بلال فرقانی
سرینگر // انتہائی تباہ کن ژالہ باری نے وادی کشمیر کو بار بار اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس میں جنوبی اور شمالی کشمیر کو سب سے زیادہ زرعی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ اچانک، شدید طوفان،جو اکثر محض چند منٹوں تک جاری رہتے ہیں ،نے سیب کے باغات، مکئی کی فصلوں اور اخروٹ کے سینکڑوں ہیکٹر اراضی کو تباہ کر دیا ہے، جس سے اکثر کسانوں کو 80-90 فیصد تک فصلوں کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کروڑوں روپے کے مالیاتی اثرات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔حالیہ برسوں میں، تباہ کن ژالہ باری نے شوپیان، کولگام پلوامہ،ترال اور پانپورمیں سیب کے باغات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔شوپیان کے زینہ پورہ اورامام صاحب علاقے سب سے متاثر ہوئے جہاں سینکڑوں دیہات میں بار بار ژالہ باری ہوئی۔ سعد پورہ، کیلر، اور پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے کے علاوہ ترال کے اوپری علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ اسی طرح کا وسیع نقصان کولگام کے اہربل اور ٹنگمرگ علاقوں کو پہنچا، جس سے سیب کی تقریباً پکی فصلیں تباہ ہوگئیں اور درختوں کی شاخیں اولوں کے بوجھ تلے دب گئیں۔جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے بوگام علاقے میں جمعہ کی شام شدید ژالہ باری نے باغات اور باغبانی کی فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔کسانوں نے کھڑی فصل کے تقریباً 70 فیصد نقصان کا تخمینہ لگایا۔
متاثرہ کاشتکاروں نے بتایا کہ ژالہ باری مختصر مدت تک جاری رہی لیکن اس کی شدت اتنی تھی کہ باغات میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ شمالی کشمیر بارہمولہ اور کپواڑہ کے رفیع آباد، سوپور اور ہندوارہ میںراجواڑکے وسیع علاقوں میں تباہی ہوئی ہے۔ بارہمولہ کے پٹن بیلٹ میں ایک ہی دن 77دیہات میں سیب کے باغات تباہ ہوئے۔لولاب وادی میں، سڑکوں پر دو انچ تک گہرے اولے جمع ہوئے، جس سے گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑا اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔ وسطی کشمیر (گاندربل)کے کنگن اور ہاری گنہ ون جیسے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر، غیر موسمی ژالہ باری ہوئی جس نے مقامی پیداوار کو تباہ کر دیا ۔ کیونکہ باغبانی کے شعبے کے لیے فی الحال کوئی جامع فصل انشورنس میکانزم موجود نہیں ہے، ان بار بار آنے والی قدرتی آفات نے مقامی کسانوں کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔ بحران کے جواب میں، مختلف سیاسی نمائندوں اور کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین نے مسلسل انتظامیہ سے نقصانات کے تخمینے اور معاوضے کے پیکجز کی اپیل کی ہے۔محکمہ باغبانی کے حکام کا کہنا ہے کہ اپریل اورمئی کے مہینوں میں وادی کے مختلف علاقوں میں بار بار ژالہ باری ہوئی، جس سے میوہ باغات کو نقصان پہنچا۔انکا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹوں کی بنیاد پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عمومی طور پر ژالہ باری اس وقت ہوئی جب پھل دار درختوں پر پھول کھلے تھے اور مئی کے مہینے میں غنچے کھلنے کے موقعہ پر بھی تباہ کن ژالہ باری بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں30فیصد سے زیادہ نقصان ہوا جبکہ کئی علاقوں میں نقصان زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 45فیصد باغات کو نقصان پہنچا جس کیلئے معاوضہ فراہم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ تاہم محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ ژالہ باری مسلسل ہورہی ہے اس لئے مجموعی نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