وزیرا علیٰ کی عوامی رابطہ مہم : سانبہ میں عوامی شکایتوں کے ازالے کا کیمپ منعقد

سانبہ//وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ضلع سانبہ کا دورہ کیا اور وہاں عوامی شکایتوں کے ازالے کے کیمپ کا انعقاد کیا۔ کیمپ کے دوران وزیرا علیٰ نے درجنوں وفود اور سینکڑوں لوگوں کے مسائل بغور سنے جن میں ترقیاتی ضروریات سرفہرست تھیں۔ صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا، وائس چیئرمین او بی سی بورڈ ریشپال ورما، ارکان قانون سازیہ دویند ر منیال اور کلدیپ راج اس موقعہ پر موجود تھے۔وفود نے عمومی طور پر لوگوں تک پہنچنے ، ان کی ترقیاتی ضرورتوں کو سمجھنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ لوگوں نے سانبہ اور وجے پور میں فلائی اوور کی تعمیر ، ضلع میں ایک زنانہ کالج کا قیام ،ایس سی / ایس ٹی لوگوں کی بہبودی کے لئے رقومات کی واگزاری ،صنعتوں کے قیام سے پیدا شدہ آلودگی کو روکنے ،سرحدی لوگوں کے لئے روزگار مہم شروع کرنے، ریلوے لائن پر اوور ہیڈ برج کی تعمیر اور ضلع ہسپتال کو مزید مستحکم بنانے کے مطالبات پیش کئے ۔بار ایسو سی ایشن کے ممبران کی ایک وفد نے وکلاء کے لئے مزید چیمبروں کی تعمیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کا قیام،مزید عدالتوں کو قائم کرنے جگہ اور بار لائبریری کو اَپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قصبے میں ایک آڈیٹوریم کی تعمیر اور لکھن پور ۔ وجے پور قومی شاہراہ پر فلائی اوور تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بار لائبریری کو اَپ گریڈکرنے کے لئے 10لاکھ روپے کی رقم واگزار کی ۔انہوں نے قصبے میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لئے امکانات تلاش کرنے کے بھی ہدایات دیں۔امر کھشٹریا راجپوت سبھا کے ایک وفد نے سانبہ قلعے کی مرمت کرنے ، مقامی ضلع ہسپتال کے استحکام اور نئے بس سٹینڈ کو چالو کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے سانبہ فورٹ میں ڈسٹرکٹ لائبریری کی اَپ گریڈیشن اور فورٹ میں دیگر تجدید و مرمت کے کام انجام دینے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزار ی کا اعلان کیا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفود نے وجے پور میںایمز پر جاری تعمیراتی کام میں سرعت لانے ، قصبے اور کنڈی بیلٹ میں پینے کے پانی کی فراہمی ،ریلوے لائن پر اوور برج تعمیر کرنے ،مرحلہ اول اور مرحلہ دوم کے تحت سڑکوں کی تعمیر،مقامی ہسپتال کو سہولیات میں اضافہ کرنے اور مقامی ہائیر سکینڈری سکول کے لئے جگہ میں وسعت دینے کا مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے مقامی ہائیر سکینڈری سکول کو اضافی اقامتی سہولیات کے لئے 50لاکھ روپے کی رقم واگزار کی۔انہوں نے ضلع میں ٹرانسفارمر بفر کے قیام کے لئے 25لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سانبہ کو ہدایت دی کہ وہ ریلوے لائن پر کراسنگس کی ایک فہرست پیش کریںجہاں جہاں اوور برجو ں کو تعمیر کرنے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے ضلع ہسپتال میں ایکسرے سہولیات میں بہتری لانے کے لئے 15لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔اوقاف اسلامیہ سانبہ کے ایک وفد نے آئی ٹی کالج کے لئے عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا جس کے لئے اسماعیل پور میں زمین کی نشاندگی کی گئی ہے ۔