جاری وبائی بیماری کے اوقات میں اموات کی روک تھام کے لئے ایک حل، جو سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا، وہ ہے انتہائی طبی نگہداشت یا Critical Care کی فراہمی۔ در حقیقت ، امپیریل کالج کے سائنس دانوں کے ذریعہ کی جانے والی ابتدائی ماڈلنگ مشقوں کا مقصد بڑے پیمانے پر ان لوگوں کی تعداد کی پیش گوئی کرنا تھا جنہیں مہاماری کے عروج پر انتہائی طبی نگہداشت کی ضرورت ہو گی اور اس نظام کو کیسے طول دیا جاسکتا ہے تاکہ نظام کو اس بھاری بوجھ تلے دبنے سے بچایا جاسکے۔
چونکہ مکنیکل وینٹی لیشن کی دستیابی انتہائی طبی نگہداشت کا ایک اہم جزہے ، اسی لئے جب سے ہونے والی بحث وینٹی لیٹروں کی دستیابی کے گرد گھوم رہی ہے۔ نہ صرف عوامی گفتگو میں ، بلکہ بھارت میں بھی پالیسی ردعمل تک یہی رہا کہ کس طرح کووڈ اموات کو روکنے کیلئے زیادہ سے زیادہ وینٹی لیٹر خریدے جاسکیں۔ مثال کے طور پروزیراعظم کیئر فنڈ سے سب سے زیادہ صرفہ وینٹی لیٹروں کی خریداری کی طرف رہا ہے۔ تاہم ، وینٹی لیٹر وں کے ذریعے دیکھ بھال اپنے ابتدائی وعدے کے مطابق بھی نہیں رہی ہے۔ نیو یارک سٹی میں ، وینٹی لیٹروں پر رکھے گئے 10 میں سے 9 افراد فوت ہوگئے۔ اس کے بعد سے یہاں پر نظرثانی شدہ تکنیکی رہنما خطوط اور کلینیکل پریکٹس عملائی گئی ہیں جو وینٹی لیٹروں کے ابتدائی استعمال پربہت زیادہ محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔انتہائی طبی نگہداشت کی خدمات کا مطلب کلینیکل خدمات ہیں جو فوری طور پر زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی صحت کی حالت کا سامنا کرنے والے مریضوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ خاص طور پر جس میں نظام کے اہم اعضاء کی ناکامی کا خطرہ ہوتا ہے۔
انتہائی طبی نگہداشت بحیثیت نظام
انتہائی طبی نگہداشت مریضوں کی زمرہ بندی،ایمرجنسی کیئر روم ، انتہائی نگہداشت یونٹ میںمنتقلی اور پھر مریض کی داخلہ یونٹ میں منتقلی اور بالآخررخصتی کے بعدنگہداشت کا ایک طویل طبی تسلسل ہے۔ ایک خطے کے اند ایک بنیادی نگہداشت کی سہولت پرزمرہ بندی ،منتقلی کے دوران نگہداشت اور ریفرل ہسپتال میں وصولی کا تسلسل ہے۔ایسانظم جان بچانے کے لئے ناگزیر ہے۔ مثال کے طور پرمنتقلی سے پہلے نامناسب زمرہ بندی یا ہنگامی دیکھ بھال کی فراہمی میں تاخیر سے انتہائی جدید ترین نگہداشت کے یونٹ ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے انتہائی طبی نگہداشت ایک نظام ہے ،ایک علیحدہ یونٹ نہیں۔ہندوستان میں انتہائی نگہداشت کا نظام بطور منظم نظام موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ سبھی سرکاری اور نجی طبی نگہداشت کے نظام اور طبی نگہداشت کی سطحیں، جو ایک دوسرے سے بات نہیں کرتی ہیں، کا منقسم ہونا ہے۔
ایک انتہائی طبی نگہداشت والے یونٹ کے اندر تنظیم کا ڈھانچہ نامناسب ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں وینٹی لیٹروں کے فیصلے نرسوں کے ذریعے وضع شدہ پروٹوکول کے مطابق لئے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں ، اس طرح کے تمام فیصلے ڈاکٹروں کے ذریعہ لئے جاتے ہیں ، جو عام طور پر اینستھیسیولوجسٹ یا کریٹیکل کیئر کے ماہر ہوتے ہیں ، جو بہر کیف تعداد میں کم ہی ہوتے ہیں۔ نیم طبی عملہ کے کچھ دوسرے گروپ ، جو دیکھ بھال کے معیار کے لئے انتہائی اہم ہیں ، جیسے فزیوتھیراپسٹ اور کلینیکل فارماسولوجسٹ اکثر ہندوستانی آئی سی یوز میں دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔
