کہافرنٹ لائن چوکسی کو ٹیکنالوجی کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہئے
جموں//وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں وکشمیر دورے کے دوران جمعہ کی صبح ہیرا نگر سیکٹر میں گرنام اور بوبیا سرحدی چوکیوںکا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے’اجے پرہاری‘ یادگار پر شہداء کو پھولوں کا نذرانہ پیش کیا اور بوبیا بی او پی میں ایک پودا بھی لگایا۔شاہ نے فوجیوں کی فلاح و بہبود کیلئے تقریباً 7کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کیا، جن میں نئے سولر واٹر ہیٹرز، سولر پاور پلانٹس اور افسران کے میس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بی ایس ایف کے انفراسٹرکچر سے متعلق 242کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی وزارت داخلہ کے سیکریٹری، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر، بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔بی ایس ایف کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ جب بھی وہ کَچھ، راجستھان یا جموں و کشمیر کے دور دراز اور مشکل علاقوں میں واقع بی ایس ایف پوسٹس کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں تعینات جوانوں سے فرض شناسی اور غیر متزلزل عزم کی قدریں لے کر واپس آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دوروں کے دوران وہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح بی ایس ایف کے جوان سخت اور دشوار حالات میں بھی مکمل لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے بی ایس ایف کے اہلکاروں کو نظم و ضبط اور وابستگی کی بہترین مثال قرار دیا، جو دن رات سرحدوں کی حفاظت میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس ایف کی شاندار 60سالہ تاریخ نے ملک کے عوام میں بھی اسی نظم و ضبط کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ جب بھی ملک کی سرحدوں کو دراندازی کے خطرات لاحق ہوئے، بی ایس ایف ایک ناقابلِ تسخیر دیوار کی طرح ملک کے تحفظ کے لیے ڈٹی رہی۔ انہوں نے کہا کہ’آپریشن سندور’ کے دوران بی ایس ایف کی جانب سے دکھائی گئی جرأت و بہادری نے اس کی چھ دہائیوں پر محیط تاریخ میں ایک سنہرا باب جوڑ دیا ہے۔ انتہائی مشکل حالات میں بھی بی ایس ایف کے جوانوں نے’’ہم سرحد کے محافظ ہیں‘‘کے جذبے کو برقرار رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران بی ایس ایف کے جموں و کشمیر فرنٹیئر نے پاکستان کی 118پوسٹس اور تین ملی ٹینٹ لانچ پیڈز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس کارروائی میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے سب انسپکٹر محمد امتیاز احمد اور کانسٹیبل دیپک چنگاکھم کو ویر چکر سے نوازا گیا، جو ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔شاہ نے یہ بھی بتایا کہ اس دوران بی ایس ایف کو 16بہادری کے تمغے اور متعدد تعریفی اسناد بھی حاصل ہوئیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ اور چوکس رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60برسوں میں سرحدی چیلنجز کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اگرچہ جوانوں کی بہادری، چوکسی اور لگن آج بھی انتہائی اہم ہیں، لیکن اب کئی نئے چیلنجز ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے جدید تکنیکی حل اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی ایس ایف کے یومِ تاسیس کے موقع پر انہوں نے اعلان کیا تھا کہ بی ایس ایف کا 61واں سال جدید کاری اور بی ایس ایف کے اہلکاروں و ان کے اہلِ خانہ کی فلاح کے لیے وقف ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ میں ایک خصوصی ٹیم ان دونوں محاذوں پر مسلسل کام کر رہی ہے۔امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند سکیورٹی اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بی ایس ایف کے اہلکاروں کے لیے جلد ایک خصوصی فلاحی اسکیم متعارف کرائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت سرحدی سکیورٹی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرے گی۔ اس جدید کاری سے سرحدی انفراسٹرکچر بہتر ہوگا اور بی ایس ایف کے جوانوں کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے، جس سے وہ اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں انجام دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات سے جوانوں کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی اور ان کی عملی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ شاہ نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف کے جوانوں کی فرض شناسی، لگن اور وابستگی کی بدولت ہی پورا ملک اطمینان کی نیند سوتا ہے اور خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے جوانوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی تناول کیا۔