشکار بنے ہوئے ہیں اوران پر کام آگے نہیں بڑھ پایاہے ۔حالانکہ سنگ بنیاد رکھتے وقت سابق وزیر صحت نے یہ کہاتھاکہ ریاستی حکومت بہت جلدلوازمات پورے کرلے گی جس کے بعد مرکز کی طرف سے رقومات فراہم کی جائیں گی مگر نہ صرف کشتواڑ بلکہ اودھمپور اور کٹھوعہ کے لوگ بھی اعلان شدہ کینسر مراکز شروع ہونے کاہنوذ انتظا رکررہے ہیں ۔حکومت ہند نے ’نیشنل پروگرام فار پریونشن اینڈ کنٹرول آف کینسر ، ڈائبیٹیز، سی وی ڈی اینڈ سٹروک ‘کے تحت ریاست کیلئے سکمز صورہ اور جی ایم سی جموں کیلئے دو کینسر انسٹی ٹیوٹ کو منظوری دی تھی جبکہ حال ہی میں ریاستی انتظامی کونسل نے میڈیکل کالج جموں میں علیحدہ نیوکلر میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کو بھی منظوری دی جس کا مقصد مریضوں کو ریاست کے اندر ہی تشخیص و علاج کی سہولت فراہم کرناہے کیونکہیہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیرون ریاست جاناپڑتاہے ۔یہ اقدامات خوش آئند ہیں اور ان کے عملی شکل اختیار کرنے سے یقینی طور پر کینسر کے مریضوں کو علاج میں سہولت ملے گی لیکن ریاستی عوام کی طرف سے یہ سوال کیاجاسکتاہے کہ 2013کے اعلان شدہ مراکز کا کیا ہوا اور کیوں یہ اہم مراکز آج تک قائم نہیں ہوسکے ۔ریاست میں کینسر کے مریضوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ایسے اداروں کا قیام انتہائی اہم ہے اور ایسے اداروں کے قائم ہونے سے ہی طبی نگہداشت کے نظام میں تبدیلی ہوسکتی ہے مگر جب تک اس سمت میں سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے جائیں گے تب تک مریضوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکے گا اور اگر کچھ مریض علاج کرانے سے ہی محروم رہیں گے توکچھ بیرون ریاست دربدر ہوتے رہیں گے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ 2013میں اعلان شدہ ان مراکز کے قیام کیلئے عملی سطح پر اقدامات کئے جائیں۔ امید کی جانی چاہئے گورنر انتظامیہ اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اور ان مراکز کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