سامان کی کمی اور زیادہ قیمت
ہندوستان میں بہت سے انتہائی طبی نگہداشت والے یونٹوں یاICU'sمیں بنیادی سامان کی کمی ہے۔ مثال کے طور پرمدھیہ پردیش میں 10فیصد آئی سی یوز میں بنیادی نوعیت کے بلڈ گیس انالائزرس تک دستیاب نہیں ہیں۔ یقینا زیادہ ترسامان مہنگا ہے جو طبی دیکھ بھال کے اخراجات بھی بڑھاتا ہے۔ ہندوستان میں آئی سی یو کیئر مہنگا ہے ، جس کا اکثر شمالی امریکہ میں لاگت سے موازنہ ہوتا ہے۔ پنجاب میں آئی سی یو میں جگر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر دن کے لئے نظام پر آئی سی یو کی دیکھ بھال کی اوسط لاگت تقریباً2400امریکی ڈالر اور مریض کی2ہزار امریکی ڈالر تھی ۔ تقریباً نصف لاگت اینٹی بائیوٹکس کے لئے ہے ، جو آئی سی یو منتقل شدہ انفیکشن اور ضد مائیکروبیل مزاحمت پیدا کرنے کے معاملات پر سوالیہ اٹھاتے ہیں۔
ہندوستان میںانتہائی نگہداشت کے یونٹ انتہائی غیر یکساںہیں۔ ایمزبھوپال کے ساتھیوں نے مدھیہ پردیش میں آئی سی یوز کی حیثیت کا جائزہ لینے کے لئے ایک تحقیق کی۔ بیشتر آئی سی یو چار شہروں میں واقع تھے ، اور 49 میں سے 30 اضلاع میںکہیں بھی کریٹیکل کیئر کا کوئی ضروری بستر دستیاب نہیں تھا۔ ریاست کے 75 فیصد آئی سی یو نجی نفع بخش شعبے میں ہیں ، اور 20 فیصد سے بھی کم شرکاری شعبے میں تھے۔
انتہائی نگہداشت مہنگی ،ہسپتال سے حاصل ہونے والے انفیکشن اور داخلے کے خطرات سے بھر پور ہے۔انتہائی نگہداشت یونٹوں کو ان مریضوں کے لئے بہتر سے محفوظ کیا جاناہے جو اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاپائیں گے۔ ہندوستان میں ، نگہداشت کے اہم یونٹوں میں داخلے کے لئے کوئی واضح معیار نہیں ہے۔ بہت سے مریضوں کو صرف ایسے مریضوں کی نگرانی کے لئے داخل کیا جاتا ہے ، جو بیکار ہے۔دوسری طرف ، اہم نگہداشت کے یونٹوں میں داخلہ اکثر زندگی کی آخری نگہداشت فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ، جو نہ صرف ضائع ہوتا ہے ، بلکہ مریضوں اور اہل خانہ کے لئے آخری دن یا ہفتوں میں تکلیف دہ اور غیر تسلی بخش حصہ ڈال سکتا ہے۔ اس طرح کی دیکھ بھال گھروں یاہسپتالوں میں بہترین مہیا کی جاتی ہے۔
مناسب ٹکنالوجی
لاگت کو کم کرنے اور موثر پذیری کیلئے مناسب ٹکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔ مثال کے طور پر کووڈ کی صورت میں ، تیز بہاؤوالے نیزل آکسیجن کا استعمال مکینیکل وینٹی لیشن سے کہیں زیادہ مؤثر ہے اگر جلدی شروع ہو۔مثال کے طور پر بنیادی نگہداشت کی ترتیب میں نبض آکسی میٹر کی طرح کی سادہ ٹکنالوجی کی دستیابی سے شدید نمونیہ کے شکار بچے میں نظام تنفس کی ناکامی کی جلد شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر وہاں آکسیجن کنسنٹریٹر دستیاب ہو تو اینٹی بائیوٹک کے ساتھ تیز بہاؤ والاآکسیجن مہیا کرنا بچے کو استحکام بخشے گا اور جان بچائے گا۔ اسی طرح بنیادی دیکھ بھال کی سطح پرسخت صدمہ کیلئے شدید نگہداشت کی فراہمی بشمول ٹرانزیمک ایسڈ کا استعمال جان بچانے کیلئے ضروری ہے۔ دور دراز اور دیہی جنوبی راجستھان میں ہماری اپنی بنیادی دیکھ بھال کی ترتیبات میں ہم پلس آکسی میٹر ، آکسیجن اور معیاری پروٹوکول کی دستیابی کے امتزاج کی وجہ سے شدید نمونیا کے شکار سیکڑوں بچوں کو بچایا ہے ۔