انہوں نے چھنی مناسہ میں 38کنال وقف اراضی پر ایک واٹر پارک تعمیر کرنے کی تجویز بھی رکھی۔انہوں نے رام گڈھ میں وقف اراضی پر بینکٹ ہال /شاپنگ کمپلیکس تعمیرکرنے کا بھی مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے اسماعیل پور میں آئی ٹی کالج کی تعمیر شروع کرنے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزاری کی ہدایت دی۔کسانوں کے ایک وفد نے 2014ء کے سیلاب کی وجہ سے سوئیل پولیوشن سے اراضی کو ہوئے نقصان اور فصل کے نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے فارمنگ کمیونٹی کے لئے انشورنس کور اور علاقے میں آرگینک فارمنگ کو متعارف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ رام گڈھ علاقے کے ایک وفد نے کسان کریڈٹ کارڈ سکیم کے تحت قرضہ جات کو معاف کرنے اور پکھڑی گائوں میں بجلی کی تقسیم کاری کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چک ناکہ سے پکھڑی تک سڑک تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے کیم اور دیگر ملحقہ دیہات کے بجلی کے تقسیمی نظام میں بہتری لانے کے لئے 40لاکھ روپے کی واگزاری کی ہدایت دی ۔انہوںنے پکھڑی علاقے میں بجلی کی تقسیم کاری کے نیٹ کو بحال کرنے کے لئے 25لاکھ روپے اور نڈ میں ایک ریسونگ سٹیشن کے قیام کے لئے 50لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔چھمب کے ایک وفد نے آرمی کے قبضے میں اراضی کے کرایہ کی ادائیگی اور معاوضے میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کے باشندگان کے لئے ایک خصوصی بھرتی مہم چلانے کے علاوہ سرحد ی علاقے کے لوگوں کو دیگر سہولیت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اتر بانی ، پرمنڈل ،چملیال ، بیملا ، کھارہ ،کٹیاں ، گگوال ، مانسر و دیگر علاقوں کے وفود بھی وزیراعلیٰ سے ملے اور اپنے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ کو عوام تک پہنچنے اور ان کے مطالبات بغور سننے کی سراہنا کی۔وزیر اعلیٰ نے دن بھر تمام وفود کے مطالبات بغور سنے اور یہ سلسلہ شام تک جاری رہا۔ کئی معاملات میں وزیر اعلیٰ نے موقعہ پر ہی مسائل کے حل نکالنے کی ہدایت دی جس کی وفود نے بہت ستائش کی ہے ۔وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، ڈویژنل کمشنر جموںڈاکٹر ایم کے بھنڈاری ، آئی جی پی جموں زون ڈاکٹر ایس ڈی ایس جموال ،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ اور پلاننگ محکمہ کے سینئر افسران ، کئی محکموںکے سربراہان ، انجینئرنگ ونگوں کے چیف ، ڈی آئی جی ، ایس کے آررفیق الحسن ،ڈپٹی کمشنر سانبہ شیتل نندا، ایس ایس پی اور ضلع انتظامیہ کے افسران اس موقعہ پرموجود تھے۔جموں صوبہ میں وزیر اعلیٰ کا یہ دوسرا عوام تک پہنچنے کا پروگرام تھا ۔ اس سے قبل انہوں نے رام بن میں ایسے ہی ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ عوامی حلقوں میں ان پروگراموں کی کافی سراہنا کی جارہی ہے  جن میں لوگوں کے مسائل عمومی طور پر موقعہ پر ہی حل کئے جاتے ہیں۔ابھی تک محبوبہ مفتی نے ایسے پروگرام پلوامہ ، کپواڑہ ، بڈگام اور بارہمولہ میںمنعقد کئے  جن میں سینکڑوں لوگوں نے اپنے مطالبات کی فہرست وزیر اعلیٰ کو پیش کیںاور ان کا ازالہ بھی کیا گیا ۔