واڑون میں طبی سہولیات کا فقدان ، حاملہ خاتون کو 50 سے زائد کلومیڑ پیدل چارپائی پر اٹھاکر ہسپتال منتقل کیا گیا | مقامی لوگوں میں سخت ناراضگی، عوام کونبیادی سہولیات فراہم نہ کرنے پر انتظامیہ و نمائندگان پر اٹھائے سوال

کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کا دورافتادہ علاقہ واڑون گزشتہ کئی ماہ سے سڑک رابطہ نہ ہونے کے سبب جموں کشمیر کے دیگر مقامات سے کٹا ہوا ہے جسکے سبب علاقہ میں بنیادی سہولیات کافقدان ہے اور عوام کو سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ علاقہ میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جسکے سبب مریضوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ 20000 سے زائد ابادی والے علاقے کیلئے صرف1 ڈاکٹر تعینات ہے جبکہ کوئی بھی لیڈی ڈاکٹر علاقہ میں نھیں ہے جسکی وجہ سے خاتون مریضوں کو معمولی علاج کیلئے پیدل سفر کرکے دیگر ہسپتالوں تک پہنچنا پڑتا ہے۔ گزشتہ روز بسمینا کی حاملہ خاتون کو درد کی شکائت ہوئی جسکے بعد اسے مقامی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا لیکن علاقہ میں ڈاکٹروں و ادویات نہ ہونے کے سبب اسے دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔اگرچہ مقامی لوگوں نے حکام سے حاملہ خاتون کو بذریعہ جہاز منتقل کرنے کی گزارش کی تاہم ایسا ممکن نہ ہوا جسکے بعد حاملہ خاتون کی حالت بگڑتے دیکھ مقامی لوگوں نے حاملہ خاتون کو چار پائی پر اٹھا کر مرگن کے راستے 50 سے زائد کلومیڑ کاندھوں پر اٹھاکر لایااور اسے اننت ناگ ہسپتال منتقل کیا جہاں اسکا علاج جاری ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگر وہ ہوائی جہاز کا انتظار کرتے تو کئی روز لگ جاتے۔ انھوں نے خاتون کو چارپائی پر اٹھاکر رات کے 2بجے برف سے ڈھکے مرگن کے راستے پیدل سفر شروع کیااور وہ دیر شام کو گاڑی کی جگہ پہنچ پائے۔انھوں نے کہا کہ علاقہ کو جوڑنے والا واحد سڑک رابطہ گزشتہ کئی ماہ سے بند پڑا ہوا ہے، اگرچہ اس پر برف ہٹانے کا کام جاری ہے لیکن ابھی اس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ علاقہ میں طبی سہولیات نہ کے برابر ہیں جبکہ انتظامیہ و چنے ہوئے نمایندے صرف بیان بازی کیلئے ہیں جبکہ علاقہ کی عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے اور سبھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔انھوں نے انتظامیہ سے مانگ کی کہ علاقہ میں طبی سہولیات  فراہم کیا جائیں ۔واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کا واقعہ رونما ہوا تھا جب حاملہ خاتون کو 4روز کے بعد ہوائی جہاز کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا ۔اگرچہ اسے بچایا گیا تاہم بچے کی موت ضلع ہسپتال میں ہوئی تھی۔