لہٰذا زندگی جانے کے خطرہ سے دوچار بہت سے لوگوں کو آسان پروٹوکول لگا کر ، مناسب ٹکنالوجی کا استعمال کرکے اور بنیادی نگہداشت کی سطح پر صلاحیتوں کو بڑھا کر بچایا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر انہیں پھر بھی منتقل کرنے کی ضرورت ہو، تووہ منتقل ہونے سے پہلے مستحکم ہوجائیں اور "بہتر حالت" میں ہسپتال پہنچ سکتے ہیں اور اس وجہ سے اس سے کہیں بہتر تشخیص ممکن ہے۔ تاہم یہ ہمیں اس تسلسل کے اگلے مرحلہ سے آشنا کردیتا ہے جس کاتعلق منتقلی کے دوران ٹرانسپورٹ اور نگہداشت ہے۔
فی الوقت ، قومی ایمبولینس خدمات کے تحت ، 108 بیسک لائف سپورٹ ایمبولینسوں نے ملک کے بڑے حصوں کا احاطہ کیا ہے جو قومی صحت مشن کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ نجی اسپتال اور دیگر نجی افراد اپنی آزاد ایمبولینسیں چلاتے ہیں۔ تاہم ملک کے یمین و یسارکا احاطہ کرنے کیلئے معقول تعداد میں ایمبولینسوں ، نگہداشت کے معیار اورہسپتالوں تک پہنچنے کیلئے رابطہ سڑکوں کی قلت کی وجہ سے ریفرل یا منتقلی کیلئے ٹرانسپورٹ سے یا تو انکار کیا جاتا ہے یا پھر اس میں تاخیر کی جاتی ہے یا منتقلی کے سفر کیلئے نگہداشت کا ناقص نظام فراہم کیاجاتا ہے۔ ایمبولینسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ، راہداری کے دوران دیکھ بھال کے معیار کو قائم کرنا ، اور ان میں اور اسپتالوں کے ساتھ ہم آہنگی سے شدید بیمار مریضوں کی دیکھ بھال میں بہتری آئے گی۔
ریفرل ہسپتالوں میں،خاص طور پر ایمرجنسی روم اور او پی ڈی میں ،زمرہ بندی عام طور پر موجود نہیں ہے ، یا اس کو مناسب ترجیح نہیں دی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے زندگی بچانے والا علاج شروع کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ ایمر جنسی رومز اور او پی ڈی میں مناسب ٹریجنگ کا قیام اور اہم نگہداشت کے یونٹوں تک منتقلی کیلئے داخلی ٹرانسپورٹ نظام ہسپتالوں تک پہنچنے کے بعد بھی اہم نگہداشت حاصل کرنے میں تاخیر کو روکنے میں معاون ثابت ہوگا۔زندگی کے آخری ایام میں بہتر نگہداشت کے اقدامات کے ساتھ کریٹیکل کیئر یونٹس کی قریبی شراکت لازمی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے زندگی کے آخری دن اور ہفتے زیادہ باوقار ، کم تکلیف دہ اور کم مہنگے ہوں۔
ایک بار جب مریض کو کسی آئی سی یو میں آرگن سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو امیروں کو چھوڑ کر بیشتر کے لئے اخراجات بہت زیادہ اور امتناعی ہوتے ہیں۔ معیارات اور داخلہ کے معیار کے نفاذ کے ساتھ ، نگہداشت سے انکار یا غربت کو روکنے کے لئے ایک عالمگیر انتہائی نگہداشت بیمہ ضروری ہے۔
جان لیوا بیماریوں سے دوچار لوگوں کی بہتر دیکھ بھال کوطبی نظام کے بنیادی مرکز پرہی شروع ہوتی ہے اور زیادہ تر معاملات میں انتہائی نگہداشت کے اہم یونٹوں سے آگے بھی جاری رہتی ہے۔ کریٹیکل کیئر یونٹوںکی تنظیم نو کے ساتھ ان "ٹچ پوائنٹس" پر عمل کرنے سے طبی نگہداشت کے عمل کو زیادہ انسانی ، کم مہنگا اور زیادہ مساوی بنایا جاسکے۔ زیادہ وینٹی لیٹر خریدنا کوئی حل نہیں ہے۔ کوڈد کے دور میں یا بے شک کسی بھی وقت۔
(ڈاکٹرپویترا موہن یونیسف انڈیا کے ساتھ رہ چکے سابق ماہرامراض اطفال ہیں۔ وہ غیر منافع بخش پرائمری ہیلتھ کیئر سروس ، بیسک ہیلتھ کیئر سروسز راجستھان کے شریک بانی اور مہاجر ورکروںکے لئے کام کرنے والی غیر منافع بخش ہیلتھ سروس ’اجیویکا بیورو‘کے ڈائریکٹر ہیں۔مضمون بلین پریس کے شکریہ کے ساتھ شائع کیاجاتا ہے )
ای میل: [email protected]